• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

ویب سائٹس پر مختلف ٹاسک مکمل کرکے کمائی کرنا

استفتاء

کچھ ویب سائٹس اور ایپس ہیں جن پر گیم کھیل کر یا ان کے کچھ ٹاسک پورے کر کے كوئن ملتے  ہیں ٹاسک سے مراد  یہ ہے کہ ان کے کسی یوٹیوب چینل کو سبسکرائب کرنا یا اس ایپ یا ویب  سائٹ کے بتائے گئے  (۱)کسی فیس بک پیج کو لائیک کرنا یا (۲) کسی بھی سوشل میڈیا ایپ پر ایڈز یا ویڈیوز وغیرہ دیکھنا۔ ہر ایک ٹاسک پر کچھ کوئن ملتے ہیں جنہیں ڈیجیٹل کرنسی یا کرپٹو کرنسی  کہتے ہیں۔ کچھ ویب سائٹ سے ہمیں کوئن ملتے ہیں اور کچھ سے نہیں ملتے کوئی گارنٹی نہیں ہے کہ ہر ایک ویب سائٹ یا ایپ کوئن دے گی ۔جو وہ کوئن دیتے ہیں بعض ویب سائٹ یا ایپ وغیرہ کے کوئن کی ویلیو کچھ زیادہ اور کچھ کی بالکل کم ہو تی ہے۔ مثال کے طور پر ایک ویب سائٹ پر سارے ٹاسک مکمل کرنے  پر اور (۳)گیم وغیرہ کھیل کر اور(۴)  دوسرے لوگوں کو کوڈ کے ذریعے جوائن کروانے پر بھی کوئن ملتے ہیں اور (۵)  روزانہ ویب سائٹ ایک یا دو دفعہ کھولنے پر بھی کچھ ریوارڈ ملتا ہے  ۔بعض ویب سائٹ کے 100 کوائن کی ویلیو ایک ڈالر ہو سکتی ہے اور بعض کی 2000 کوائن کی ویلیو ایک ڈالر یا اس سے بھی کم ہو سکتی ہے۔بعض لوگ ان کے ٹاسک مکمل کرتے ہی نہیں لیکن کوئن لے لیتے ہیں مثلا  وہ کہتے ہیں کہ  یو ٹیوب پر اس ویڈیو کو دیکھو تو لوگ ایک دفعہ اس لنک پر کلک کر دیتے ہیں اور یوٹیوب پر وہ ویڈیو چلنے سے پہلے ہی بیک کر لیتے ہیں اور اس ٹاسک کے کوئن لے لیتے ہیں ۔اور نہ ہی کسی چینل کو سبسکرائب ،لائک وغیرہ کرتے  ہیں اور کوئن لے لیتے ہیں اور اس ٹاسک کا جو کوڈ ہوتا ہے ایک بندہ واٹس ایپ وغیرہ پر سب کو بتا دیتا ہے باقی سب بغیر ٹاسک مکمل کیئے وہ کوڈ لگا کر کوئن لے لیتے ہیں اور یہ کام ہر روز کیا جاتا ہے ۔اور پھر ان کوئنز کو آگے ڈالر میں بیچ کر پھر روپے کی صورت میں اپنے اکاؤنٹس میں منتقل کیا جاتا ہے ۔

کیا اس طرح کسی بھی ویب سائٹ یا ایپ پر اسی طرح گیم کھیل کر اور  لوگوں  کو وہ ویب سائٹ وغیرہ جوائن کروا کر اور ٹاسک مکمل کر کے پیسے کمانا حلال ہے یا حرام ؟اگر حرام  ہے تو کسی صورت میں حلال  بھی ہے یا بالکل  (ہر صورت میں) حرام ہے ؟

براہ مہربانی اس مسئلہ کے بارے میں تفصیل سے آگاہ کریں ۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ نوعیت کی ویب سائٹس سے کمائی کرنا شرعاً جائز نہیں۔

توجیہ: سوال میں مذکور جتنے بھی ٹاسک ہیں وہ تمام ٹاسک دھوکہ دہی پر یا ناجائز امر پر مشتمل ہیں۔ اس  کی تفصیل یہ ہے  کہ کسی پیج یا چینل کو لائک اور سبسکرائب کرنا یا ایڈ دیکھنا شرعاً یہ قابل اجارہ عمل نہیں ہے اور   یہ امور سوشل میڈیا پر جعلی مقبولیت کا سبب بنتے ہیں جبکہ گیم کھیلنا بذات خود ایک لایعنی مشغلہ ہونے کی  وجہ سے ناجائز ہے اسی طرح دوسرے افراد کو، کوڈ بھیج کر ایسی ویب سائٹ کا حصہ بنانا بھی جائز نہیں ہے کیونکہ یہ گناہ کے کام میں تعاون ہے ۔ خلاصہ یہ ہے کہ مذکورہ نوعیت کی ویب سائٹس سے کمائی کرنا جائز نہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved