• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

مختلف موقعوں پر تین طلاقیں دینا

استفتاء

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں مسمی زید  نے تقریبا دو ڈھائی سال پہلے اپنی بیوی کو جھگڑے کے دوران کہا تھا کہ” تو میری بھابی کے گھر جائے گی تو تمہیں طلاق ہے یا ہو جائے گی”  یہ جو دو لفظ ہیں ان میں مجھے شک ہے کہ “میری طرف سے طلاق ہے”  کہا تھا یا “میری طرف سے طلاق  ہو جائے گی”  کہا  تھا ان دونوں لفظوں میں سے  مجھے یاد نہیں کون سا لفظ بولا ہے۔ بہرحال بولا ہے اس کے بعد وہ اس کے گھر گئی بھی ہے اور پھر اس کے 15 یا 20 دن بعد میں سعودیہ سے واپس آیا اور گھر میں رہا اس دوران ہم آپس میں میاں بیوی کی طرح رہے ہیں، اب ہفتہ 10 دن پہلے پھر گھر میں کوئی جھگڑا ہوا تو اس دوران میں نے کہا  کہ “ماؤ دے کار جُل، دفع ہو، میں تکو طلاق دینا ، ہنڑ چھوڑداں تکو میں، چھوڑ داں میں تکو بس جل اللہ دے حوالے” ہنکو میں یہ الفاظ کہے ہیں جس کا اردو میں ترجمہ یہ بنتا ہے “اپنی ماں کے گھر جاؤ دفع ہو میں تم کو طلاق دیتا ہوں، ابھی چھوڑتا ہوں تم کو، ابھی تمہیں میں چھوڑتا ہوں، بس جاؤ اللہ کے حوالے”

اس مذکورہ صورتحال میں کیا حکم ہے؟ جبکہ اس آخری  جھگڑے میں”چھوڑتا ہوں ” یا “چھوڑ دیا ہے” کے الفاظ میں مجھے شک ہے کون سا لفظ بولا ہے؟ یہ  مجھے یاد نہیں ریکارڈنگ موجود ہے  پھر اس کے بعد تین چار منٹ نہیں گزرے کہ میں نے اس کو کہا ایسا نہیں سوچنا اس میں میری طلاق کی نیت نہیں تھی ویسے ہی منہ سے نکل گیا ہے لہذا اب شرعی حکم کیا ہے؟ کیا  ہمارے لیے کوئی گنجائش ہے یا نہیں؟  ہم ایک دوسرے سے جدا نہیں ہونا چاہتے بس غصے میں بول دیا۔

تنقیح: وائس میسج سنا گیا تو اس کے الفاظ وہی ہیں جو سائل نے سوال میں لکھے ہیں یعنی “چھوڑتا ہوں” کے الفاظ ہیں “چھوڑ دیا ہے” کے الفاظ نہیں۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں تینوں طلاقیں واقع ہو چکی ہیں جن کی وجہ سے  بیوی شوہر پر حرام ہو چکی ہے اب نہ تو رجوع ہو سکتا ہے اور نہ ہی صلح کی گنجائش ہے۔

توجیہ: پہلی دفعہ جھگڑے کے دوران شوہر نے جب کہا کہ” اگر تو میری بھابھی کے گھر جائے گی تو تمہیں طلاق ہے” اس کے بعد بیوی شوہر کی بھابھی کے گھر گئی تو اسے ایک طلاق رجعی واقع ہوگئی اس کے15 دن بعد  میاں بیوی آپس میں میاں بیوی کی طرح رہنے لگے تو اس سے رجوع ہوگیا اور خاوند کے پاس دو طلاقوں کا اختیار باقی  رہ گیا  پھر جب دوبارہ جھگڑا ہوا  توخاوند نے کہا کہ ” میں تم کو طلاق دیتا ہوں” اس سے دوسری طلاق  واقع ہو گئی اور خاوند کا پھر یہ کہنا کہ” ابھی چھوڑتا ہوں تم کو ” اس سے تیسری طلاق بھی  واقع ہو گئی  ہے اور بیوی شوہر پر حرمت مغلظہ کے ساتھ حرام ہوگئی  ہے اس کے فورا بعد چوتھی مرتبہ یہ کہنا کہ” ابھی تمہیں میں چھوڑتا ہوں” یہ کہنا لغو ہو گیا۔اور اگر تعلیق کے جملے سے الفاظ میں شک کی وجہ سے طلاق نہ ہوئی تو پھر بھی چونکہ شوہر نے بعد میں تین صریح الفاظ کے ساتھ طلاقیں دی ہیں لہٰذا بہر صورت تین طلاقیں واقع ہوگئی ہیں۔

ہندیہ(1/420) میں ہے:

واذا اضافه  إلى الشرط وقع عقيب الشرط اتفاقا مثل أن يقول لامرأته: إن دخلت الدار فأنت طالق

عالمگیری (1/470) میں ہے:

وإذا طلق الرجل امرأته تطليقة رجعية أو تطليقتين فله أن يراجعها في عدتها رضيت بذلك أو لم ترض كذا في الهداية.

وفيه ايضا: وكما تثبت الرجعة بالقول ‌تثبت ‌بالفعل وهو الوطء واللمس عن شهوة كذا في النهاية

شامی (4/519) میں ہے:

فإذا قال ” رهاكردم ” أي ‌سرحتك يقع به الرجعي مع أن أصله كناية أيضا، وما ذاك إلا لأنه غلب في عرف الفرس استعماله في الطلاق وقد مر أن الصريح ما لم يستعمل إلا في الطلاق من أي لغة كانت

ہندیہ (1/683) میں ہے:

وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له ‌حتى ‌تنكح ‌زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية ولا فرق في ذلك بين كون المطلقة مدخولا بها أو غير مدخول بها كذا في فتح القدير ويشترط أن يكون الإيلاج موجبا للغسل وهو التقاء الختانين هكذا في العيني شرح الكنز.أما الإنزال فليس بشرط للإحلال

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved