- فتوی نمبر: 35-81
- تاریخ: 11 اپریل 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > طلاق کا بیان > زبردستی طلاق کہلوانا
استفتاء
جناب معاملہ یہ ہوا کہ والدین، بہن بھائیوں اور دیگر کا مجھ پر بے حد پریشر تھا اور زبردستی کر رہے تھے ہم میاں بیوی کا رشتہ خوش اسلوبی سے چل رہا تھا لیکن چند ناگزیر گھریلو ناچاقیوں کی وجہ سے اور آپس میں والدین کی لڑائی جھگڑوں کی وجہ سے مجھ سے طلاق نامہ پر زبردستی دستخط کروا دیے جبکہ میں تحریر سے بالکل بے خبر تھا بغیر پڑھے دستخط کر دیے اور والدین کے مسلسل دباؤ کی وجہ سے کہ مجھ سے نافرمانی نہ ہو اور مزید یہ کہ گھر کو چھوڑنے کی دھمکیوں نے مجھے بالآخر مجبور کر دیا اور دیکھے بغیر دستخط کروا دیے اس میں میری رضامندی شامل نہ تھی اور سٹام کا صرف ایک ہی صفحہ ہے لہذا اس صورت میں طلاق کا کیا حکم ہے؟
اسٹام پیپر کی عبارت:
دستاویز طلاق نامہ ثلاثہ
منکہ مسمی زید ولد بکر قوم شیخ سکنہ ***** کا ہوں جو کہ من مقر کا نکاح/شادی ہمراہ مسماۃ فاطمہ دختر عمر قوم شیخ سکنہ **** سے مورخہ 2018-04-20 کو بمطابق شریعت محمدی ورسومات برادری سرانجام پائی ، بعد از شادی مسماۃ مذکور یہ ہمراہ من مقر آباد ہو کر حقوق زوجیت ادا کرنے لگی تاہم فریقین کے ہاں کوئی اولاد پیدا نہ ہوئی فریقین کے درمیان گھریلو ناچاقی پیدا ہوگئی اور بات طلاق تک پہنچ گئی اور اب دونوں فریقین کی باہم رضامندی سے من مقر نے مسماۃ فاطمہ دختر عمر قوم شیخ سکنہ ***** کو اپنی آزاد دلی سے طلاق ثلاثہ یعنی طلاق، طلاق ،طلاق دیتا ہوں اور اپنی زوجیت سے آزاد کرتا ہوں۔ مسماۃ مذکورہ میرے نفس پر حرام ہے اور عدت گزرنے کے بعد مسماۃ مذکورہ جہاں چاہے جس سے چاہے عقد ثانی کر سکتی ہے مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے لہذا طلاق ثلاثہ بروئے گواہان لکھ دی گئی ہیں کہ سند رہے اور بوقت ضرورت کام آئے۔
وضاحت مطلوب ہے: والدین کے مسلسل دباؤ سے کیا مراد ہے؟ تفصیل سے واضح کریں۔
جواب وضاحت : والدین اور بھائیوں کی طرف سے لا تعلقی کا فیصلہ تھا کیونکہ وٹہ سٹہ تھا میری بیوی کے بھائی نے میری بہن کو طلاق دیدی تھی جس کی وجہ سے میرے گھر والے بھی کہتے تھے کہ تم بھی اپنی بیوی کو طلاق دے دو کیونکہ ہم دونوں اس بات پر راضی نہ تھےاور آگے بھی میری شادی کی کوئی ذمہ داری نہیں لے رہا تھا اور دوسرا یہ کہ میری بیوی کے والدین اس کو اپنےگھر لے گئے اور پیچھے سے میرے والدین نے مجھ سے زبردستی یہ فیصلہ لیا کیونکہ ہم دونوں میاں بیوی یہی کہتے رہے کہ ہم اس بات پر راضی نہیں ہیں بس یہی وجہ تھی ۔
وضاحت مطلوب ہے: مذکورہ صورت میں والدین اور بھائی سے ضروری معلومات درکار ہیں لہٰذا ان کا رابطہ نمبر ارسال کریں۔
جواب وضاحت: والدہ کا رابطہ نمبر: ****، بھائی کا رابطہ نمبر: ****
والدہ کا بیان:
ہماری بہو کا بھائی ہمارا داماد تھا جس نے ہماری بچی کو طلاق دیدی تھی تو ہم نے بھی اپنے بیٹے پر زبردستی کی اور اس کو مجبور کیا کہ تم بھی ان کی لڑکی کو طلاق دے دو اگر تم طلاق نہیں دو گے تو تمہیں گھر سے نکال دیں گے اور گھر میں نہیں رہنے دیں گے حالانکہ وہ دونوں آپس میں ٹھیک رہ رہے تھے اور ہمارا بیٹا طلاق دینے پر راضی نہیں تھا ۔
بھائی کا بیان :
مذکورہ صورتحال اسی طرح ہے جیسے والدہ نے بتائی ، مزید یہ کہ اب ہم نے اوپر ایک رہائش بنائی ہے اگر بھائی (ارشاد) بیوی کو لانا چاہتا ہے تو لے آئے اور وہاں رکھ لے، بھائی شروع دن سے طلاق دینے پر راضی نہیں تھا اور اب بھی راضی نہیں ہے۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں اگر واقعتاً آپ کے والدین اور بھائیوں نے آپ کو لاتعلقی اور گھر سے نکالنے کی دھمکی دی تھی اور آپ کے پاس الگ گھر کا انتظام کرنے کی گنجائش بھی نہیں تھی اور آپ کو غالب گمان تھا کہ طلاق نہ دینے کی صورت میں یہ لوگ ایسا کردیں گے تو طلاق نامہ پر دستخط کرنے سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی۔
توجیہ: مذکورہ صورت میں چونکہ والدین کی طرف سے لاتعلقی اور گھر سے نکالنے کی دھمکی تھی اور ان کی طرف سے لا تعلقی کی دھمکی کی وجہ سے رضا معدوم ہو جاتی ہے لہذا اکراہ ثابت ہوگیا اور مکرہ کی تحریری طلاق واقع نہیں ہوتی لہٰذا مذکورہ صورت میں کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی۔
شامی (4/443) میں ہے:
وكذا كل كتاب لم يكتبه بخطه ولم يمله بنفسه لا يقع الطلاق ما لم يقر أنه كتابه
درمختار مع ردالمحتار (427/4) میں ہے:
فلو أكره على أن يكتب طلاق امرأته فكتب لا تطلق لأن الكتابة أقيمت مقام العبارة باعتبار الحاجة ولا حاجة هنا، كذا في الخانية،
درمختار مع ردالمحتار (217/9) میں ہے:
الإكراه (هو لغة حمل الإنسان على) شيء يكرهه وشرعا (فعل يوجد من المكره فيحدث في المحل معنى يصير به مدفوعا إلى الفعل الذي طلب منه) وهو نوعان تام وهو الملجئ بتلف نفس أو عضو أو ضرب مبرح وإلا فناقص وهو غير الملجئ. (وشرطه) أربعة أمور: (قدرة المكره على إيقاع ما هدد به سلطانا أو لصا) أو نحوه (و) الثاني (خوف المكره) بالفتح (إيقاعه) أي إيقاع ما هدد به (في الحال) بغلبة ظنه ليصير ملجأ (و) الثالث: (كون الشيء المكره به متلفا نفسا أو عضوا أو موجبا غما يعدم الرضا) وهذا أدنى مراتبه وهو يختلف باختلاف الأشخاص فإن الأشراف يغمون بكلام خشن، والأراذل ربما لا يغمون إلا بالضرب المبرح ابن كمال (و) الرابع: (كون المكره ممتنعا عما أكره عليه قبله) إما (لحقه) كبيع ماله (أو لحق) شخص (آخر) كإتلاف مال الغير (أو لحق الشرع)
(قوله: في الحال) كذا في الشرنبلالية عن البرهان والظاهر أنه اتفاقي إذ لو توعده بمتلف بعد مدة، وغلب على ظنه إيقاعه به صار ملجئا تأمل. لكن سيذكر الشارح آخرا أنه إنما يسعه ما دام حاضرا عنده المكره وإلا لم يحل تأمل.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved