- فتوی نمبر: 32-208
- تاریخ: 04 مئی 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > وراثت کا بیان > وراثت کے احکام
استفتاء
1۔مرحومہ والدہ کے نام جو جائیداد (گھر) ہے اس میں سے اولاد کا حصہ کس طریقے سے تقسیم ہوگا؟
2۔ اولاد میں سے دو بیٹیوں کی وفات ہوچکی ہے ان کو زندگی میں بھی حصہ نہیں دیا گیا اب گھر فروخت ہونے لگا ہے تو مرحوم بیٹیوں کی اولاد کو حصہ دیا جائے گا یا نہیں؟
3۔ جو بہنوں کا حصہ دینے سے انکار کرے ایسے لوگوں کے بارے میں کیا حکم ہے؟
وضاحت مطلوب ہے:1۔ مکان کی مالک بھی والدہ تھیں یا صرف ان کے نام تھا؟2۔کیا والدہ کے انتقال کے وقت ان کے والدین حیات تھے؟ دونوں بیٹیوں کا انتقال کب ہوا؟ والدہ سے پہلے یا بعد میں؟ الغرض تمام فوت شدگان کی ترتیب بتائیں۔
جواب وضاحت:1۔مکان والدہ کا تھا ، والدہ کے چار بیٹے اور پانچ بیٹیاں تھیں اور والدہ مکان کی مالک تھیں۔2۔ والدہ کے انتقال کے وقت ان کے والدین حیات نہیں تھے اور نہ شوہر حیات تھے۔ ایک بیٹی کا انتقال والدہ کی زندگی میں ہوا پھر والدہ کا انتقال ہوا پھر ایک بیٹی کا انتقال ہوا، جو بیٹی والدہ کے بعد فوت ہوئی اس کے ورثاء میں شوہر اور دو بیٹے زندہ ہیں۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
1-2۔ مذکورہ صورت میں والدہ کے کل ترکہ کے 96 حصے کیے جائیں گے جن میں سے مرحومہ کے ہر بیٹے کو 16-16 حصے (16.66 فیصد)، ہر بیٹی کو 8-8 حصے (8.33فیصد) ، دونوں نواسوں میں سے ہر ایک کو 3-3 حصے (3.125 فیصد ) اور داماد کو 2 حصے (2 فیصد) ملیں گے۔
نوٹ:جو بیٹی والدہ کی زندگی میں فوت ہوئی ہے ان کی اولاد کو والدہ کی وراثت میں سے شرعاً حصہ نہیں ملے گا۔
3۔ایسے لوگوں کے بارے میں مندرجہ ذیل وعید وارد ہوئی ہے۔
مشکوٰۃ المصابیح (رقم الحدیث:3078) میں ہے:
عن أنس رضى الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم من قطع ميراث وارثه قطع الله له ميراثه من الجنة يوم القيامة.
ترجمہ: حضرت انسؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جو شخص اپنے وارث کی میراث کاٹے گا (یعنی اس کو اس کا حصہ نہیں دے گا) تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن جنت میں اس کی میراث کاٹ لے گا۔
شامی(6/758) میں ہے:
وشروطه: ثلاثة: موت مورث حقيقة، أو حكما كمفقود، أو تقديرا كجنين فيه غرة ووجود وارثه عند موته حيا حقيقة أو تقديرا كالحمل والعلم بجهة إرثه
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved