- فتوی نمبر: 31-380
- تاریخ: 14 اپریل 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > وراثت کا بیان > وراثت کے احکام
استفتاء
ایک شخص فوت ہو گیا ہے اس کی دو بیویاں ہیں ایک سے سات بیٹیاں ہیں اور دوسری سے دو بیٹے اور ایک بیٹی ہے دونوں بیوہ زندہ ہیں شوہر کا ایک ہی بڑا گھر ہے جس میں پہلے وہ ساتھ رہتی تھیں اب آپس میں ناچاقی کی وجہ سے اسی گھر میں اپنا کچن الگ کر لیا اب گھر اور جائیداد کی تقسیم کرنا مقصود ہے تو جس بیوہ کی صرف بیٹیاں ہیں اس کو گھر کا حصہ بھی ملے گا یا صرف جائیداد میں سے حصہ ملے گا؟ قرآن وسنت کی روشنی میں راہنمائی کریں۔
وضاحت مطلوب ہے کہ: کیا مرحوم کے والدین وفات کے وقت زندہ تھے؟
جواب وضاحت: نہیں وہ دونوں وفات پا چکے تھے۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں جس بیوہ کی صرف بیٹیاں ہیں اس کو گھر اور جائیداد دونوں میں سے حصہ ملے گا جس کی تفصیل یہ ہے کہ شوہر کے کل ترکہ کے 96 حصے ہوں گے جن میں سے ہر بیوی کو کل جائیداد کے 6 حصے (یعنی 6.25 فیصد فی کس) ملیں گے ، ہر بیٹے کو 14 حصے )یعنی 14.58 فیصد فی کس) اور ہر بیٹی کو 7 حصے (7.29فیصد فی کس) ملیں گے۔
صورت تقسیم درج ذیل ہے:
8×12=96
| دو بیویاں | 2 بیٹے | 8بیٹیاں |
| ثمن | عصبہ | |
| 1 | 7×12 | |
| 1×12 | 84 | |
| 6+6 | 14+14 | 7+7+7+7+7+7+7+7 |
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved