• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

تقسیم میراث کی ایک صورت

استفتاء

“زید” کے احوال زندگی اور اس کی وراثت کی تقسیم

احوال زندگی:

1۔1947 میں مسلمانوں کی یہاں پیدائش

2۔بی اے تک تعلیم

3۔کچھ حد تک مودودی صاحب سے متاثر

4۔تقریبا 23 سال متحدہ عرب امارت میں نوکری کی۔

5۔1982 میں حج  بھی کیا، روز مرہ زندگی میں  نماز بھی پڑھی مگر  زیادہ  تر گھر میں، اور روزے بھی رکھے۔

6۔1997 میں امریکہ  اور پھر کینیڈا میں شہریت  اختیار کی۔

2005 کے بعد سے زید کی اسلام کے متعلق کچھ باتیں:

  1. اپنے آپ کو مسلمان کہتا تھا ، چلتے پھرتے اللہ اکبر بھی کہتا تھا۔
  2. مگر آخرت کا انکار کرتا تھا۔ کہتا تھا کہ یہ ایک Imaginary (خیالی ) چیز ہے (نعوذ باللہ) اور دنیا ایسے چلتی رہے گی الا یہ کہ کوئی حادثہ ہوجائے۔
  3. قرآن میں جو حضرت ابراہیم ؑ کا واقعہ ہے کہ جب ان کو آگ میں پھینکا گیا تو آگ نے انہیں نہیں جلایا، اس واقعہ کا انکار کرتا تھا اس کے بارے میں “زید” کا کہنا تھا کہ یہ ایک فرضی کہانی ہے (نعوذ باللہ)۔
  4. شیطان کا کوئی وجود نہیں ہے۔

2022 میں زیدکا انتقال ہوگیا، اب زید کی وراثت کیسے تقسیم ہوگی؟ وراثت میں ایک گھر ہے اور وارثوں میں دو بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں۔

زیدکے مال کی تفصیل:

  1. زیدنے جو گھر چھوڑا ہے اس کی تین منزلیں ہیں ، 1986 میں زمین خریدی اور پہلی منزل 1988 میں بنائی تھی حالت اسلام میں۔
  2. 2016 میں دوسری اور تیسری منزل کا تقریباً آدھا ڈھانچہ زید نے اپنے اس مال سے بنایا جو اس کو 1998 میں اپنے والد کی طرف سے وراثت میں ملا تھا اور اس وقت زیدخود بھی حالت اسلام میں تھا۔
  3. تیسری منزل کا آدھا ڈھانچہ اور دوسری منزل کی تکمیل (پلستر، ٹائل، دروازے، کھڑکیاں وغیرہ) حالت ارتداد کے مال سے بنائیں۔
  4. فوت ہونے سے قبل کچھ رقم بھی چھوڑی۔

برائے مہربانی یہ بتائیں کہ:

1۔جو رقم حالت ارتداد میں کمائی اور فوت ہونے سے کچھ قبل چھوڑی اس کا کیا کریں؟ کیا مکمل گھر وارثین کے لیے جائز  ہے؟

2۔اور یہ  گھر وارثین میں کیسے تقسیم ہوگا؟

وضاحت مطلوب ہے: (1) سائل کا سوال سے کیا تعلق ہے؟  اور اسے مذکورہ شخص  کے عقائد کا کیسے علم ہوا؟ (2) مرحوم کی بیوی اور والدین میں سے کوئی زندہ ہے؟

جواب وضاحت: (1)میں  مذکورہ شخص  کا بیٹا ہوں۔  حضرت ابراہیمؑ کا واقعہ اور شیطان کا انکار میرے سامنے کیا تھا اور آخرت کا انکار ایک رشتے دار کے سامنے کیا تھا تو انہوں نے مجھے بتایا۔(2) کوئی بھی نہیں دو بیٹوں اور دو بیٹیوں کے علاوہ۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

1۔مذکورہ صورت میں میت کا سارا مال اس کے ورثاء میں تقسیم کیا جائے گا خواہ وہ مذکورہ بالا باتوں سے پہلے  کمایا ہو یا  بعد میں۔

توجیہ: جو  مسلمان ہو اور بعد میں اسلام سے پھر جائے تو اس کی جو کمائی اسلام کی حالت میں کی ہے وہ تو شرعی لحاظ سے بطور وراثت کے ان کے ورثاء کو ملے گی اور جو کمائی حالت ارتداد میں کی ہے اس کے بارے میں قاعدہ تو یہ ہے کہ وہ بیت المال میں جمع کی جائے لیکن چونکہ آج  کل  بیت المال کا نظام درست  نہیں اس لیے ارتداد کی حالت میں کی ہوئی کمائی بھی ورثاء میں ہی تقسیم ہوگی، جیسا کہ رد علی الزوجین کی صورت میں اصل تو یہی تھا کہ رد علی الزوجین نہ ہو بلکہ بقیہ ترکہ بیت المال میں جمع کردیا جائے لیکن بیت المال کے نظام میں  فساد کی وجہ سے رد علی الزوجین پر فتویٰ دیا جاتا ہے۔

2۔مذکورہ صورت میں جائیداد کے کل 6 حصے کیے جائیں گے  جن میں سے 2،2 حصے ہر ایک بیٹے کو اور 1،1 حصہ ہر ایک بیٹی کو ملے گا۔

صورت تقسیم درج ذیل ہے:

6             زید

دو بیٹےدو بیٹیاں
2+21+1

شامی(8/788) میں ہے:

قال في القنية ‌ويفتى ‌بالرد ‌على ‌الزوجين في زماننا لفساد بيت المال، وفي الزيلعي عن النهاية ما فضل عن فرض أحد الزوجين يرد عليه وكذا البنت والابن من الرضاع يصرف إليها وقال في المستصفى والفتوى اليوم بالرد على الزوجين، وهو قول المتأخرين من علمائنا، وقال الحدادي: الفتوى اليوم بالرد على الزوجين، وقال المحقق أحمد بن يحيى بن سعد التفتازاني: أفتى كثير من المشايخ بالرد عليهما إذا لم يكن من الأقارب سواهما لفساد الإمام وظلم الحكام في هذه الأيام، بل يفتى بتوريث بنات المعتق وذوي أرحامه وكذا قال الهروي: أفتى كثير من المشايخ بتوريث بنات المعتق وذوي أرحامه اهـ أبو السعود عن شرح السراجية للكازروني

قلت: وفي معراج الدراية شرح الهداية وقيل إن لم يترك إلا بنت المعتق يدفع المال إليها لا إرثا بل لأنها أقرب، وكذا الفاضل عن فرض أحد الزوجين يدفع إليه بالرد وكذا يدفع إلى البنت والابن من الرضاع وبه يفتى لعدم بيت المال.

وفي المستصفى والفتوى اليوم على الرد على الزوجين عند عدم المستحق لعدم بيت المال إذ الظلمة لا يصرفونه إلى مصرفه وهذا كما نقل عن بعض أصحاب الشافعي أنهم يفتون بتوريث ذوي الأرحام لهذا المعنى اهـ وقال الشارح في الدر المنتقى من كتاب الولاء قلت ولكن بلغني أنهم لا يفتون بذلك فتنبه.

المبسوط للسرخسی (30/37) میں ہے:

(فصل) في ميراث المرتد ‌المرتد ‌إذا ‌قتل أو مات أو لحق بدار الحرب فما اكتسبه في حال إسلامه فهو ميراث لورثته المسلمين.

مختصر قدوری (ص:247) میں ہے:

ولا يرث المسلم من الكافر ولا الكافر من المسلم ومال ‌المرتد ‌لورثته من المسلمين وما اكتسبه في حال ردته فيء

امداد الاحکام (4/626) میں ہے:

زید ایک ہندو خاندان سے مسلمان ہوا ہے۔ چونکہ زید اپنے ہندو باپ کی میراث سے شرعاً وارث نہیں ہو سکتا لیکن قانوناً بناء بر جائیداد  جدی ہونے کے وارث ہو سکتا ہے۔ تو وہ اپنے باپ کی جائیداد سے قانونا اپنا حصہ لیکر کسی مدرسہ اسلامی یا کسی اور اسلامی کام میں تصدق کر دے یا رفاہ عام کے کاموں مثلاً ضرورت کے مقاموں پر کنواں نکلوادے تو کیا وہ مثاب ہو گا۔ جبکہ اس کے باقی شرکاء یعنی جائیداد سے حصہ لینے والے آریہ جو کہ سخت ترین اعداء دین ہیں۔

الجواب: زید کو اپنے باپ کی جائیداد سے حصہ میرات لینا جائز نہیں بلکہ اس جائیداد کو مورث کے کافر ورثہ پہ رد کرنا لازم ہے اور بدون اس کے زید بھی اس میں تصرف کرنے سے گنہ گار ہے ۔ اور جو مدرسہ و مسجد والے اس واقعہ کو جانتے ہوئے اس جائیداد کی رقم لیں ، وہ بھی گناہ گار ہیں۔

تتمہ:یہ فتوی احقر ظفر احمد عفا اللہ عنہ نے اول لکھا پھر حضرت حکیم الامت کو دیکھایا ، تو حضرت نے فرمایا کہ ہندوستان میں بحالت موجودہ مسلمان کو کافر کی میں میراث لینا جائز ہے۔ لہذا میں اپنے فتوی سابقہ سے رجوع کرتا ہوں اور کہتا ہوں کہ صورتِ مسئولہ میں زید کو اپنے ہندو باپ کی جائیداد سے حصہ میراث لینا جائز ہے۔ اور اس میں کچھ شبہ بھی نہیں جس کی وجہ سے زید کے ذمہ ر دیا تصدق واجب ہو بلکہ وہ اس حصہ میراث کو اپنے تصرف میں بلا تکلف لاسکتا ہے ۔

والدليل ما في الشريفية والثالث اختلاف الدينين فلا يرث الكافر من مسلم اجماعاً ولا المسلم من الكافر على قول على وزيد وعامة الصحابة واليه ذهب علماء نا والشافعى لقوله صلى الله عليه وسلم لا يتوارث اهل ملتين شتی واخرجه الدارمى وابوداؤد والشافعی و سنده صحيح) والقياس ان يرث لقوله عليه السلام يعلو ولا يعلى واليه ذهب معاذ بن جبل ومعاوية بن ابى سفيان والحسن ومحمد بن الحنفية ومحمد بن على بن الحسين وسروق رحمهم الله اهـ – ص ، ١٤ –

قلت روى الشافعي ذلك عن أكثر هولاء المذكورين في الام تعليقاً و نقله حجة فان قيل هولاء كلهم مقدمون على الأئمة الاربعة المقتدى با قوالهم والاربعة كلهم متفقون على عدم ارث المسلم من الكافر ولم نعلم احدا خالفهم من معاصريهم ومن بعدهم والاجماع الاحق يرفع الخلاف السابق قلنا كلام الامام الشافعى فى الامام مشعر بخلاف بعض اهل عصره في المسئلة واخذه بقول معاوية وعلى ومعاذ بن جبل رضى الله عنهم وان سلمنا عدم الخلاف فيما بعد هم فنقول ليس مدار الافتاء على ذالك بل يجوز للمسلم ان يرث من الكافر بسبب استيلاء الحكومة الكافرة على مال الكافر اولا ثم دفعها إلى المسلم بقانونها واستيلاء الكافر سبب للملك عندنا والله اعلم – او يقال استولى المسلم على مال الكافرة بقوة سلطان اهل الحرب وصار تملكا له بالاستيلاء ودليل التملك بقوة سلطان اهل الحرب ما ذكر في شرح السير اهـ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved