• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

شریک کو کرایہ پر زمین دینا

استفتاء

میں نے زمین کرایہ پر لی ہے اور اس  میں میں نے کام کے لیے دوسرے  شخص کو شریک بنایا تو کیا اب میں اس شریک سے  زمین کا آدھا کرایہ لے سکتا ہوں؟

وضاحت مطلوب ہے: کام کیا کرنا ہے؟  شریک بنانے کا کیا مطلب ہے ؟

جواب وضاحت:  جی دراصل ہم  دونوں نے سرمایہ لگا کر فصل اگانی ہے اکیلا کام کرنے میں دقت ہے اس لیے زمین کرایہ پر لینے کے بعد کسی شخص کو ساتھ لگالیا  ہے کہ وہ آدھا خرچہ اٹھائے تو اس صورت میں ابھی جس زمین میں آگے دونوں نے سرمایہ لگا کر کام کرنا ہے  اور اس کا کرایہ   پہلے ہی ادا کر دیا ہے تو اس کرائے کا آدھا  شریک سے لے سکتا ہوں یا نہیں ـ

وضاحت مطلوب ہے: دوسرا شخص محنت بھی کرے گا یا صرف خرچہ  دے گا؟

جواب وضاحت: محنت بھی کرے گاـ

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں آپ اپنے شریک سے آدھا کرایہ لے سکتے ہیں تاہم اس  کی صورت یہ  ہے کہ جو زمین آپ نے کرایہ پر لی ہے اس کا آدھا حصہ متعین کر کے (یعنی یہ والا آدھا حصہ) دوسرے شخص کو کرایہ پر دے دیں اور کرایہ طے کرلیں  پھر دونوں حصوں میں  یعنی جو آپ کے پاس باقی ہے اور جو آدھا آگے کرایہ پر دے دیا ہے مشترکہ سرمایہ سے مشترکہ بیج خرید کر  کاشت کرلیں ،اس طرح کرنے سے آپ کو کرایہ بھی مل جائے گا اور مشترکہ بیج   کی وجہ سے کل پیداوار بھی دونوں کی شمار ہوگی  کیونکہ پیداوار میں اصل  دارومدار بیج  پر  ہوتا ہے ۔

توجیہ :   مذکورہ صورت میں زمین کا آدھا حصہ متعین کر کے اجارہ پر دینے کی شرط اس لیے لگائی گئی ہے کہ اس شرط کے بغیر کرایہ پر لینے کی صورت میں مشاع زمین کا اجارہ بنے گا جو  امام صاحبؒ کے نزدیک جائز نہیں اور صاحبینؒ کے نزدیک اگرچہ جائز ہے لیکن صاحبینؒ کے نزدیک  یا تو کل زمین شریک کے حوالے کرنی پڑے گی یا مہایاۃ کی صورت اختیار کرنی پڑے گی یعنی ایک دن مثلاً ایک شریک اس زمین سے فائدہ اٹھائے اور ایک دن مثلاً دوسرا  شریک فائدہ اٹھائے اور یہ دونوں صورتیں مذکورہ صورت میں ممکن نہیں کیونکہ مذکورہ صورت میں دونوں شریک پوری زمین سے بیک وقت فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں اور دونوں شریکوں کے  بیک وقت فائدہ اٹھانے کی یہی صورت ہوسکتی ہے کہ مذکورہ زمین کا آدھا حصہ متعین کرکے دوسرے شریک کو کرایہ پر دے دیا جائے۔

بدائع الصنائع (4/ 187)میں ہے:

إجارة ‌المشاع من غير الشريك أنها غير جائزة عند أبي حنيفة وزفر، وقال أبو يوسف ومحمد والشافعي: إنها جائزة.

وجه قولهم إن الإجارة أحد نوعي البيع فيعتبر بالنوع الآخر وهو بيع العين وإنه جائز في المشاع، كذا هذا، فلو امتنع إنما يمتنع لتعذر استيفاء منفعة بسبب الشياع، والمشاع مقدور الانتفاع بالمهايأة ولهذا جاز بيعه

البحر الرائق(8/ 23)میں ہے:

«قال رحمه الله (وفسد ‌إجارة ‌المشاع إلا من الشريك) أطلق في قوله وفسد إلى آخره فشمل مشاعا يحتمل القسمة أو لا يحتملها وهو قول الإمام، وقالا يجوز بشرط بيان نصيبه وإن لم يبين لا يجوز في الصحيح لهما أن المشاع منفعة وتسليمه ممكن بالتخلية أو بالتهايؤ

شامی (6/ 279) میں ہے:

«(متى فسدت، فالخارج ‌لرب ‌البذر) ؛ لأنه نماء ملكه»

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved