- فتوی نمبر: 35-94
- تاریخ: 13 اپریل 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > طلاق کا بیان > کنائی الفاظ سے طلاق کا حکم
استفتاء
میں نے بیوی کو لڑائی کی حالت میں یہ کہہ دیا ہے کہ ”تیرا میرا تعلق ختم ہے“ ۔ اور نیت طلاق کی نہیں تھی۔ اس کا کیا حکم ہے۔؟ اس کے بعد بھی میاں بیوی اکٹھے رہتے رہے اور ایک اور لڑائی کے دوران شوہر نے کہہ دیا کہ “تو میری ماں ہے” کیا اس سے بیوی حرام ہوگئی؟
نوٹ: بیوی سے رابطہ ہوا تو اس نے مذکورہ بیان کی تصدیق کی اور کہا کہ اس کے علاوہ کبھی طلاق کی بات نہیں ہوئی۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں شوہر نے دو جملے استعمال کیے ہیں پہلا جملہ “تیرا میرا تعلق ختم ہے ” اس جملے سے چونکہ شوہر کی طلاق کی نیت نہیں تھی لہذا اس سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی لیکن طلاق کی نیت نہ ہونے پر شوہر کو بیوی کے سامنے قسم دینی ہوگی اگر قسم دے دے تو کوئی طلاق واقع نہ ہوگی اور اگر قسم دینے سے انکار کرے تو بیوی اپنے حق میں بائنہ طلاق شمار کرے گی جس کے بعد اکٹھے رہنے کے لیے نیا نکاح کرنا ضروری ہوگا جس میں گواہ بھی ہوں گے اور مہر بھی دوبارہ مقرر ہوگا ۔دوسرا جملہ” تو میری ماں ہے ” لغو اور بےکار ہے لہذا اس سے میاں بیوی کا رشتہ حرام نہ ہوگا تاہم بیوی کے لیے ایسےالفاظ استعمال کرنا مکروہ ہے۔
توجیہ: مذکورہ صورت میں شوہر کے الفاظ کہ “تیرا میرا تعلق ختم ہے ” کنایات کی دوسری قسم میں سے ہیں جن سے طلاق کا وقوع حالت غضب میں شوہر کی نیت پر موقوف ہوتا ہے لیکن نیت ایک امر باطنی ہے جس پر مطلع ہونا ممکن نہیں اس لیے اگر شوہر طلاق کی نیت نہ ہونے پر قسم دے دیتا ہے تو مذکورہ الفاظ سے کوئی طلاق واقع نہ ہوگی اور اگر قسم دینے سے انکار کرتا ہے تو بیوی اپنے حق میں ایک بائنہ طلاق شمار کرے گی۔
اور دوسرے جملے میں حرف تشبیہ نہ ہونے کی وجہ سے بیوی حرام نہیں ہوئی کیونکہ ایسے جملے سے طلاق یا ظہار کے لیے حرف تشبیہ (جیسی، کی طرح وغیرہ) کا ہونا ضروری ہے جو کہ اس جملے میں موجود نہیں۔
شامی (4/521) میں ہے:
(وفي الغضب) توقف (الأولان) إن نوى وقع وإلا لا
شامی (4/521) میں ہے:
والقول له بيمينه في عدم النية ويكفي تحليفها له في منزله، فإن أبى رفعته للحاكم فإن نكل فرق بينهما مجتبى
شامی (5/133) میں ہے:
ويكره قوله أنت أمي ويا ابنتي ويا أختي ونحوه
(قوله: ويكره إلخ) جزم بالكراهة تبعا للبحر والنهر والذي في الفتح: وفي أنت أمي لا يكون مظاهرا، وينبغي أن يكون مكروها، فقد صرحوا بأن قوله لزوجته يا أخية مكروه. وفيه حديث رواه أبو داود «أن رسول الله – صلى الله عليه وسلم – سمع رجلا يقول لامرأته يا أخية فكره ذلك ونهى عنه» ومعنى النهي قربه من لفظ التشبيه، ولولا هذا الحديث لأمكن أن يقال هو ظهار لأن التشبيه في أنت أمي أقوى منه مع ذكر الأداة، ولفظ ” يا أخية ” استعارة بلا شك، وهي مبنية على التشبيه، لكن الحديث أفاد كونه ليس ظهارا حيث لم يبين فيه حكما سوى الكراهة والنهي، فعلم أنه لا بد في كونه ظهارا من التصريح بأداة التشبيه شرعا، ومثله أن يقول لها يا بنتي، أو يا أختي ونحوه
ہدایہ (2/409) میں ہے:
وإذا كان الطلاق بائنا دون الثلاث فله أن يتزوجها في العدة وبعد انقضائها ” لأن حل المحلية باق لأن زواله معلق بالطلقة الثالثة فينعدم قبله
امداد المفتين(2/527)میں ہے :
زید کا قول ہم سے تم سے کوئی تعلق نہیں یہ کنایہ طلاق ہے ۔
صرح به في العالمگيرية والخلاصة حىث قال لم يبق بيني وبينك عمل او شيء وامثال ذلك
اور یہ کنایہ قسم ثانی میں داخل ہے جس کا حکم یہ ہے کہ نیت پر موقوف ہے اگر زید نے ان لفظوں سے طلاق کی نیت کی ہے جیسے کہ قرائن سے یہی معلوم ہوتا ہےتو ایک طلاق بائنہ ہوگئی ، اور اگر نیت نہیں کی تو طلاق واقع نہیں ہوئی. . . . الخ
مسائل بہشتی زیور(2/134) میں ہے :
اگر برابر کا لفظ نہیں کہا نہ” مثل “اور “طرح ” کا لفظ کہا بلکہ یوں کہا کہ “تو میری ماں ہے” یا یوں کہا کہ “تو میری بہن ہے ” تو اس سے کچھ نہیں ہوا عورت حرام نہیں ہوئی لیکن ایسا کہنا گناہ کی بات ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved