- فتوی نمبر: 35-90
- تاریخ: 13 اپریل 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > وراثت کا بیان > وراثت کے احکام
استفتاء
ایک شخص( زید ) اور اس کی زوجہ دونوں (مسلمان) کا انتقال ہو گیا ہے۔ زید کے ترکہ میں ایک مکان ہے جس کی زمین اور نچلی منزل مرحوم کی ملکیت تھی۔ مرحوم زید کے ساتھ نچلی منزل میں اس کے مرحوم بیٹے کی بیوہ و بچے رہائش پذیر تھے۔بکر کا انتقال زید کی زندگی میں ہوگیا تھا لیکن بیوہ اور بچے ابھی بھی رہائش پزید ہیں۔
اوپری منزل مرحوم کے بیٹے خالد نے اپنی ذاتی رقم سے مرحوم زید و زوجہ کی اجازت سے تعمیر کروائی تھی، اس وجہ سے مرحومین نے اپنی زندگی میں اپنے باقی بچوں سے پوچھ کر ان کی رضامندی سے اوپری منزل باقاعدہ قبضہ بمع دستاویز کے بیٹے کو ہبہ (گفٹ) کر دی تھی، جس میں اس وقت بیٹا خالد اپنی فیملی کے ساتھ رہائش پذیر ہے۔ اوپری منزل زمین مشترکہ ہونے کی وجہ سے الگ سے فروخت نہیں ہو سکتی۔مرحوم کے ورثاء میں ایک بیٹا (حیات)، ایک بیوہ بہو اور چار بیٹیاں ہیں۔
سوال یہ ہے کہ جب وراثت کی تقسیم کے لئے زمین اور نچلی منزل فروخت کی جائیں تو اوپر رہنے والے بیٹے (جس کو اوپری منزل ہبہ ہو چکی ہے) کی شرعی حیثیت کیا ہوگی؟ اور کیا اوپری منزل ہبہ ہونے کی وجہ سے زمین اور نچلی منزل میں خالد کے وراثتی حصے پر کوئی اثر پڑے گا؟ موجودہ ورثاء میں کل حصہ شرعی احکامات کی روشنی میں کس طرح تقسیم کیا جائے؟
جبکہ والد محترم زید (مرحوم) نے میری اور ورثاء کی موجودگی میں اپنی وصیت میں یہ بھی کہا تھا کہ بکر کی بیوہ اور اس کے بچوں کا اتنا ہی حق ہے جتنا میرے دوسرے بیٹے خالد کا ہے۔
وراثت: زید ، ورثاء میں بکر مرحوم (بیٹا) کی زوجہ فاطمہ (بہو) ، خالد (بیٹا)، زینب (بیٹی)، کلثوم (بیٹی)، عائشہ (بیٹی)، خدیجہ(بیٹی)
ہم وراثت کا یہ معاملہ شرعی احکامات کی روشنی میں حل کرنا چاہتے ہیں تاکہ روز آخرت اللہ، اس کے رسول اور اپنے مرحومین کے سامنے کسی طرح کی شرمندگی نہ ہو ۔
وصیت اقرار نامہ کی عبارت:
“میں زید مسلم، عاقل، بالغ، حامل شناختی کارڈ نمبر …………. ….. میں اپنے پورے ہوش وحواس کے ساتھ اور پوری رضامندی سے حلفیہ اقرار اور وصیت کرتا ہوں کہ میرا مکان نمبر A-104 بلاک 18 ***میں واقع ہے میرا بیٹا بکر شناختی کارڈ نمبر ………. کی بیوہ اور اس کے بچوں کا اتنا ہی حق ہے جتنا میرے دوسرے پیارے بیٹے خالد شناختی کارڈ نمبر ………….. کا ہے”
وضاحت مطلو ب ہے: کیا آپ کے والد کے والدین زندہ ہیں یا نہیں؟ اگر نہیں تو ان کا انتقال کب ہوا تھا؟
جواب وضاحت: والد کے والدین کا انتقال ان کے بچپن میں ہوگیا تھا۔ والد کے بہن بھائی بھی وفات پا چکے ہیں۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں وراثتی مکان بیچنے سے پہلے اس کی دو قیمتیں لگوائی جائیں۔ ایک قیمت اوپر والے حصے کے ساتھ اور دوسری قیمت اوپر والے حصے کے بغیر۔دونوں قیمتوں میں جتنی رقم کا فرق ہوگا وہ رقم موجود بھائی کی ہوگی اور گھر فروخت ہونے کے بعد پہلے وہ رقم بھائی کو ادا کی جائے گی۔ اس کے بعد جو رقم بچے گی وہ ورثاء میں تقسیم ہوگی جس کا طریقہ یہ ہوگا کہ وہ رقم اور والد مرحوم کے بقیہ مال کو ملا کر اس کے 8 حصے کیے جائیں اور ان میں سے دو حصے (25٪) والد کی وصیت کو پورا کرتے ہوئے والد کی زندگی میں فوت ہونے والے بیٹے کی بیوہ اور اس کے بچوں کو ملیں گے جو ان میں برابر تقسیم ہوں گے اور دو حصے (25٪) زندہ بیٹے کو ملیں گے اور ایک، ایک حصہ (12.5٪ فی کس) ہر بیٹی کو ملیں گے۔
رد المحتار (6/ 268) میں ہے:
«(بنى أحدهما) أي أحد الشريكين (بغير إذن الآخر) في عقار مشترك بينهما (فطلب شريكه رفع بنائه قسم) العقار (فإن وقع) البناء (في نصيب الباني فبها) ونعمت (وإلا هدم) البناء، وحكم الغرس كذلك بزازية»
(قوله بغير إذن الآخر) وكذا لو بإذنه لنفسه لأنه مستعير لحصة الآخر، وللمعير الرجوع متى شاء. أما لو بإذنه للشركة يرجع بحصته عليه بلا شبهة رملي على الأشباه (قوله وإلا هدم البناء) أو أرضاه بدفع قيمته ط عن الهندية
رد المحتار (6/ 30) میں ہے:
«(و) تصح إجارة أرض (للبناء والغرس) وسائر الانتفاعات كطبخ آجر وخزف ومقيلا ومراحا حتى تلزم الأجرة بالتسليم أمكن زراعتها أم لا بحر (فإن مضت المدة قلعهما وسلمها فارغة) لعدم نهايتهما (إلا أن يغرم له المؤجر قيمته) أي البناء والغرس (مقلوعا) بأن تقوم الأرض بهما وبدونهما فيضمن ما بينهما اختيار (ويتملكه) بالنصب عطفا على ” يغرم “؛ لأن فيه نظرا لهما»
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved