- فتوی نمبر: 35-127
- تاریخ: 20 اپریل 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > طلاق کا بیان > غصہ کی حالت میں دی گئی طلاق
استفتاء
حضرات مفتی صاحبان سے فتوی درکار ہے کہ میرے شوہر نے مجھ کو کہہ دیا” تم مجھ پر طلاق ہو، تم مجھ پر طلاق ہو” پھر تجدید نکاح کی نئے مہر کے ساتھ اور رجوع کیا پھر ایک سال گزرنے کے بعد کہہ دیا “تم مجھ پر حرام ہو “۔ اب نکاح کا کیا حکم ہے؟
شوہر کا بیان :
شوہر نے پہلی دو طلاقوں کی تصدیق کی اور کہا کہ تیسری دفعہ کے الفاظ مجھے صحیح یاد نہیں ہیں۔ میرے ذہن کا کوئی مسئلہ تھا تو اسی حالت میں یہ الفاظ منہ سے نکل گئے موبائل بھی زمین پر مارا تھا جو بعد میں دوست نے ٹھیک کروا دیا میں نے تیسری طلاق نہیں دی ۔
بیوی کا بیان :
میرے شوہر نے جب مجھے یہ کہا تھا کہ” تم مجھ پر حرام ہو” اس وقت وہ بہت غصے میں تھا غصے میں موبائل بھی دیوار میں دے مارا تھا بعد میں شوہر نے کہا کہ میرا ارادہ نہیں تھا۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں تیسری طلاق واقع نہیں ہوئی لہذا یہ نکاح قائم ہے ۔
توجیہ: طلاق کے الفاظ بولتے وقت اگر غصہ اتنا شدید ہو کہ شوہر سے خلاف عادت اقوال و افعال صادر ہونے لگیں تو غصے کی ایسے حالت میں دی گئی طلاق معتبر نہیں ہوتی۔ مذکورہ صورت میں بھی طلاق کے الفاظ بولتے وقت شوہر سے غصے کی حالت میں خلاف عادت فعل موبائل توڑنا سرزد ہوا ہے لہذا اس حالت میں کہے گئے الفاظ سے طلاق واقع نہیں ہوئی۔
رد المحتار(4/439) میں ہے:
وللحافظ ابن القيم الحنبلي رسالة في طلاق الغضبان قال فيها: إنه على ثلاثة أقسام: أحدها أن يحصل له مبادئ الغضب بحيث لا يتغير عقله ويعلم ما يقول ويقصده، وهذا لا إشكال فيه…………. فالذي ينبغي التعويل عليه في المدهوش ونحوه إناطة الحكم بغلبة الخلل في أقواله وأفعاله الخارجة عن عادته، وكذا يقال فيمن اختل عقله لكبر أو لمرض أو لمصيبة فاجأته: فما دام في حال غلبة الخلل في الأقوال والأفعال لا تعتبر أقواله وإن كان يعلمها ويريدها لأن هذه المعرفة والإرادة غير معتبرة لعدم حصولها عن ادراك صحيح
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved