- فتوی نمبر: 32-210
- تاریخ: 04 مئی 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > نکاح کا بیان > حضانت اور پرورش کا بیان
استفتاء
کیا کوئی لڑکا جس کی عمر تقریبا 13 سال ہو اور نانی نے زبردستی اپنے پاس رکھا ہو باپ کو واپس نہیں دے رہے جبکہ لڑکے کی ماں نے دوسری شادی کرلی ہو اس 13 سال کے بیٹے کا خرچہ باپ کے ذمے ہے حالانکہ وہ واپس لینا چاہتا ہےمگر نانا، نانی اس کو دے نہیں رہے۔ کیا یہ ٹھیک ہے؟
وضاحت مطلوب ہے: 1۔نانا، نانی بچہ کیوں نہیں دے رہے؟ 2۔بچہ بالغ ہے یانابالغ؟
جواب وضاحت: نانا کے ہاں اولاد نہیں تھی تو انہوں نے میرا بچہ رکھ لیا پھر اس نے دوسری شادی کی اس سے ان کا بچہ ہوا اب وہ میرا بچہ واپس نہیں کررہے۔2۔ بچہ چودھویں سال میں ہے اور قریب البلوغ ہے۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
اصولاً لڑکا جب تک بالغ نہ ہو باپ کو اسے پاس رکھنے کا حق حاصل ہے تاہم نانا، نانی بچہ کیوں نہیں دے رہے؟ اور ان کا یہ عمل درست ہے یا نہیں؟ تو اس بارے میں جب تک نانا، نانی کا اپنا مؤقف سامنے نہیں آتا اس وقت تک کچھ نہیں کہا جاسکتا۔
نیز بالغ ہونے کے بعد لڑکے کو اختیا ر ہے کہ وہ باپ کے پاس رہے یا نانا، نانی کے پاس رہے۔
توجیہ: جب شوہر اور بیوی کے درمیان جدائی ہوجائے اور ان کے بچے ہوں تو لڑکا سات سال کی عمر تک اور لڑکی نو سال کی عمر تک ماں کے پاس رہیں گے اور اگر ماں بچوں کے غیر محرم سے شادی کرلے تو بچے نانی کے پاس رہیں گے اور لڑکے کو سات سال کے بعد بالغ ہونے تک اور لڑکی کو نو سال کے بعد شادی کرنے تک باپ کو اپنے پاس رکھنے کا حق حاصل ہے۔
شامی (3/566) میں ہے:
(والحاضنة) أما، أو غيرها (أحق به) أي بالغلام حتى يستغني عن النساء وقدر بسبع وبه يفتى لأنه الغالب
درمختار (3/566) میں ہے:
(والحاضنة) أما، أو غيرها (أحق به) أي بالغلام حتى يستغني عن النساء وقدر بسبع وبه يفتى لأنه الغالب. ولو اختلفا في سنه، فإن أكل وشرب ولبس واستنجى وحده دفع إليه ولو جبرا وإلا لا (والأم والجدة) لأم، أو لأب (أحق بها) بالصغيرة (حتى تحيض) أي تبلغ في ظاهر الرواية. ولو اختلفا في حيضها فالقول للأم بحر بحثا.
وأقول: ينبغي أن يحكم سنها ويعمل بالغالب. وعند مالك، حتى يحتلم الغلام، وتتزوج الصغيرة ويدخل بها الزوج عيني (وغيرهما أحق بها حتى تشتهى) وقدر بتسع وبه يفتى وبنت إحدى عشرة مشتهاة اتفاقا زيلعي. (وعن محمد أن الحكم في الأم والجدة كذلك) وبه يفتى لكثرة الفساد زيلعي
وفى الشامية:( قوله: مشتهاة اتفاقا) بل في محرمات المنح: بنت تسع فصاعدا مشتهاة اتفاقا سائحاني.
(قوله: كذلك) أي في كونها أحق بها حتى تشتهى.
(قوله: وبه يفتى) قال في البحر بعد نقل تصحيحه: والحاصل أن الفتوى على خلاف ظاهر الرواية
کنز الدقائق (ص:311) میں ہے:
والأم والجدة أحق به حتى يستغني، وقدر بسبع سنين وبها حتى تحيض
ہندیہ (1/542) میں ہے:
والأم والجدة أحق بالغلام حتى يستغني وقدر بسبع سنين وقال القدوري حتى يأكل وحده ويشرب وحده ويستنجي وحده وقدره أبو بكر الرازي بتسع سنين والفتوى على الأول والأم والجدة أحق بالجارية حتى تحيض وفي نوادر هشام عن محمد – رحمه الله تعالى – إذا بلغت حد الشهوة فالأب أحق وهذا صحيح هكذا في التبيين
النہر الفائق شرح كنز الدقائق (2/ 502) میں ہے:
«ثم العصبات بترتيبهم والأم والجدة أحق به حتى يستغني، وقدر بسبع سنين وبها حتى تحيض»
تبیین الحقائق(3/49) میں ہے:
وإذا بلغت إحدى عشرة سنة فقد بلغت حد الشهوة في قولهم وقدره أبو الليث بتسع سنين، وعليه الفتوى قال – رحمه الله – (وغيرهما أحق بها حتى تشتهي) أي غير الأم والجدة بالجارية حتى تشتهى، وفي الجامع الصغير حتى تستغني لما ذكرنا من الحاجة
البحر الرائق شرح كنز الدقائق (4/ 184) میں ہے:
«فالحاصل أن الفتوى على خلاف ظاهر الرواية فقد صرح في التجنيس بأن ظاهر الرواية أنها أحق بها حتى تحيض واختلف في حد الشهوة، وفي الولوالجية وليس لها حد مقدر؛ لأنه يختلف باختلاف حال المرأة، وفي التبيين وغيره وبنت إحدى عشرة سنة مشتهاة في قولهم جميعا وقدره أبو الليث بتسع سنين وعليه الفتوى»
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved