- فتوی نمبر: 32-206
- تاریخ: 04 مئی 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > وراثت کا بیان > وراثت کے احکام
استفتاء
وراثت میں پندرہ لاکھ روپے ہیں، ورثاء میں ایک بیٹا اور تین بیٹیاں ہیں، یہ رقم ان کے درمیان کیسے تقسیم ہوگی؟
وضاحت مطلوب ہے:وراثت کس کی ہے ؟میت کے والدین حیات ہیں یا فوت ہو چکے ہیں؟اگر فوت ہوچکے ہیں تو میت سے پہلے فوت ہوئے ہیں یا بعد میں؟میت کی بیوی حیات ہے یا فوت ہو چکی ہے؟ اگر فوت ہوئی ہے تو میت سے پہلے فوت ہوئی ہے یا بعد میں؟
جواب وضاحت: میت کے والدین میت سے پہلے فوت ہوچکے ہیں اور میت کی بیوی بھی میت سے پہلے فوت ہوچکی ہے، ورثاء میں صرف ایک بیٹا اور تین بیٹیاں ہیں۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں پندرہ لاکھ روپے کے 5 حصے کیے جائیں گے جن میں سے 2 حصے (40 فیصد) یعنی6 لاکھ روپے بیٹے کو اور 1-1 حصہ (20 فیصد) یعنی3 لاکھ روپے ہر ایک بیٹی کو ملیں گے۔
صورت تقسیم درج ذیل ہے:
5
| 1 بیٹا | 3 بیٹیاں |
| عصبہ | |
| 2 | 1+1+1 |
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved