• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

سسر کی وراثت کی تقسیم

استفتاء

میرے سسر صاحب پانچ سال پہلے فوت ہوئے ۔ میرے سسر کے والدین  ان سے پہلے ہی فوت ہو گئے تھے۔ سسر صاحب کے تین بیٹے  تھے۔  جن میں سے  دو سال پہلے ایک بیٹے کی وفات ہوچکی ہے جو کہ غیرشادی شدہ تھا اور سسر صاحب کی تین بیٹیاں ہیں  اور تینوں زندہ ہیں اور ایک بیوی ہے ۔سسر صاحب کی وراثت میں ایک  دس مرلے کا گھر ہے اب یہ شریعت کے موافق تقسیم کرنا ہے تو ان سب ورثاء  کااس 10 مرلے کے گھر میں کتنا کتنا حصہ بنتا ہے؟نیز مرلوں کے اعتبار سے بھی تقسیم کردیں۔ہمارے علاقے میں ایک مرلہ 225 مربع فٹ ہوتا ہے۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں سسر مرحوم  کی جائیداد (مکان) کی تقسیم کا طریقہ یہ ہے کہ کل جائیداد کو 216  حصوں میں تقسیم کیا جائے گا۔ جن میں سے مرحوم کی بیوہ کو 34 حصے (15.74فیصد) اور مرحوم کے دو بیٹوں میں سے ہر بیٹے کو 52،52 حصے (24.07 فیصد فی کس )اور مرحوم کی بیٹیوں میں سے ہر بیٹی کو 26،26 حصے( 12.03) فیصد فی کس) ملیں گے۔

اس حساب سے 10 مرلوں کو 225 مربع فٹ فی مرلہ کا حساب لگا کر تقسیم کیا جائے تو مرحوم کی بیوہ کو 1 مرلہ اور 129.17مربع فٹ اور فی بیٹے کو 2مرلے اور  91.67مربع فٹ اور فی بیٹی   کو 1 مرلہ اور  45.83مربع فٹ ملیں گے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved