• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

ذہنی مریض کی طلاق کا حکم

استفتاء

میرا نام *** ہے ۔ میں شادی شدہ ہوں اور مجھے طبی طور پر Bipolar Disorder تشخیص ہو چکا ہے۔ اس مرض کے بعض شدید ادوار (manic / depressive episode) میں میری عقل و فہم اور اپنے اقوال پر قابو متاثر ہو جاتا ہے۔ اس کی طبی تشخیص اور علاج موجود ہے۔ایسی ہی ایک شدید ذہنی کیفیت کے دوران، جب مجھے اپنے الفاظ کا پورا شعور نہیں تھا اور طلاق دینے کا پختہ ارادہ بھی موجود نہیں تھا، میری زبان سے طلاق کے الفاظ نکل گئے۔ بعد میں ہوش میں آنے پر شدید ندامت ہوئی۔

فقہِ حنفی کے مطابق، کیا اس حالت میں دی گئی طلاق شرعاً واقع ہوتی ہے یا نہیں؟ اگر واقع نہیں ہوتی تو کیا نکاح برقرار ہے اور آئندہ کے لیے کیا شرعی احتیاط لازم ہے؟

بیوی کا بیان:

میرے شوہر bipolar مریض ہیں۔ ان کا یہ مرض شادی سے پہلے کا ہے۔ اس مرض کے دوران ان کو وقتا فوقتا دورے پڑتے ہیں جس میں ان کے رویے میں شدت آجاتی ہے مثلا بہت زیادہ باتیں کرنا اور بہت زیادہ پیسے خرچ کرنا، شدید غصہ کرنا۔ اس دوران یہ اپنے آپ کو مریض نہیں سمجھتے لہذا دوائی بھی نہیں لیتے۔ اسی طرح کے ایک دورے میں ان کو ہم نے زنجیروں میں بند کیا ہوا تھا تو انہوں نے پولیس کو فون کر کے بلایا کہ میرے گھر والوں نے مجھے زنجیروں میں بند کیا ہوا ہے۔ جب پولیس آئی تو انہوں نے ان کو علاج کے لیے ہسپتال لے جانے کو کہا اس پر ان کو بہت غصہ آیا اور انہوں نے طلاق کے الفاظ بولے۔   اس دورے کے ختم ہونے کے بعد ان کو یہ واقعہ یاد تھا۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں طلاق واقع نہیں ہوئی۔

تو جیہ:دو قطبی عارضہ( bipolar disorder) کا مریض چونکہ شدید ادوار کا سامنا کرتا ہے جس میں اس کی عقل سالم نہیں رہتی اور ایسی حالت میں مریض کے افعال و اقوال کا شرعاً کوئی اعتبار نہیں  ہوتا۔ مذکورہ صورت میں شوہر نے جس وقت طلاق کے الفاظ کہے اس وقت اس بیماری کی وجہ سے دورے کی حالت میں تھا  لہذا اس حالت میں دی گئی طلاق واقع نہیں ہوگی۔

ردالمحتار (4/437)میں ہے:

 (قوله والمجنون) قال في التلويح: الجنون اختلال القوة المميزة بين الأمور الحسنة والقبيحة المدركة للعواقب، بأن لا تظهر آثاره وتتعطل أفعالها، إما لنقصان جبل عليه دماغه في أصل الخلقة، وإما لخروج مزاج الدماغ عن الاعتدال بسبب خلط أو آفة، وإما لاستيلاء الشيطان عليه وإلقاء الخيالات الفاسدة إليه بحيث يفرح ويفزع من غير ما يصلح سببا. اهـ. ‌وفي ‌البحر ‌عن ‌الخانية: رجل عرف أنه كان مجنونا فقالت له امرأته: طلقتني البارحة فقال: أصابني الجنون ولا يعرف ذلك إلا بقوله كان القول قوله. اهـ

ردالمحتار(4/439)میں ہے:

‌يقال ‌فيمن ‌اختل عقله لكبر أو لمرض أو لمصيبة فاجأته: فما دام في حال غلبة الخلل في الأقوال والأفعال لا تعتبر أقواله وإن كان يعلمها ويريدها لأن هذه المعرفة والإرادة غير معتبرة لعدم حصولها عن الإدراك الصحيح كما لا تعتبر من الصبي العاقل.

فتاوی دارالعلوم دیوبند(9/68)میں ہے:

مجنون  یعنی ایسا شخص جس کی دماغ میں خلقی طور پر کوئی نقصان ہو ، یا کسی آفت اور صدمہ کی وجہ سے ایک ایسا خلل واقع ہوگیا ہو کہ جس کی وجہ سے بھلے اور برے میں اس کو کوئی امتیاز باقی نہ رہے، نہ کسی کام میں اس کی نظر نفع نقصان پر ہو کہ وہ بحکم حدیث رفع القلم عن الثلاثۃ، اس حکم سے خارج ہے جیسا کہ درمختار کی اس عبارت سے ظاہر ہے، پس اس کی طلاق کا کوئی اعتبار نہیں ، اوراسی وجہ سے حالت جنون میں مجنون کی طلاق کے متعلق عدم وقوع کا حکم دیا گیا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved