• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

زندگی میں اولاد کو سونا دینا

استفتاء

کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیان شرح متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک آدمی کے چھ بیٹے ہیں ان میں سے پہلے تین کی انہوں نے شادی کروائی، پہلے دو بیٹوں کو چار چار تولے سونا بنوا کر دیا اور تیسرے بیٹے کو دو تولے سونا بنوا کر دیا لیکن جس وقت اس کو دو تولے سونا بنوایا اس وقت دو تولے سونے کی قیمت سابقہ چار تولے سونے کی برابر تھی اب سوال یہ ہے کہ والد کا بیٹوں کے درمیان تولوں کے حساب سے برابری  کرنا ضروری ہے یا قیمت کے اعتبار سے سب کے درمیان برابری ہو جائے تو وہ کافی ہے؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

والد اپنی زندگی میں بچوں کو جو کچھ دیتا ہے وہ ہدیہ ہوتا ہے اور ہدیہ کرنے میں والد کو تمام اولاد کے درمیان برابری کرنا افضل ہے۔ تاہم اگر کسی کے ساتھ نا انصافی کرنے کی نیت نہ ہو پھر ضرورت کی وجہ سے کسی اولاد کو کم و بیش کردیا جائے تو ایسا کرنا شرعاً منع نہیں ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved