• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

عقد مضاربت کی ایک ناجائز صورت

استفتاء

ہم نے مضاربت کا عقد کیا ہے اس کے شرائط درج ذیل ہیں کیا یہ شرائط شرعی طور پر درست ہیں یا نہیں؟

یہ معاہدہ دو فریق  اول (S)  اور فریق دوم (A)  کے درمیان طے پایا ہے فریق اول(S)ہے اور فریق دوم (A) ہے،معاہد ہ کی شقیں  درج ذیل ہیں:

(1)فریق اول  Sبیس لاکھ روپے مہیا کرے گافی الحال اٹھارہ لاکھ روپےدے چکا ہے جبکہ فریق دوم A کاروباری ذمہ داری سنبھالیں گے، کاروبار کے دوران A کو حسب صوابدید اختیارات حاصل ہوں گی۔

(2) فریق اول S کو چھ سال سے پہلے عقد (کاروبار) ختم کرنے کا اختیار حاصل نہیں ہے جبکہ A کو کسی بھی وقت عقد(کاروبار) ختم کرنے کا اختیار حاصل ہے۔

(3)اس  معاہدہ اور کاروبار کا تعلق صرف اور صرف  فریقین SاورAکے ساتھ ہے، ان کے کسی بھی بھائی یا رشتہ دار کو دخل اندازی کی اجازت نہیں ہوگی۔

(4)دوران کاروبارفریق  دوم Aکو پلمبری کے کام کرنے کی اجازت ہوگی۔

(5)حساب وکتاب سالانہ بنیاد پر ہوگا نیز نفع پچاس فیصد S کو ملے گا اور پچاس فیصد A کو ملے گا۔

(6)کاروبار کے دوران جتنے ادھار مال  دیے جائیں گے وہ چونکہ کاروبار ہی کے مفاد میں ہوتے ہیں اس لیے کاروبار کے اختتام پر ایسے تمام واجب الادا قرضوں کی وصولی کی ذمہ داری یا بصورت دیگر نقصان دونوں فریق Sاور Aکے ذمہ برابر برابر ہوگا۔

(7)فریق دوم کاروبار کے دوران کھانے پینے، موبائل کے اخراجات اور پیٹرول کا خرچہ مال مضاربت سے ادا کریگا ، یہ اخراجات ان کے نفع  سے منہا نہیں ہوں گے۔

(8)فریق دوم  Aکو اجازت ہوگی کہ وہ اگر چاہیے تو اپنی طرف سے مال مضاربت میں اپنا ذاتی مال شامل کرسکےگا۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مضاربت کی مذکورہ صورت  درج ذیل چند شرائط کی وجہ سے ناجائز ہے۔

1۔ فریق اول (S)  کو 6 سال سے پہلے عقد ختم کرنے کا اختیار حاصل نہیں ہوگا ،فریق دوم (A)  کو جس وقت چاہےعقد ختم کرنے کا حق ہوگا ۔

توجیہ: جبکہ شرعاً متعاقدین میں سے ہر ایک کو جس وقت چاہے عقد فسخ کرنے کا حق حاصل ہوتا ہے۔

2۔ کاروبار کے دوران جتنے ادھار مال دیے جائیں گے کاروبار کے اختتام پر ان کے پیسوں کی وصولی دونوں کے ذمہ برابر ہوگی۔ یہ بات بھی درست نہیں ہے کیونکہ اس میں رب المال پر عمل کی  شرط لگائی گئی ہے حالانکہ مضاربت میں رب المال پر عمل کی شرط لگانا مضاربت کو ختم کر دیتا ہے۔اس لیے تمام کاروباری وصولیوں کی مکمل ذمہ داری فریق (A) کی ہوگی۔

3۔ نقصان ہونے کی صورت میں دونوں فریقین برابر کے ذمہ دار ہوں گے۔یہ بات بھی شرعاً درست نہیں ہے کیونکہ مضاربت میں نقصان میں شرکت نہیں ہوتی۔بلکہ مضاربت میں نقصان کی صورت میں دیکھا جاتا ہے کہ تجارت میں اگر نفع ہوا ہے تو نقصان  کو پہلے اس سے پورا کیا جائے گا اور اگر نفع نہیں ہوا تو صرف رب المال نقصان برداشت کرے گا ۔لیکن اگر مارکیٹ کے ذمہ دار تاجروں کی رائے میں نقصان مضارب کی کوتاہی سے ہوا تو اس کا مکمل ذمہ دار مضارب ہوگا۔

4۔ فریق اول کاروبار کے دوران اپنے اخراجات مالِ مضاربت سے ادا کرے گا یہ اخراجات اس نفع سے منہا نہیں ہوں گے۔

توجیہ: اگر اپنے شہر میں کاروبار کرے گا تو مال مضاربت سے اپنے  کھانے پینے وغیرہ کے اخراجات کو پورا نہیں کر سکتا البتہ اگر شہر بڑا ہو اور ایک حصے سے دوسرے حصے میں آنے جانے میں کچھ خرچ ہوتا ہو تو صرف سواری کا خرچہ لے سکتا ہے البتہ اگر کسی دوسرے شہر میں جا کر مال کے خریدنے یا بیچنے کی ضرورت پیش آئے تو وہ کھانے پینےاور سواری کا خرچ مارکیٹ کے رواج کے مطابق لے سکتا ہے۔اسی طرح ذاتی موبائل کا خرچ بھی مضاربت سے نہیں لے سکتا البتہ کاروبار کے لیے جو موبائل استعمال ہوتا ہے صرف اس کا خرچہ اخراجات میں نکالا جا سکتا ہے۔

بدائع الصنائع (7/109) میں ہے:

‌وأما ‌صفة ‌هذا ‌العقد فهو أنه عقد غير لازم، ولكل واحد منهما أعني رب المال والمضارب الفسخ، لكن عند وجود شرطه، وهو علم صاحبه

شامی (5/65) میں ہے:

(‌واشتراط ‌عمل ‌رب ‌المال مع المضارب مفسد) للعقد؛ لأنه يمنع التخلية فيمنع الصحة

شرح المجلہ (مادہ:1427) میں ہے:

‌إذا ‌تلف ‌مقدار من مال المضاربة فيحسب في بادئ الأمر من الربح ولا يسري إلى رأس المال , وإذا تجاوز مقدار الربح وسرى إلى رأس المال فلا يضمنه المضارب

شرح المجلہ (مادہ:1428) میں ہے:

على كل حال يكون الضرر والخسار على رب المال واذا شرط كونه مشتركا عليه وعلى المضارب فلا يعتبر ذلك الشرط

شرح المجلہ (مادہ:1419) میں ہے:

‌إذا ‌ذهب ‌المضارب في عمل المضاربة إلى محل غير البلدة التي وجد فيها يأخذ مصرفه بالمقدار المعروف من مال المضاربة بخلاف ما اذا عمل فى مصر الساكن فيه فان نفقته حينئذ في ماله

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved