- فتوی نمبر: 31-365
- تاریخ: 14 اپریل 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > طلاق کا بیان > تحریری طلاق کا بیان
استفتاء
ایک آدمی نے پہلے طلاق کے کاغذات پر دستخط کر دیئے مگر یہ کہا کہ دل سے بیوی کو طلاق نہیں دینا چاہتا پھر بعد میں تین بار میسج میں لکھ کر طلاق دیدی کہ “میں زید فاطمہ کو طلاق دیتا ہوں، میں زید فاطمہ کو طلاق دیتا ہوں، میں زید فاطمہ کو طلاق دیتا ہوں” کیا میسج پر طلاق دینے سے طلاق ہوجاتی ہے؟
وضاحت مطلوب ہے: شوہر کا رابطہ نمبر مہیا کریں۔
جواب وضاحت: *******
دارالافتاء سے فون کے ذریعے شوہر سے رابطہ کیا گیا تو اس نے کہا کہ میں نے اپنی مرضی سے طلاق کے کاغذات پر دستخط کیے ہیں اور وہ تین طلاقوں کے کاغذات تھے۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں تینوں طلاقیں واقع ہو چکی ہیں اور بیوی شوہر پر مکمل حرام ہو چکی ہے اب نہ تو رجوع ہو سکتا ہے اور نہ ہی صلح کی گنجائش ہے۔
توجیہ: اگر کوئی شخص طلاق کی تحریر پر دستخط کر دے اور اسے معلوم بھی ہو کہ اس میں کیا لکھا ہے تو اس سے طلاق واقع ہو جاتی ہے۔ مذکورہ صورت میں بھی بقول خاوند کے اپنی مرضی سے بغیر کسی دباؤ کے مضمون کے علم کے باوجود دستخط کیے ہیں اور وہ طلاق نامہ طلاق ثلاثہ کا تھا لہذا تینوں طلاقیں واقع ہو چکی ہیں اور بیوی شوہر پر حرام ہو چکی ہے ۔
رد المحتار (4/433) میں ہے:
ولو استكتب من آخر كتابا بطلاقها وقرأه على الزوج فأخذه الزوج وختمه وعنونه وبعث به إليها فأتاها وقع إن أقر الزوج أنه كتابه
بدائع الصنائع (3/173) میں ہے:
وإن كتب كتابة مرسومة على طريق الخطاب والرسالة مثل أن يكتب أما بعد يا فلانة فأنت طالق أو إذا وصل كتابي إليك فأنت طالق يقع به الطلاق. ولو قال ما أردت به الطلاق أصلا لا يصدق
ہندیہ(1/473) میں ہے:
وإن كان الطلاق ثلاثًا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجًا غيره نكاحًا صحيحًا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها، كذا في الهداية
امدادالفتاوی جدید مطول (183/5) میں ہے:
الجواب: اگر مضمون کی اطلاع پر دستخط کئے ہیں تو معتبر ہے ورنہ معتبر نہیں قواعد سے یہی حکم معلوم ہوتا ہے۔۔۔۔الخ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved