• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

عدت کے دوران طلاق کی نیت سے کنائی الفاظ سے طلاق دینے کا حکم

استفتاء

زید   نے چار سال پہلے نکاح  فاطمہ نامی عورت سے چار گواہوں کی موجودگی میں زبانی  کیا تھا یعنی ان کے  پاس نکاح نامہ نہیں ہے۔بیوی کی نافرمانی کی وجہ سے  شوہر نے تین سال پہلے ایک طلاق دی تھی اس کے بعد  شوہر نے رجوع کر لیا تھا پھر چار ماہ پہلے بیوی کی نافرمانی کی وجہ سے شوہر  نے دوسری طلاق دی تھی لیکن پھر بھی بیوی فرمانبردار نہ رہی تو  شوہر نے اس کے ابو سے بات کی ۔وہ کہتے کہ سامان اٹھواؤ اور فارغ کر دو ہم کچھ نہیں کر سکتے ۔ان کو  شوہر نے بہت بار فون کیا کہ اس کو سمجھاؤ وہ نہیں آئے وہ صرف ایک ہی بات کہہ رہے تھے کہ سامان اٹھواؤ اور فارغ کر دو تو شوہر  نے بیوی سے غصے میں کہا کہ “تم میری طرف سے فارغ ہو اور سامان اٹھاؤ  گھر جاؤ” اب بیوی کہتی ہے میں تمہارے بغیر نہیں رہ سکتی۔مہربانی فرما کر کوئی حل بتا دیں۔

شوہر کا بیان:

چار سال پہلے میں نے اپنی بیوی کو طلاق اول دی تھی اس کے بعد رجوع کر لیا تھا اب تقریبا پانچ ماہ پہلے طلاق دوم دی تھی رجوع نہیں کیا تھا پھر آٹھ دن بعد اس کو کہا تھاتم میری طرف سے فارغ ہو اوراس کو نکال دیا تھا۔

بیوی کا بیان:

چار سال پہلے میرے شوہر نے مجھے طلاق اول دی اس کے ایک ماہ بعد رجوع ہو گیا اب پانچ ماہ پہلے طلاق دوم دی۔ اب 5 ماہ سے میں اپنے گھرمیں ہوں۔

وضاحت مطلوب ہے:1۔پہلی دو طلاقیں کن الفاظ سے دی تھیں؟2۔تیسری دفعہ آپ کی طلاق دینے کی نیت تھی یا نہیں؟

جواب وضاحت:1۔پہلی بار طلاق کا لفظ بولا تھا اور دوسری بار بھی طلاق کا لفظ بولا تھا۔2۔تیسری بار لفظ”فارغ”کہا تھا اور نیت طلاق کی تھی۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں تین طلاقیں واقع ہو چکی ہیں جن کی وجہ سے بیوی شوہر پر حرام ہو گئی ہے۔لہذا اب نہ صلح ہو سکتی ہے اور نہ رجوع کی گنجائش ہے۔

توجیہ: مذکورہ صورت میں شوہر نے چار سال پہلے ایک طلاق دی اور پھر رجوع کر لیا تو شوہر کے پاس دو طلاقوں کا حق باقی تھا پھر چار ماہ پہلے شوہر نے دوسری طلاق دی تو دوسری طلاق واقع ہوگئی  اور 8 دن بعد یعنی عدت کے دوران ہی بیوی کو طلاق دینے کی نیت سے”تم میری طرف سے فارغ ہو” کہا جس سے تیسری طلاق واقع ہو گئی۔

بدائع الصنائع (3/295) میں ہے:

وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك، وزوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر؛ لقوله  عز وجل  {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره} [البقرة: ٢٣٠] ، وسواء طلقها ثلاثا متفرقا أو جملة واحدة.

امداد المفتین (ص521) میں ہے:

’’سوال: زید نے اپنی بیوی کو مندرجہ ذیل تحریر بذریعہ رجسٹری ڈاک بھیج دی ’’میں نے اور میرے والدین نے تمہیں گھر آباد کرنے کی جدوجہد کی، لیکن سب کوششیں بے سود ثابت ہوئیں،اس واسطے تنگ آکر تم کو بحکم شریعت طلاق دے دی ہے، اور میرا تم سے کوئی تعلق نہیں رہا ہے، تم اس خط کو سن کر اپنے آپ کو مجھ سے علیحدہ سمجھنا، میں یہ طلاقنامہ تم کو تمہارے والد کی وساطت سے بھیجتا ہوں‘‘ اس سے طلاق ہوگئی ہے یا نہیں؟

الجواب:صورت مذکور میں شوہر کے پہلے الفاظ طلاق صریح کے ہیں، اور دوسرے کنایہ کے، صورت مذکورہ میں کنایہ کے دو لفظ استعمال کئے گئے ہیں، اول ’’میرا تم سے کچھ تعلق نہیں‘‘ دوسرے ’’تم اس خط کو سن کر اپنے کو مجھ سے علیحدہ سمجھنا‘‘ یہ دونوں لفظ کنایات بوائن میں سے ہیں……………الفاظ کنایہ میں اس جگہ باعتبارمراد و نیت متکلم کے عقلا تین احتمال ہیں، تینوں احتمالوں پر حکم شرعی جداگانہ ہے، اول یہ کہ الفاظ کنایہ سے اس نے پہلی طلاق ہی مراد لی ہو، یعنی اس طلاقِ اول کی توضیح و تفسیر اور بیان حکم اس سے مقصود ہو، دوسرے یہ کہ ان الفاظ سے مستقل طلاق کی نیت ہو، تیسرے یہ کہ ان الفاظ سے کچھ کسی چیز کی نیت نہ ہو۔ پہلی صورت میں ان الفاظ سے ایک طلاق بائنہ واقع ہوگی۔

لما فى الخلاصة وفى الفتاوى لو قال لامرأته أنت طالق ثم قال للناس زن من بر من حرام است و عنى به الأول أو لا نية له فقد جعل الرجعي بائنا وإن عنى به الابتداء فهي طالق آخر بائن. (خلاصة الفتاوی صفحه 82 جلد 2) و فى الكنز أنت طالق بائن إلى قوله فهي واحدة بائنة و فى فتح القدير قيد بكون البائن صفة بلا عطف لأنه لو قال أنت طالق و بائن أو قال أنت طالق ثم بائن وقال لم أنو بقولى بائن شيئا فهى رجعية و لو ذكر بحرف الفاء و الباقى بحاله فهى بائنة كذا فى الذخيرة ( بحر جلد3، صفحه: 410)

عبارات مذکورہ سے معلوم ہوا کہ جب عبارت میں کوئی قرینہ ایسا موجود ہو جس سے یہ معلوم ہو کہ یہ الفاظ کنایہ طلاق سابق کا بیان یا تفسیر و تفریع ہیں تو ایک طلاق بائنہ بلا احتیاج الی النیۃ واقع ہو جائے گی جیسا کہ بائن کے حکم سے ظاہر ہوا بحوالہ فتح القدیر، اور اسی طرح جب کہ متکلم ان لفظوں سے طلاق اول کے بیان کی نیت کرے طلاق بائن واقع ہو جائے گی، اگرچہ لفظوں میں کوئی حرف تفریع وغیرہ موجود نہ ہو كما ظهر من عبارة الخلاصة و قال فى البحر كل كناية قرنت بطالق يجرى فيها ذلك (بحر صفحہ 310 جلد 3) اور دوسری صورت میں دو طلاقیں بائنہ واقع ہو جائیں گی جیسا کہ خلاصۃ الفتاوی کی عبارت مذکورہ سے معلوم ہوا اور اس کی توضیح در مختار میں اس طرح ہے۔ولو نوى بطالق واحدة و بنحو بائن اخرى فيقع ثنتان بائنتان(شامی صفحہ287 ج2)…….خلاصہ یہ کہ نیت متکلم کے اعتبار سے صورت اولی میں ایک طلاق بائنہ اور صورت ثانیہ میں دو بائنہ متعین ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved