- فتوی نمبر: 35-161
- تاریخ: 07 مئی 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > وراثت کا بیان > وراثت کے احکام
استفتاء
زید مرحوم کی ایک بیوہ، دو بیٹیاں ، چار بہنیں اور تین بھائی تھے جن میں سے دو بھائی فوت ہوئے ہیں اور ایک زندہ ہے، دو بھائی جو فوت شدہ ہیں وہ زید کے فوت ہونے سے پہلے فوت ہوئے ہیں اور ایک بہن زید مرحوم سے پہلے فوت ہوئی ہے ایک بھائی اور تین بہنیں زندہ ہیں۔
نوٹ: جو بھائی اور بہن فوت ہوئے ہیں ان کی اولادیں ہیں اس لیے مفتی صاحب سے درخواست کی جاتی ہے کہ زید مرحوم کی وراثت شرعی طریقے سے تقسیم کروانے میں ہماری رہنمائی فرمائیں ۔
ٹوٹل زمین 22 مرلہ ( کھیت ) + 10 مرلہ ( کھیت ) اور 8 مرلہ کا مکان ہے زید مرحوم نے 22 مرلے (کھیت) میں سے 15 مرلے فروخت کیے ہیں اور چھ مرلے کا انتقال دیا ہے باقی نو مرلے کا انتقال نہیں دیا اور اس 15 مرلے کی رقم سے ایک مکان لیا ہےجس کا زید کے نام پر اسٹام پیپر ہے۔ اس لیے اب کل جائیداد کچھ اس طرح ہے۔پلاٹ 22 مرلے میں سے 15 مرلے فروخت ،7 مرلے بقایا ، کھیت 10 مرلے ، مکان 8 مرلے ذاتی رہائش کے لیے ، مکان 6 مرلے جو خریدا ہے۔
نوٹ: ان سب بہن بھائیوں سے پہلے والدین فوت ہوئے ہیں۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں مرحوم کے کل ترکے کے 24 حصے کیے جائیں گے جن میں سے تین حصے ( 12.5 فیصد ) مرحوم کی بیوہ کو آٹھ حصے ( 33.33 فیصد) ہر ایک بیٹی کو اور ایک حصہ ( 4.16 فیصد) ہر بہن کو اور دو حصے ( 8.33 فیصد) مرحوم کے بھائی کو ملیں گے۔
نوٹ : مرحوم کے وہ بھائی اور بہن جو مرحوم سے پہلے وفات پا چکے ہیں ان کے ورثاء کو مرحوم کی وراثت میں سے شرعاً کوئی حصہ نہیں ملے گا۔
صورت تقسیم درج ذیل ہے:
24
| بیوی | دو بیٹیاں | 1 بھائی | 3 بہنیں |
| ثمن | ثلثان | عصبہ | |
| 3 | 16 | 5 | |
| 8+8 | 2 | 1+1+1 |
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved