• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

” ایان يُبْعَثُونَ “میں یا پر پیش کی جگہ زبر پڑھنے سے نماز کا حکم

استفتاء

1۔اگر نماز میں سورۃ النحل میں لفظ” ایان يُبْعَثُونَ “میں یا پر پیش کی جگہ زبر پڑھیں تو کیا نماز ہو جائے گی یا نہیں؟

2۔اور اس کے علاوه نماز میں اعراب کی غلطی سے نماز ٹوٹ جاتی ہے یا نہیں؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

1۔مذکورہ صورت میں نماز ہو جائے گی۔

توجیہ: اول تو یہ غلطی خطأ فی الاعراب کی ہے اور خطأ فی الاعراب کی وجہ سے متأخرین کے نزدیک نماز فاسد نہیں ہوتی اور فتوی بھی متأخرین کے قول پر ہے۔

نیز متقدمین کے نزدیک بھی نماز فاسد نہیں ہوگی کیونکہ”یبعثون“میں”یاء”پر پیش کی بجائے زبر پڑھنے سے معنی میں کوئی تغیر فاحش پیدا نہیں ہوا کیونکہ ” یبعثون ” باب فتح سے ہے جس سے مجہول پڑھنے کی صورت میں یہ معنی ہوگا کہ”(ان معبودوں کو تو یہ بھی معلوم نہیں کہ) وہ کب اٹھائے جائیں گے”اور اگر اس کو معروف پڑھیں تو باب سمع سے اس کا یہ معنی ہوگا کہ”(ان معبودوں کو تو یہ بھی معلوم نہیں کہ)وہ کب اٹھیں گے”۔ان دونوں معنی میں کوئی زیادہ فرق نہیں اس لیے متقدمین کے نزدیک بھی نماز فاسد نہیں ہوگی۔

2۔ نماز میں اعراب کی غلطی کی وجہ سے متأخرین احناف کے نزدیک نماز فاسد نہیں ہوتی اور متأخرین کا قول اوسع ہے اور اسی پر فتوی ہے۔البتہ اگر اعرابی غلطی کی وجہ سے معنی میں تغیر فاحش پیدا ہو تو متقدمین کے نزدیک نماز فاسد ہو جاتی ہے۔

ہندیہ (1/81) میں ہے:

(ومنها اللحن في الإعراب) ‌إذا ‌لحن ‌في ‌الإعراب لحنا لا يغير المعنى بأن قرأ لا ترفعوا أصواتكم برفع التاء لا تفسد صلاته بالإجماع وإن غير المعنى تغييرا فاحشا بأن قرأ وعصى آدم ربه بنصب الميم ورفع الرب وما أشبه ذلك مما لو تعمد به يكفر. إذا قرأ خطأ فسدت صلاته في قول المتقدمين واختلف المتأخرون: قال محمد بن مقاتل وأبو نصر محمد بن سلام وأبو بكر بن سعيد البلخي والفقيه أبو جعفر الهندواني وأبو بكر محمد بن الفضل والشيخ الإمام الزاهد وشمس الأئمة الحلواني لا تفسد صلاته. وما قاله المتقدمون أحوط؛ لأنه لو تعمد يكون كفرا وما يكون كفرا لا يكون من القرآن وما قاله المتأخرون أوسع؛ لأن الناس لا يميزون بين إعراب وإعراب. كذا في فتاوى قاضي خان وهو الأشبه. كذا في المحيط وبه يفتى.

شامی (1/631) میں ہے:

‌فلو ‌في ‌إعراب أو تخفيف مشدد وعكسه، أو بزيادة حرف فأكثر نحو الصراط الذين، أو بوصل حرف بكلمة نحو إياك نعبد، أو بوقف وابتداء ‌لم ‌تفسد ‌وإن ‌غير المعنى به يفتى بزازية

(قوله ‌فلو ‌في ‌إعراب) ككسر قواما مكان فتحها وفتح باء نعبد مكان ضمها، ومثال ما يغير {إنما يخشى الله من عباده العلماء} [فاطر: 28] بضم هاء الجلالة وفتح همزة العلماء، وهو مفسد عند المتقدمين. واختلف المتأخرون؛ فذهب ابن مقاتل ومن معه إلى أنه لا يفسد والأول أحوط وهذا أوسع

مصباح اللغات میں ہے:

بعِث(س)بَعَثًا۔نیند سے بیدار ہونا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved