- فتوی نمبر: 35-123
- تاریخ: 20 اپریل 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > طلاق کا بیان > غصہ کی حالت میں دی گئی طلاق
استفتاء
شوہر کا بیان حلفی:
ہمارا نکاح 2017 میں ہوا تھا اور رخصتی 2019 میں۔ جنوری 2021 میں جب میں امریکہ میں تھا اور میری بیوی پاکستان میں تھی، میں نے اپنی بیوی کو اس کے اور میرے والدین کے درمیان لڑائیوں کی وجہ سے بہت سوچ سمجھ کر فون پر ایک طلاق دے دی جس کے الفاظ یہ تھے”میں تمہیں طلاق دیتا ہوں” اس واقعہ کے 17 دن بعد ہم نے آپس میں رجوع کر لیا۔
ستمبر 2021 میں میرے والدین امریکہ آئے ہوئے تھے جبکہ میری بیوی پاکستان میں تھی۔ میں گاڑی چلاتے ہوئے اپنے والدین سے بات کر رہا تھا کہ وہ میری بیوی کے ساتھ اچھے تعلقات رکھیں ورنہ میں اسے چھوڑ دوں گا۔ میرے والد صاحب نے منع کیا لیکن میری والدہ نے کہا کہ طلاق دے کر دکھاؤ۔ میں نے شدید غصے میں آ کر اپنی بیوی کو فون کیا اور اس کو کہا کہ” میں تمہیں طلاق دینے لگا ہوں” یہ سنتے ہی میری بیوی نے فوراً فون بند کر دیا۔ لیکن اسی دن میری بیوی نے مجھ سے رابطہ کیا اور ہم نے صلح کر لی۔
اکتوبر 2022 میں میری بیوی اور میرے والدین میرے ساتھ امریکہ منتقل ہو گئے اور میرے ساتھ رہنے لگے لیکن ان کی آپس کی لڑائیاں ختم نہ ہوئیں بلکہ مزید بڑھ گئیں۔
دسمبر 2023 میں ہمارے ہاں بیٹی پیدا ہوئی لیکن بچے کی پیدائش کے بعد بھی ان کی لڑائیاں چلتی رہیں جس کا مجھ پر بہت بوجھ تھا اور میں دونوں فریق کے ساتھ لڑتا رہتا۔ ایک دفعہ میری میرے والد صاحب کے ساتھ شدید لڑائی ہوئی جس دوران میں نے اپنے سر کو پیٹنا شروع کر دیا جبکہ مجھے اس کی کوئی یادداشت نہیں تھی۔ ڈاکٹر نے مجھے بلڈ پریشر کی دوائی تجویز کی۔ میں نے اپنی بیوی کو بارہا کہا کہ تم واپس پاکستان چلی جاؤ یا اپنی بہن کے گھر منتقل ہو جاؤ، جب میرے والدین فوت ہو جائیں گے تو تم واپس آ جانا لیکن وہ نہ مانی۔ جون 2025 میں ڈاکٹر نے مجھے انگزائٹی اور ڈپریشن کی دوائی تجویز کر دی۔
6 اکتوبر 2025 کو صبح چار بجے میں کام کے لیے نکل گیا اور دوپہر کھانا کھانے گھر آیا۔ کھانے کے بعد میری بیوی نے مجھے بچہ سنبھالنے کا کہا تو میں نے عذر کیا کہ میں صبح تین بجے کا اٹھا ہوا ہوں تم ہی بچہ سنبھال لو۔ اس پر میری بیوی نے میری والدہ پر الزام لگایا اور بچہ میری طرف دھکیل دیا،میں نے بچے کو ایک طرف ہٹایا تو اس نے مجھے پیٹ اور بازوؤں پر تھپڑ مارنا شروع کیے اور بہت بے ہودہ قسم کی گالیاں دینے لگی۔ میری آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا گیا اور مجھے یاد نہیں کہ میں نے اپنی زبان سے کیا جملے بولے اس کے بعد ابھی تک میرے کانوں میں اس کی یہی بات گونج رہی ہے کہ” ہمارا رشتہ ختم ہو گیا ہے ،تم میرے کمرے سے چلے جاؤ” یہ جملہ سن کر میرے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی اور مجھے کچھ خبر نہ تھی کہ میں کیا کر رہا ہوں۔ میری بیوی نے پولیس بلوائی جس نے مجھے اور میری والدہ کو جیل میں 30 گھنٹے رکھا۔ رہائی کے بعد میں نے صلح کروانے کے لیے اپنے گھر والوں کے ذریعے اس کی بہنوں سے رابطہ کیا اور میں نے ان کو قرآن پر حلف دیتے ہوئے اپنی ویڈیو بنا کر بھیجی کہ میں طلاق دیتے ہوئے ہوش وحواس میں نہیں تھا۔
سوال یہ ہے کہ کیا اس ساری تفصیل کے بعد کوئی گنجائش باقی رہتی ہے کہ نہیں؟
بیوی کا بیان حلفی:
17 جنوری 2021 میں میرے خاوند نے مجھے ایک بار طلاق پورے ہوش و حواس اور ارادہ سے دی تھی۔ اس کے بعد یہ پاکستان آئے اور ہمارا رجوع ہو گیا۔ 4 ستمبر 2021 کو میرے خاوند کی کال آئی جس پر انہوں نے مجھے کہا کہ “میں تمہیں طلاق دے رہا ہوں” میں نے فوراً کال بند کر دی۔ بعد میں انہوں نے مجھ سے معافی مانگ کر صلح کر لی تھی اور 15 دن بعد پاکستان آگئے تھے مجھ سے ملنے کے لیے۔
اکتوبر 2022 میں میں پاکستان سے امریکہ منتقل ہو گئی اور وہاں ہماری بہت لڑائیاں ہوتی تھی۔ میری ساس اور سسر مل کر میرے خاوند کو غلط بیانی کر کے ہماری لڑائی کرواتے تھے۔ لڑائی کے دوران میرے خاوند مجھے کافی بار یہ بھی کہتے تھے کہ “میں تمہیں دو طلاق دے چکا ہوں اگر شرم حیا ہے تو چلی جاؤ ،دفع ہو جاؤ” ایک بار میرے بیگ اٹھا کر گھر کے دروازے کے پاس رکھ دیے اور کہا کہ “جاؤ چلی جاؤ “میرے میں اور برداشت نہیں ہے۔
میں نے ان کے ماموں کو کال کی جن کے سمجھانے پر اگلے دن میرے خاوند نے مجھ سے معافی مانگ لی اور کہا “تمہیں پتہ ہے مجھے غصے میں کچھ پتہ نہیں چلتا میں کچھ بھی بول دیتا ہوں” اور مجھ سے صلح کر لی۔ ایک دن ایک وکیل کے دفتر کو دیکھ کر کہنے لگے کہ “آؤ ،ان سے بات کرتے ہیں اور معاملہ ختم کرتے ہیں کیونکہ ہمارا گزارا نہیں ہو رہا” لیکن میں نے انکار کر دیا۔ ایک دن کہنے لگے کہ “اگر تم سے یہ سب برداشت نہیں ہوتا تو باہر کا دروازہ کھلا ہے چلی جاؤ تمہیں کسی نے یہاں باندھ کر نہیں رکھا ہے جاؤ ذلیل نہ ہو”۔یہ شروع سے غصے کے کافی تیز تھے اور بعد میں معافی بھی مانگ لیتے تھے اور مجھے بتاتے کہ میں ذہنی طور پر کافی پریشان ہوں مجھے غصے میں سمجھ نہیں آتی نہ پتہ چلتا ہے کہ میں کیا بول رہا ہوں یا کیا کر رہا ہوں۔ شدید غصے میں یہ اپنے والدین کو بھی بہت کچھ بول دیتے اور بعد میں معافی مانگ لیتے تھے۔
6 اکتوبر 2025 کو یہ کام سے واپس آئے اور ہماری کسی بات پر شدید لڑائی اور ہاتھا پائی ہوئی۔ انہوں نے شدید غصے میں مجھے بیڈ پر کھڑے ہو کر تین بار کہا کہ ” میں تمہیں طلاق دیتا ہوں” اس کے بعد میری اور ان کی بہت زیادہ لڑائی ہوئی اور بعد میں انہوں نے اپنی والدہ کے سامنے اس بات کو مانا کہ میں نے اسے تین بار بول دیا ہے۔ بعد میں انہوں نے میرے روزمرہ کے استعمال کا موجودہ کارڈ بند کروا دیا۔ مجھے کہنے لگے تم یہاں رکنا چاہتی ہو تو عدت پوری کر لو تمہیں ساری کھانے پینے کی چیزیں ملتی رہیں گی اور اگر جانا چاہتی ہو تو میں گاڑی کروا دیتا ہوں۔ اس سارے معاملے میں ایک بار بھی انہوں نے مجھ سے نہیں کہا کہ “میں نے یہ الفاظ غصے میں بولے ہیں یا مجھے نہیں پتہ چلا کہ میرے منہ سے کیا الفاظ نکلے ہیں” اگلے دن یہاں کے قانون کے مطابق پولیس کے ساتھ اپنا سامان گھر سے اٹھانے آئے تب بھی یہ مجھے بہت غصہ دکھا رہے تھے تب بھی کوئی بات نہیں کی کہ میں غصے میں تھا۔
اس سے دو تین دن بعد انہوں نے میرے رشتہ داروں سے رابطہ کرنا شروع کیا اور معافیاں مانگنا شروع کیں اور قرآن پر حلف اٹھایا کہ”اللہ اور اس کا یہ پاک کلام اس بات پر گواہ ہے کہ میں اپنی ہوش و حواس میں طلاق کے الفاظ استعمال نہیں کیے اور اگر میرے منہ سے الفاظ نکلے بھی ہوں تو میں بالکل بھی اپنے ہوش و حواس میں نہیں تھا” میرے خاوند مجھے اکثر اپنی ذہنی کیفیت کے بارے میں بتاتے تھے اور کہتے کہ مجھے غصے میں پتہ نہیں چلتا کہ میں کیا بول جاتا ہوں۔ ایک بار ان کی اپنے ابو سے شدید لڑائی ہوئی تو انہوں نے لڑائی کے دوران زور زور سے اپنے سر کو پیٹنا شروع کر دیا اور بعد میں جب غصہ ٹھنڈا ہوا تو میں نے انہیں اس بارے میں پوچھا تو انہیں اس بات کا کوئی اندازہ نہیں تھا اور کوئی یاداشت نہیں تھی۔
وضاحت مطلوب ہے: کیا آپ نے اپنی بیوی کو یہ الفاظ کہے تھے کہ: “میں تمہیں دو طلاق دے چکا ہوں”؟ اگر کہے تھے تو کتنی بار؟
جواب وضاحت: مجھے یاد نہیں کہ میں نے یہ الفاظ کہے یا نہیں۔
تنقیح: بیوی سے دارالافتاء کے واٹس ایپ نمبر سے وضاحت لی گئی تو بیوی نے بتایا کہ دوسرے واقعے کا جہاں تک مجھے یاد ہے، طلاق کے لفظ پر میں نے کال کاٹ دی تھی۔ مجھے صحیح طرح سے سنائی نہیں دیا کہ طلاق کے لفظ کے بعد کیا کہا تھا۔ تیسرے موقع پر کوئی اور کمرے میں موجود نہیں تھا۔اور میرے شوہر کافی غصے میں تھے اور ہم دونوں میں ہاتھاپائی بھی ہوئی تھی، اور اکثر پہلے بھی غصے کے بعد بہت سی باتیں یہ بھول جاتے ہیں کہ کہی تھیں یا نہیں۔
مجھے نہیں پتا کہ یہ اپنے حواس میں تھے یا نہیں، لیکن بعد میں انہوں نے قرآن پر حلف دیا تھا میری فیملی کو کہ یہ ہوش میں نہیں تھے۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں 6 اکتوبر 2025 کے واقعہ میں اگر واقعتاً شوہر کا غصہ اتنا شدید تھا کہ اس کو معلوم نہ تھا کہ وہ کیا کہہ رہا ہے یا کیا کر رہا ہے اور بیوی کے سامنے اس بات کی قسم بھی دے دیتا ہے کہ اسے اس وقت کچھ معلوم نہیں تھا کہ وہ کیا کہہ رہا ہے تو اس واقعہ میں طلاق کے الفاظ استعمال کرنے سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی لیکن اس سے پہلے شوہر نے بیوی کے سامنے کئی دفعہ دو طلاقیں دینے کا اقرار کیا ہے جیسا کہ بیوی کے بیان میں یہ بات موجود ہے لہذا بیوی کے حق میں دو طلاقیں واقع ہو چکی ہیں۔ چونکہ شوہر نے دونوں طلاقوں کے بعد رجوع کر لیا تھا لہذا یہ نکاح قائم ہے اور میاں بیوی اکٹھے رہ سکتے ہیں لیکن اگر شوہر 06 اکتوبر والے واقعہ میں طلاق کے الفاظ کا علم نہ ہونے پر قسم دینے سے انکار کرے تو تینوں طلاقیں واقع ہوجائیں گی جن کی وجہ سے بیوی شوہر پر حرام ہوگی اور رجوع یا صلح کی گنجائش باقی نہ ہوگی۔
تو جیہ: 17 جنوری 2021 کو پہلی طلاق چونکہ شوہر نے ہوش و حواس میں صریح الفاظ سے دی تھی اور عدت میں رجوع ہو گیا تھا لہذا اس کے بعد شوہر کے پاس دو طلاقوں کا اختیار رہ گیا تھا۔ 4 ستمبر 2021 کے واقعہ میں شوہر کے بیان کے مطابق فون کال کے دوران اس کے الفاظ” میں تمہیں طلاق دینے لگا ہوں” تھے جو کہ زمانہ مستقبل میں طلاق دینے کی دھمکی ہے اور مستقبل کے الفاظ سے طلاق واقع نہیں ہوتی اور بیوی نے بھی کہا ہے کہ مجھے صحیح طرح یاد نہیں کہ وہ الفاظ کیا تھے اور میں نے کال کاٹ دی تھی لہذا ان الفاظ سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی۔ البتہ بیوی کے بیان کے مطابق شوہر اس کو یہ الفاظ” میں تمہیں دو طلاق دے چکا ہوں” کئی دفعہ کہہ چکا ہے اور ان الفاظ میں دوسری طلاق کا بھی اقرار ہے اور طلاق کا اقرار کرنے سے بھی طلاق واقع ہو جاتی ہے لہذا اس اقرار کی وجہ سے بیوی کے حق میں دو طلاقیں واقع ہو گئیں۔ نیز اگرچہ شوہر اس اقرار کو تسلیم نہیں کر رہا لیکن بیوی اس کا اقرار کر رہی ہے لہذا المرأة كالقاضي کے تحت بیوی اپنے حق میں دو طلاقیں شمار کرنے کی پابند ہوگی۔ اور 6 اکتوبر 2025 کے موقع پر چونکہ شوہر کے بیان کے مطابق اس کا غصہ اتنا شدید تھا کہ اس کو اپنے اقوال و افعال کا علم نہ رہا تھا اور شوہر کے ساتھ پہلے بھی غصے میں ایسی کیفیت پیش آتی رہی ہے اور یہ بات معروف بھی تھی لہذا اگر شوہر اس واقعہ میں بھی عدم علم اور عدم ارادہ پر بیوی کے سامنے قسم دے دیتا ہے تو اس سے بھی مزید کوئی طلاق واقع نہ ہوگی۔
ہندیہ (1/ 384) میں ہے:
«فقال الزوج طلاق ميكنم طلاق ميكنم وكرر ثلاثا طلقت ثلاثا بخلاف قوله كنم لأنه استقبال فلم يكن تحقيقا بالتشكيك.»
در مختار(4/428) میں ہے:
ولو أقر بالطلاق كاذبا أو هازلا وقع قضاء لا ديانة.
رد المحتار(4/449)میں ہے:
والمرأة كالقاضي إذا سمعته أو أخبرها عدل لا يحل لها تمكينه.
الدر المختار مع رد المحتار(4/439) میں ہے:
قلت الحافظ ابن القيم رسالة فى طلاق الغضبان قال فيها انه علي ثلاثة اقسام…… الثاني ان يبلغ النهاية فلا يعلم ما يقول و لا يزيده فهذا لا ريب انه لا ينفذ شئي من اقواله… …فالذى ينبغي التعويل عليه فى المدهوش و نحوه إناطة الحکم بغلبة الخلل فى أقواله و أفعاله الخارجة عن عادته، و کذا يقال فيمن اختل عقله لکبر أو لمرض أو لمصيبة فاجأته: فما دام فى حال غلبة الخلل فى الأقوال و الافعال لا تعتبر أقواله و إن کان يعلمها و يريدها لأن هذه المعرفة و الإرادة غير معتبرة لعدم حصولها عن الإدراک الصحيح کما لا تعتبر من الصبي العاقل..
ہندیہ (1/ 470) میں ہے:
«وإذا طلق الرجل امرأته تطليقة رجعية أو تطليقتين فله أن يراجعها في عدتها رضيت بذلك أو لم ترض كذا في الهداية.»
فتاویٰ خیریہ(ص67) علی ہامش تنقیح الفتاویٰ الحامدیہ میں ہے:
“والحكم في المجنون اذا عرف أنه جن مرة فطلق وقال عاودني الجنون فتكلمت بذلك وأنا مجنون ان القول قوله بيمينه وان لم يعرف بالجنون مرة لم يقبل قوله كما في الخانية
البحر الرائق (3/519) میں ہے:
قال أبو نصر قلت لمحمد بن سلمة يحلفه الحاكم أم هي تحلفه قال يكتفى بتحليفها إياه في منزله فإذا حلفته فحلف فهي امرأته
امداد الفتاویٰ (5/222) میں ہے:
سوال: کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلہ میں کہ مسمی امام الدین بخار میں مبتلا تھا… اس کے باپ وعظ الدین نے اس سے کہا کہ تو اپنی بیوی کو چھوڑ دے… یہ کلام سنتے ہی امام الدین نے کہا کہ: میں نے بیوی کو چھوڑا، میں نے بیوی کو چھوڑا، میں نے بیوی کو چھوڑا… امام الدین کا باپ بیان کرتا ہے کہ امام الدین ایک روز پہلے سے بیہوش تھا، عین بیہوشی کی حالت میں یہ کلمات اس سے سرزد ہوئے… بعض مفتی صاحبان نے فتویٰ دیا ہے کہ مدہوش کی طلاق واقع نہیں ہوتی، اس لیے امام الدین کی بھی واقع نہیں ہوئی۔ جبکہ امام الدین بچپن سے مجنون و مدہوش نہیں ہے، صرف دو ایک روز کے واسطے اس بیماری اور مصنوعی بیہوشی کی حالت میں اپنے باپ کے کلام کو کما حقہ سمجھ کر مناسب جواب دیا بلکہ تعدادِ طلاق میں تین سے آگے متجاوز نہیں ہوا، کیا ایسی صورت میں عقلاً و شرعاً امام الدین کے متذکرہ الفاظ سے اس کی منکوحہ مطلقہ ہوئی یا نہیں؟ اور جبکہ اس کے باپ کے کلام میں اضافت موجود ہے۔
جواب: سوال ہذا میں اس مدہوشیت کے متعلق خود زوج کا کوئی دعوی مذکور نہیں سو اگر وہ اس کا مدعی نہیں بلکہ مقر ہوش کا ہے تب تو پدر زوج کا دعوی کوئی چیز نہیں اور حکم مدہوشیت کا احتمال ہی نہیں اور اگر وہ دعوی کرتا ہے تو چونکہ یہ امر خلاف ظاہر ہے اس لیے اس کا دعوی مسموع نہیں ہو سکتا ورنہ ہر مطلق ایسا ہی دعوی کر سکتا ہے بلکہ اس کے اعتبار کے لیے یہ شرط ہے کہ اس کی یہ حالت دوسرے عام دیکھنے والوں کو بھی ظاہر اور محسوس ہوتی ہو خواہ عین وقت پر یہ حالت طاری ہوئی ہو خواہ اس وقت مشتبہ ہو مگر پہلے سے طاری ہونا معروف و معلوم ہو اور زوال اس کا متیقن نہ ہوا ہو اور اس اخیر صورت میں حلف بھی زوج سے لیا جاتا ہے۔
دليل ذلك كله ما في رد المحتار :في البحر عن الخانية: رجل عرف انه كان مجنونا فقالت له إمرأته طلقتني البارحة فقال: اصابني الجنون ولا يعرف ذلك الا بقوله كان القول قوله.
اور یہاں یہ شرط مفقود ہے بلکہ اس کے خلاف کی دلیل موجود ہے یعنی ذی ہوش ہونے کے قرائن جو کہ سوال میں مذکور ہیں اس لیے یہ دعویٰ غیر مقبول ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved