- فتوی نمبر: 35-69
- تاریخ: 09 اپریل 2026
- عنوانات: عبادات > نماز > نماز پڑھنے کا طریقہ
استفتاء
اگر باجماعت نماز میں پہلی صف مکمل ہو جائے اور دوسری صف میں صرف ایک نمازی ہو اور ابھی امام نے تکبیر تحریمہ نہ کہی ہو تو کیا پہلی صف میں سے ایک نمازی کو پیچھے دوسری صف میں آنا پڑے گا؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں دوسری صف والا آدمی کسی اور مقتدی کی آمد کا انتظار کرے اور جب دوسرا مقتدی آجائے تو دونوں امام کے بالمقابل کھڑے ہوں اور اگر رکوع کا وقت قریب ہو گیا اور اگر کوئی مقتدی نہیں آیا تو اگلی صف سے مسئلہ جاننے والے کو کھینچے اور اپنے ساتھ کھڑا کرے اور اگر اگلی صف میں کوئی اس مسئلے کو جاننے والا نہ ہو تو پھر تنہا صف میں کھڑا ہو جائے۔
شامی (2/31) میں ہے:
ومتى استوى جانباه يقوم عن يمين الإمام إن أمكنه وإن وجد في الصف فرجة سدها وإلا انتظر حتى يجيء آخر فيقفان خلفه، وإن لم يجئ حتى ركع الإمام يختار أعلم الناس بهذه المسألة فيجذبه ويقفان خلفه، ولو لم يجد عالما يقف خلف الصف بحذاء الإمام للضرورة، ولو وقف منفردا بغير عذر تصح صلاته عندنا خلافا لأحمد
مسائل بہشتی زیور (1/193) میں ہے:
مسئلہ: تنہا ایک شخص کا صف کے پیچھے کھڑا ہونا مکروہ ہے بلکہ ایسی حالت میں چاہیے کہ اگلی صف سے کسی آدمی کو کھینچ کر اپنے ہمراہ کرے لیکن کھینچنے میں اگر احتمال ہو کہ وہ اپنی نماز خراب کرے گا یا برا مانے گا تو نہ کھینچے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved