• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

جس شخص سے بات نہ کرنے کی قسم کھائی اس کو سلام کرنے سے حانث ہونے کا حکم

استفتاء

1۔ اگرکسی نے قسم  کھائی کہ میں فلاں کے ساتھ بات نہیں کروں گا اور دوسرے نے بھی اسی طرح قسم کھائی کہ میں اس کے ساتھ بات نہیں کروں گا  اگر  ان میں سے ایک نے سلام کیا اور دوسرے نے اسکا جواب دیا تو جواب دینے والا  حانث  ہوگا یا نہیں؟

2۔اگر اسکے سلام کا جواب نہ دیں تو کیا گناہ گار ہوگا؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

1۔ مذکورہ صورت میں سلام کرنے والا اور جواب دینے والا دونوں حانث ہو جائیں گے۔

توجیہ: سلام کرنا اورر سلام کا جواب دینا دونوں پر کلام (بات کرنا) کا اطلاق ہوتا ہے۔ اس لیے مذکورہ صورت میں سلام کرنے والا اور جواب دینے والا دونوں حانث ہو جائیں گے۔

2۔ مذكورہ صورت میں سلام کا جواب نہ دینے والا بلا عذر سلام کا جواب نہ دے تو وہ گناہ گار ہو گا۔

توجیہ: سلام کا جواب دینا واجب ہے۔ لہٰذا مذکورہ صورت میں بلا عذر  سلام کا جواب نہ دینے والا ترکِ واجب کی وجہ سے گناہ گار ہو گا۔

البنایہ شرح الہدایہ (2/442) میں ہے:

(ولا يرد السلام بلسانه لانه كلام) ولهذا لو حلف لا يكلم فلانا فسلم يحنث.

شامی (9/683) میں ہے:

(ورد السلام وتشميت العاطس علي الفور) ظاهره انه اذا اخره لغير عذر  كره تحريما، ولا يرتفع الاثم بالرد بل بالتوبة.

فتاوٰی مفتی محمود (10/387) میں ہے:

سوال: علماء دین اس مسئلے کے بارے میں کیا فرماتے ہیں کہ ایک مسلمان دوسرے کو السلام علیکم کہے اور دوسرا عالم ہوتے ہوئے بھی جواب نہ دے۔۔۔۔الخ

جواب: سلام کا جواب دینا واجب ہے، پس اگر اس شخص نے بلا عذر اس کو جواب نہیں دیا  تو گناہ گار ہو گا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved