- فتوی نمبر: 34-367
- تاریخ: 13 اپریل 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > طلاق کا بیان > کنائی الفاظ سے طلاق کا حکم
استفتاء
ایک شخص نے لڑائی جھگڑا کرتے ہوئے اپنی بیوی سے کہا کہ” تو مجھ سے آزاد ہے ،ایک، دو ،تین ” پھر کچھ مدت کے بعد اسی شخص نے اپنی اسی بیوی سے کہا کہ “اگر تو دس بجے تک گھر نہ آئی تو تو مجھ پر اپنی بہن کی طرح ہے” اب اس کی بیوی دس بجے تک گھر نہ آئی تو اس کا کیا حکم ہے؟
تنقیح: سائل کوئی مولوی صاحب ہیں ان کا کہنا ہے کہ یہ عبارت بیوی نے خود لکھوائی ہے اور اس کا شوہر بہت غصے والا ہے اگر اس نے شو ہر کا نمبر دیا تو وہ بہت مارے گا اور تشدد کرے گا ۔ آپ اسی عبارت پر جواب دیدیں۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں اگر واقعتاً شوہر نے لڑائی جھگڑے کے دوران اپنی بیوی سے یہ کہا تھا کہ”تو مجھ سے آزاد ہے، ایک، دو، تین” تو اس سے بیوی کے حق میں تینوں طلاقیں واقع ہوچکی ہیں جن کی وجہ سے بیوی شوہر پر حرام ہوچکی ہے لہٰذا اب رجوع یا صلح کی گنجائش باقی نہیں رہی۔
توجیہ: مذکورہ صورت میں شوہر نے جو الفاظ استعمال کیے تھے ان میں سے یہ الفاظ کہ “تو مجھ سے آزاد ہے” ان سے بیوی کے حق میں ایک بائنہ طلاق واقع ہوئی کیونکہ یہ جملہ کنایات طلاق کی تیسری قسم میں سے ہے جس سے لڑائی جھگڑے میں بولنے کی صورت میں شوہر کی نیت نہ ہونے کے باوجود بیوی کے حق میں بائنہ طلاق واقع ہوجاتی ہے ۔ اس کے بعد شوہر کے یہ الفاظ کہ” ایک، دو ، تین” یہ اعداد ہیں جن کا معدود طلاق بھی ہوسکتا ہے اور غیر طلاق بھی لیکن جب یہ الفاظ مذاکرۂ طلاق یا غضب کی حالت میں کہے جائیں تو دلالتِ حال کی وجہ سے بیوی ان کا معدود طلاق شمار کرے گی۔ مذکورہ صورت میں چونکہ شوہر نے مذاکرۂ طلاق میں یہ الفاظ استعمال کیے ہیں لہٰذا ان الفاظ سے بیوی کے حق میں باقی دو طلاقیں بھی واقع ہوگئیں۔
خانیہ علی ہامش الہندیہ (1/357) میں ہے:
”رجل قال لامرأته: ترا سه ذكر في النوازل أنها لا تطلق وقال الصدر الشهيد رحمه الله تعالى عندي أنها تطلق. قال لامرأته أنت واحدة ونوى به الطلاق يقع واحدة أعرب الواحدة أو لم يعرب، ولو قال لامرأته: تو بسه في حال مذاكرة الطلاق أو الغضب طلقت ثلاثا“
وفي الخانية أيضا [ص464]: ”رجل قال لامرأته: ترا يكى أو قال: ترا سه، قال الصدر الشهيد رحمه الله تعالى طلقت ثلاثا. ولو قال: تو يكى أو قال: تو سه، قال أبو القاسم رحمه الله تعالى لا يقع الطلاق. قال مولانا رضي الله تعالى عنه: وينبغي أن يكون الجواب على التفصيل ان كان ذلك في حال مذاكرة الطلاق أو في حالة الغضب يقع الطلاق وان لم يكن لا يقع إلا بالبينة [لعله بالنية] كما لو قال بالعربية: أنت واحدة.“
بزازیہ علی ہامش الہندیہ (4/197) میں ہے:
”(نوع آخر) قال لها: ترا يكى أو ترا سه أو ترا يكى وسه، قال الصفار: لا يقع شيئ، وقال الصدر: يقع بالنية، وبه يفتى. وقال القاضي: ان كان حال المذاكرة أو الغضب يقع وإلا لا يقع بلا نية كما في العربي: أنت واحدة.“
فتاویٰ تاتارخانیہ (4/418) میں ہے:
”وإذا قال لامرأته: تو يكي تو سه، أو قال: ترا يكي ترا سه، قال الشيخ الامام ابو القاسم الصفار البلخي رحمه الله: لا يقع، قال الصدر الشهيد: المختار عندي أنه إذا نوى يقع الطلاق، وفي الحجة: ترا سه، المختار أن تقع الثلاث إذا نوى. وفي الظهيرية: وقال غير أبي القاسم: ينبغي أن يكون الجواب على التفصيل: إن كان في حال مذاكرة الطلاق أو في حال الغضب يقع وإلا فلا يقع إلا بالنية“
امداد الاحکام (2/602) میں ہے:
”(سوال): ایک شخص نے حالت تنارع میں اپنی بیوی سے کہا کہ ’’میں تجھ کو کل کو طلاق تکیہ ملن کھڑے کرکے دونگا‘‘ اس نے جواب میں سب وشتم کرکے کہا کہ ’’تو ابھی طلاق دیدے‘‘ شوہر نے پھر جواب میں کہا کہ ’’ایک، دو، تین‘‘ اور بعد اس کے کہا کہ ’’جا، گھر چلی جا‘‘ اور بعد میں لوگوں نے شوہر کو ملامت وغیرہ کی کہ تم نے کیوں طلاق دی؟ تو اس نے کہا کہ میں نے دل سے طلاقیں نہیں کہیں بلکہ خوف اور ڈرانے کے واسطے کہی ہیں۔ آیا ایسی صورت میں طلاقیں واقع ہوگئیں یا نہیں؟ حوالہ کتب مع عبارت ارسال فرمائیں، عنایت ہوگی۔ بینوا، جزاکم اللہ رب الجلیل۔
الجواب: صورت مسئولہ میں اس شخص کی بیوی پر تین طلاقیں واقع ہوگئیں۔
قال في الخلاصة [2/98]:”وفي الفتاوى رجل قال لامرأته ترا يكي وترا سه او قال تو يكي تو سه قال أبو القاسم الصفار رحمه الله لا يقع شيئ وقال الصدر الشهيد رحمه الله يقع إذا نوى قال وبه يفتى“ قال القاضی [1/464على هامش الهندية]: وينبغي أن يكون الجواب على التفصيل ان كان ذلك في حال مذاكرة الطلاق أو في حال الغضب يقع الطلاق وان لم يكن لا يقع إلا بالنية كما لو قال بالعربية: أنت واحدة.اهـ… قلت: وقد وجدت المذاکرة فی الصورة المسئول عنها والله أعلم.“
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved