- فتوی نمبر: 35-131
- تاریخ: 22 اپریل 2026
- عنوانات: مالی معاملات > اجارہ و کرایہ داری > اجارۃ الاشخاص
استفتاء
(1)اگر کہیں آن لائن اکیڈمی میں قرآن پڑھانا ہو اور وہ یہ کہیں اگر سٹوڈنٹ یا ان کی والدہ آپ سے نام پوچھیں تو اپنا نام نہیں بتانا بلکہ انچارج کا نام بتانا ہے تو یہ کیسا ہے ؟ یا ہم مخفی رکھیں وہ نام پوچھے تو ہوں ہاں کر دیں اور(2) اس سے جو کمائی ہوگی وہ حلال ہوگی؟
تنقیح : سائل کا کہنا ہے کہ اپنا نام اس لیے نہیں بتاتے کہ والدین دوسرے کے پڑھانے پر راضی نہیں ہوتے اور صحیح طور پر معلوم تو نہیں البتہ انچارج خود پڑھائے گا اسی بات پر معاملہ ہوتا ہے اسی لیے اپنا نام بتانے سے منع کیا جاتا ہے اور غالب گمان یہی ہے۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
(2-1)آپ کا معاملہ چونکہ مالک کے ساتھ ہے اور آپ اپنی خدمات ان کو دے رہے ہیں اس لیے پڑھانے کی اجرت حلال ہے لیکن مالک کا آپ کو شناخت چھپانے کا پابند بنانا اور آپ کا اپنی شناخت چھپانا یہ غلط بیانی ہے جو کہ جائز نہیں ہے۔
البحر الرائق (8/9) میں ہے:
قال رحمه الله (ولا يستعمل غيره إن شرط عمله بنفسه) يعني ليس للأجير أن يستعمل غيره إذا شرط عليه أن يعمل بنفسه؛ لأن المعقود عليه العمل من محل معين فلا يقوم غيره مقامه كما إذا كان المعقود عليه المنفعة كما إذا استأجر رجلا للخدمة شهرا لا يقوم غيره مقامه في الخدمة.
شرح المجلہ (1/673) میں ہے:
الأجير الذي استؤجر على أن يعمل بنفسه ليس له أن يستعمل غيره مثلا لو أعطى أحد جبة لخياط على أن يخيطها بنفسه بكذا دراهم فليس للخياط أن يخيطها بغيره.
مسائل بہشتی زیور (2/328) میں ہے:
اگر کسی نے یہ شرط کر لی کہ میرا کپڑا تم ہی سینا یا تم ہی رنگنا یا تم ہی دھونا تو اس کو کسی دوسرے سے کام کروانا درست نہیں اگر یہ شرط نہیں کی تو کسی اور سے بھی وہ کام کرا سکتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved