• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

غصے میں “طلاق، طلاق، طلاق” کہنے کا حکم

استفتاء

کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ میری بیٹی کو میرے داماد نے جھگڑے کے دوران یہ الفاظ بولے  کہ “تم تین  لفظوں کی مار ہو” پھر کہا”طلاق ، طلاق ، طلاق ” یہ الفاظ پانچ/ چھ مرتبہ بولے ہیں پھر میں اپنی بیٹی کو لے گیا پھر میری بیٹی بیمار تھی تو ہم اس  کو ہسپتال لے کر گئے تو میرے داماد نے فون کر کے میری بیٹی سے بات کی اور  غصے میں پھر یہ لفظ بولا  کہ “***میں تمہیں طلاق دیتا ہوں”  تو میری بیٹی نے فوراً   کال  کاٹ دی  پھر یہ معلوم نہیں کہ وہاں انہوں نے کتنے الفاظ بولے ہیں تو اب میری بیٹی کا سسر اور میرا داماد کہہ رہا ہے کہ ہم نے دھمکی کے طور پر یہ الفاظ بولے ہیں، طلاق کے طور پر نہیں بولے تو اب شرعا کیا حکم ہے ؟

دارالافتاء سے فون  کے ذریعے بیوی سے رابطہ کیا گیا تو بیوی نے اپنے والد کے بیان کی تصدیق کی اور کہا کہ میں  حلف دینے کے لیے تیار ہوں اور مزید یہ کہ  پہلے واقعہ میں طلاق کا لفظ پانچ/  چھ مرتبہ سن کر میں بے ہوش ہو گئی ۔

دارالافتاء  سے فون  کے ذریعے شوہر سے رابطہ ہوا تو اس نے بیان دیا کہ پہلے  واقعہ میں میں نے یہ نہیں کہا تھا کہ تم تین لفظوں کی مار ہو البتہ  پانچ دفعہ طلاق کا لفظ بولا تھا لیکن صرف طلاق کا لفظ ہی بولا تھا اس کے علاوہ نہ بیوی کا نام لیا نہ طلاق کی نیت تھی صرف ڈرانے کے لیے کہا تھا۔ میرا اللہ گواہ ہے۔ دوسرے واقعہ میں میں نے ایک دفعہ طلاق دی تھی کہ” میں تمہیں طلاق دیتا ہوں”  اس کے بعد سسر آئے اور ایک اسٹام لکھا گیا جس پر میں نے دستخط کیے اور سسر سامان لے کر چلے گئے ۔

اسٹام کی عبارت درج ذیل ہے:

………………….. بالآخر اب من مقر نے اپنی منکوحہ شریک حیات مسماۃ ***دختر ***کو بوجہ نافرمانی طلاقنامہ دے کر حق زوجیت سے فارغ کردیا ہے آج کے بعد میرے نفس پر حرام ہے۔ میعاد عدت پوری ہونے پر مذکوریہ  متعلقہ یونین کونسل سے مؤثر سرٹیفکیٹ حاصل کرے ، بعد ازاں  وہ جہاں بھی چاہے اپنا عقد ثانی  کرے، من مقر کو کوئی عذر واعتراض نہ ہے ……….. الخ

فون پر بیان دینے کے بعد  شوہر نے اپنا ایک تحریری بیان بھی دارالافتاء میں جمع کروایا ہے جو  درج ذیل ہے:

میں *** ولد *** اللہ تعالی کو حاضر و ناظر جان کر یہ بیان دیتا ہوں کہ میں نے اپنی بیوی کو جھگڑے کے دوران یہ الفاظ بولے کہ طلاق سے میری زندگی بھی خراب ہوگی اور طلاق لینے سے تمہاری زندگی بھی خراب ہوگی اور طلاق لینے سے ہماری ہونے والی بیٹی کی بھی زندگی خراب ہوگی یہ الفاظ میں نے صرف اور صرف ڈرانے کے لیے کہے تھے میرا اللہ گواہ ہے کہ ان لوگوں کو غلط فہمی ہوئی ہے میں نے ہسپتال  میں اسے صرف ایک طلاق دی ہے اس کے بعد میں نے کوئی بھی طلاق کا لفظ استعمال نہیں کیا اور پھر میرے سسر صاحب آئے اور  اسٹامپ  لکھا گیا جس پر  میں نے دستخط کیے جبکہ میں دستخط کرنے پر بالکل بھی راضی نہیں تھا وہ اسٹامپ لے کر چلے گئے۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں بیوی کے حق میں تینوں طلاقیں واقع ہو چکی ہیں  جن کی وجہ سے بیوی شوہر پر حرام ہو چکی ہے لہذا اب بیوی کے لیے شوہر کے ساتھ رہنے کی گنجائش باقی نہیں رہی۔

توجیہ : شوہر کے فون پر بیان دینے کے بعد شوہر نے اپنا ایک تحریری بیان بھی جمع کروایا ہے شوہر کے دونوں بیانوں میں تضاد  ہے  یعنی فون پر دیے گئے بیان میں لفظ طلاق متعدد بار استعمال کرنے کا ذکر ہے جبکہ تحریری بیان میں اس کا ذکر نہیں نیز  بیوی متعدد بار لفظ طلاق استعمال کرنے پر حلف دینے کے لیے تیار ہے لہذا بیوی کے حق میں اس لفظ کے تین سے زیادہ مرتبہ استعمال کرنے کی وجہ سے تینوں طلاقیں واقع ہو چکی ہیں ۔

فتاویٰ شامی (4 /444 ) میں ہے:

ولا يلزم كون الإضافة صريحة في كلامه لما في البحر لو قال: طالق، فقيل له من عنيت؟ فقال امرأتي طلقت امرأته اه‍.۔۔۔۔۔ ويؤيده ما في البحر لو قال: امرأة طالق أو قال طلقت امرأة ثلاثا وقال لم أعن امرأتي يصدق اه‍. ويفهم منه أنه لو يقل ذلك تطلق امرأته، لان العادة أن من له امرأة إنما يحلف بطلاقها لا بطلاق غيرها، فقوله إني حلفت بالطلاق ينصرف إليها ما لم يرد غيرها لأنه يحتمله كلامه،۔۔۔۔وسيذكر قريبا أن من الألفاظ المستعملة: الطلاق يلزمني، والحرام يلزمني، وعلي الطلاق، وعلي الحرام، فيقع بلا نية للعرف الخ، فأوقعوا به الطلاق مع أنه ليس فيه إضافة الطلاق إليها صريحا، فهذا مؤيد لما في القنية، وظاهره أنه لا يصدق في أنه لم يرد امرأته للعرف

الدر مختار مع رد المحتار(4/509) میں ہے:

 [فروع] كرر لفظ الطلاق وقع الكل

قوله: (كرر لفظ الطلاق) بأن قال للمدخولة: أنت طالق أنت طالق أو قد طلقتك قد طلقتك أو أنت طالق قد طلقتك أو أنت طالق وأنت طالق

بدائع الصنائع (3/295) میں ہے:

وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك وزوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر لقوله عز وجل {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره}

امداد الفتاویٰ (2/427) میں ہے:

سوال:میں نے حالتِ غصہ میں یہ کلمے کہے ہیں، (طلاق دیتا ہوں، طلاق، طلاق) اور میں نے کوئی کلمہ فقرہ بالا سے زیادہ نہیں کہا، اور نہ میں نے اپنی منکوحہ کا نام لیا، اور نہ اس کی طرف اشارہ کیا، اور نہ وہ اس جگہ موجود تھی، اور نہ اس کی کوئی خطا ہے، یہ کلمہ صرف بوجہ تکرار (یعنی میری منکوحہ کی تائی)کے نکلے، جس وقت میرا غصہ فرو ہوا تو فوراًاپنی زوجہ کو لے آیا، ان دو اشخاص میں ایک میرے ماموں اور ایک غیر شخص ہے، اور مستوراتیں ہیں۔

جواب: چونکہ دل میں اپنی ہی منکوحہ کو طلاق دینے کا قصد تھا، لہذا تینوں طلاقیں واقع ہو گئیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved