• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

ڈپریشن کے مریض کا غصہ کی حالت میں تین طلاقیں دینے کا حکم

استفتاء

میں مسمی  شیخ روشن اقبال ولد شیخ محمد کاظم ساکن مکان نمبر 63 سکندر ہاؤس رحمان پارک لاہور کا رہائشی ہوں۔  میری بیٹی کی شادی محمد موسی رئیس ولد رئیس اقبال کے ساتھ دو سال قبل انجام پائی۔ اس دوران انہیں اللہ  نے ایک بیٹا دیا،  چند روز قبل  گھریلو ناچاقی کی وجہ سے میں اسے اپنے گھر لے آیا،  اس کے بعد موسی  نے فون کیا اور نارمل بات کی اور پوچھا کہ گھر کب آؤگی؟  تو بیٹی نے کہا کہ پاپا سے پوچھ کر بتاتی ہوں مجھ سے پوچھا تو میں نے کہا کہ میں آپ کے  گھر آؤں گا اور آپ کے  والد صاحب سے بات کروں گا اس دوران میری گھروالی  نے کہا کہ میں نہیں بھیجوں گی    یہ سن کر  موسیٰ غصے میں آگیا  اور کہا تم کیا سمجھتی ہو میں بیٹے کی وجہ سے کچھ کر نہیں سکتا اس کے بعد یکےبعد دیگرے3 مرتبہ طلاق کہہ دی اب وہ کہتا  ہے  کہ وہ ڈپریشن کی بیماری کا شکار  ہے۔ میں نے اپنی بیٹی سے پوچھا تو بیٹی نے کہا   موسیٰ   نے بتایا ہے کہ  وہ   ڈپریشن کی دوا لیتے ہیں  ان کے پاس ڈاکٹر کی دوا کا نسخہ ہے، ڈاکٹر کی طرف سے علامات بھی لکھی گئی  ہیں جس کے  مطابق اس حالت میں طلاق نہیں  ہوتی۔ قرآن اور حدیث کی روشنی میں فرمائیں کہ طلاق ہو گئی   ہے یا نہیں ؟

شوہر کا بیان:

جس وقت میں اپنی بیوی سے بات کر رہا تھا اس وقت میں اپنے کمرے میں اکیلا تھا۔بیوی نے بات کرتے ہوئے کچھ ایسی بات کہی کہ مجھے غصہ آگیا اور میں نے بیوی کو تین دفعہ “میں نے تمہیں طلاق دی”کہا اور غصے کی حالت میں مجھ سے کوئی خلافِ عادت افعال بھی صادر نہیں ہوئے اور اس سے پہلے کبھی ایسا کوئی واقعہ نہیں ہوا کہ میں ڈپریشن کی وجہ سے کنٹرول سے باہر ہوا ہوں۔البتہ اتنا ہے کہ جب میں نے دوائی کھائی ہو تو طبیعت بہتر رہتی ہے(یعنی چھوٹی چھوٹی باتوں پر غصہ نہیں آتا)اور میرا غالب گمان یہی ہے کہ مذکورہ واقعہ کے وقت میں دوائی لے چکا تھا۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں تینوں طلاقیں واقع ہوچکی ہیں جن کی وجہ بیوی شوہر پر حرام ہوچکی ہے  لہٰذا اب نہ رجوع ہوسکتا ہے اور نہ صلح کی گنجائش ہے۔

توجیہ: مذکورہ صورت میں  سوال میں اگرچہ شوہر  کوڈپریشن کا مریض  کہا گیا ہے لیکن جس واقعہ میں اس نے طلاق دی ہے اس میں اس کی غصہ میں ایسی حالت نہیں تھی کہ شوہر کو معلوم ہی نہ ہو کہ وہ کیا کہہ رہا ہے اور کیا کر رہا ہے اور نہ شوہر سے خلاف عادت اقوال و افعال صادر ہوئے ہیں ۔لہذا مذکورہ صورت میں تینوں  طلاقیں واقع ہو گئیں ہیں ۔

نیز واضح رہے کہ تین طلاقیں دینے سے تین طلاقیں واقع ہو جاتی ہیں چاہے اکٹھی ایک مجلس میں دی جائیں یا الگ الگ مجالس میں دی جائیں،جمہور صحابہ رضی اللہ عنہم،تابعین اور ائمہ رحمہم اللہ کا یہی مذہب ہے۔

عمدۃ القاری(1/232)میں  ہے:

مذهب جماهير العلماء من التابعين ومن بعدهم من الاوزاعي والنخعي والثوري و ابو حنيفه واصحابه ومالك واصحابه والشافعي واصحابه واحمد واصحابه و اسحاق وابو ثور وابو عبيدة واخرون كثيرون على ان من طلق امراته ثلاثا يقعن ولكنه ياثم.

مرقاۃ المفاتيح شرح مشكاۃ المصابيح (6/436)میں ہے:

قال النووي اختلفوا في من قال لامراته انت طالق ثلاثا فقال مالك والشافعي واحمد وابو حنيفه والجمهور من السلف والخلف يقع ثلاثا……وفيه أيضاً:وذهب جمهور الصحابة والتابعين ومن بعدهم من أئمة المسلمين إلى أنه يقع ثلاثا.

شامی(3/ 244)میں ہے:

وللحافظ ابن القيم الحنبلي رسالة في طلاق الغضبان قال فيها: إنه على ثلاثة أقسام: أحدها أن يحصل له مبادئ الغضب بحيث لا يتغير عقله ويعلم ما يقول ويقصده، وهذا لا إشكال فيه. والثاني أن يبلغ النهاية فلا يعلم ما يقول ولا يريده، فهذا لا ريب أنه لا ينفذ شيء من أقواله….فالذي ‌ينبغي ‌التعويل عليه في المدهوش ونحوه إناطة الحكم بغلبة الخلل في أقواله وأفعاله الخارجة عن عادته، وكذا يقال فيمن اختل عقله لكبر أو لمرض أو لمصيبة فاجأته: فما دام في حال غلبة الخلل في الأقوال والأفعال لا تعتبر أقواله وإن كان يعلمها ويريدها لأن هذه المعرفة والإرادة غير معتبرة لعدم حصولها عن الإدراك صحيح كما لا تعتبر من الصبي العاقل.

بدائع الصنائع(3/ 187) میں ہے:

وأما الطلقات الثلاث ‌فحكمها ‌الأصلي هو زوال الملك، وزوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر؛ لقوله عز وجل {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره} [البقرة: 230] وسواء طلقها ثلاثا متفرقا أو جملة واحدة.

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved