• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

بیوی اور اولاد میں وراثت کی تقسیم

استفتاء

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص  کا انتقال ہو گیا ہے، اس کے ورثاء میں 5 بیٹے، 2 بیٹیاں اور ایک بیوہ ہے ، مرحوم کے والدین پہلے ہی وفات پا چکے ہیں،  (1)مرحوم کا چھوڑا ہوا ترکہ 3 کروڑ روپےہے، وہ   اس کے ورثاء میں کیسے تقسیم ہو گا؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں مرحوم کے کل ترکے کے 96 حصے کیے جائیں گےجن میں سے مرحوم کی بیوہ کو 12 حصے (12.5%) ، ہر  ایک بیٹے کو14 حصے (14.58 %) اور  ہر ایک بیٹی کو 7 حصے (7.29%) ملیں گے۔ لہذا اس حساب سے مرحوم کی بیوہ کو 3750000(سینتیس لاکھ پچاس ہزار)، ہر  ایک بیٹے کو 4375000 (تینتالیس لاکھ پچھتر  ہزار) اور  ہر ایک بیٹی کو 2187500 (اکیس لاکھ ستاسی ہزار پانچ سو) ملیں گے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved