• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

فرض نماز کے بعد دعا بالجہر کا حکم

استفتاء

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ:

1۔ فرض نمازوں کے بعد اجتماعی دعا بالجہر کا کیا حکم ہے ؟

2۔یہ بدعت ضلالہ ہے یا مکروہ تحریمی ہے یا مکروہ تنزیہی ہے؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

1۔جائز ہے۔

2 ۔ نہ بدعت ضلالہ ہے نہ مکروہ تحریمی ہے اور نہ ہی مکروہ تنزیہی ہے بلکہ جائز اور مباح ہے۔

المستدرک للحاکم (رقم الحدیث:7256) میں ہے:

عن كعب بن عجرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «‌احضروا ‌المنبر» فحضرنا فلما ارتقى درجة قال: «آمين» ، فلما ارتقى الدرجة الثانية قال: «آمين» فلما ارتقى الدرجة الثالثة قال: «آمين» ، فلما نزل قلنا: يا رسول الله لقد سمعنا منك اليوم شيئا ما كنا نسمعه قال: ” إن جبريل عليه الصلاة والسلام عرض لي فقال: بعدا لمن أدرك رمضان فلم يغفر له قلت: آمين، فلما رقيت الثانية قال: بعدا لمن ذكرت عنده فلم يصل عليك قلت: آمين، فلما رقيت الثالثة قال: بعدا لمن أدرك أبواه الكبر عنده أو أحدهما فلم يدخلاه الجنة قلت: آمين

ترجمہ: ( حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ (ایک مرتبہ) رسول اللہ  ﷺنے فرمایا منبر کے قریب ہو جاؤ۔ ہم لوگ منبر کے قریب ہو گئے۔ جب آپ منبر کے پہلے درجہ پر چڑھے تو فرمایا آمین اور جب دوسرے درجہ پر چڑھے تو فرمایا آمین اور جب تیسرے درجہ پر چڑھے تو فرمایا آمین۔ جب آپ (ہدایات دے کر فارغ ہوئے اور ) نیچے اترے تو ہم نے کہا اے اللہ کے رسول! آج ہم نے آپ سے (منبر پر چڑھتے ہوئے) ایسی بات سنی جو پہلے نہیں سنتے تھے۔ آپ  ﷺنے فرمایا (جب میں نے پہلے درجہ پر قدم رکھا تو) جبرئیل میرے سامنے آئے اور انہوں نے کہاہلاک ہو وہ شخص جس نے رمضان (کا مہینہ) پایا پھر بھی اس کی مغفرت نہیں ہوئی ( اس پر) میں نے کہا آمین۔ پھر جب میں دوسرے درجہ پر چڑھا تو انہوں نے کہا ہلاک ہو وہ شخص جس کے سامنے آپ کا (نام) ذکر ہو اور وہ آپ پر درود نہ پڑھے (اس پر بھی) میں نے کہا آمین ۔ جب میں تیسرے درجہ پر چڑھا تو انہوں نے کہا کہ ہلاک ہو وہ شخص جس کے سامنے اس کے والدین یا ان میں سے کوئی ایک بڑھاپے کو پہنچیں اور وہ اس کو جنت میں داخل نہ کرائیں (اس پر بھی) میں نے کہا آمین۔

المعجم الکبیر للطبرانی (رقم الحدیث:3536) میں ہے:

عن حبيب بن مسلمة الفهري وكان مستجابا ‌أنه ‌أمر ‌على ‌جيش فدرب الدروب، فلما لقي العدو قال للناس: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «لا يجتمع ملأ فيدعو بعضهم ويؤمن سائرهم إلا أجابهم الله»

ترجمہ:رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جہاں کہیں بھی چند لوگ جمع  ہوں اس طور پر کہ ایک دعا کرے اورباقی  آمین کہیں  تو اللہ ان کی دعا قبول فرمالیتا ہے۔

البدایہ والنہایہ(6/245) میں ہے:

فنادى منادي العلاء فاجتمع الناس إليه، فقال: أيها الناس ألستم المسلمين؟ألستم ‌في ‌سبيل ‌الله؟ ألستم أنصار الله؟ قالوا: بلى، قال: فأبشروا فو الله لا يخذل الله من كان في مثل حالكم، ونودي بصلاة الصبح حين طلع الفجر فصلى بالناس، فلما قضى الصلاة جثا على ركبتيه وجثا الناس، ونصب في الدعاء ورفع يديه وفعل الناس مثله حتى طلعت الشمس، وجعل الناس ينظرون إلى سراب الشمس

ترجمہ: (حضرت علاء ؓ کے منادی نے نداء کی تو لوگ آپؓ کے پاس جمع ہو گئے تو آپ ؓ نے فرمایا: اے لوگوں کیا تم مسلمان نہیں ہو؟ کیا تم اللہ کے رستہ میں نہیں ہو؟ کیا تم اللہ کے مددگار نہیں ہو؟ تو لوگوں نے جواب دیا : بالکل ہیں۔ تو آپؓ نے فرمایا پس بشارت قبول کرو اللہ تم جیسے لوگوں کو رسوا نہیں کرے گا۔اورجب صبح صادق ہو گئی تو فجر کی نماز کے لئے اذان دی گئی۔آپ (علاء بن حضرمیؓ) نے لوگوں (صحابہ و تابعین) کو نماز پڑھائی ، جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو آپ اور لوگ دو زانوں بیٹھ گئے، آپ دونوں  ہاتھ اٹھا کر دعا مانگنے لگے، لوگوں نے بھی آپ ہی کی طرح کیایہاں تک کہ سورج طلوع ہو گیا)

عالمگیر ی(5/318) ميں  ہے:

‌إذا ‌دعا ‌بالدعاء المأثور جهرا ومعه القوم أيضا ليتعلموا الدعاء لا بأس به

فتاویٰ رشیدیہ (1/380) میں ہے:

سوال: فرضوں کے بعد دعا  جہر سے مانگنا جائز ہے یا نہیں؟

جواب: بعد فرض نماز دعا جہر سے کرنا جائز ہے اگر کوئی مانع عارض نہ ہو۔

کفایت المفتی (1/287) میں ہے:

سوال: فرض نماز کے بعد امام بلند آواز سے دعا مانگتا ہے اور مقتدی آمین کہتے ہیں  درست ہے یا نہیں؟

جواب: اس طریقہ کو  ضروری اور لازمی سمجھا  نہ جائے  تو مباح ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved