• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

زندگی میں اولاد کے درمیان جائیداد کی تقسیم کا طریقہ کار

استفتاء

1۔ میرے پاس کچھ جائیداد ہے اور کاروبار بھی چل رہا ہے میں چاہتا ہوں کہ اپنی زندگی میں ہی اپنی اولاد کے درمیان اسے تقسیم کروں۔ میں چاہتا ہوں کہ کاروبار اپنے دونوں بیٹوں کے حوالے کروں اور باقی جائیداد میں کاروبار کی مالیت کے برابر اپنی بیٹیوں کو دوں کیا یہ صحیح ہے؟ اگر صحیح نہیں ہے تو کوئی بہتر صورت تجویز فرمائیں۔

2۔ میں چاہتا ہوں کہ کاروبار میرے اور میرے دونوں بیٹوں کے درمیان چلتا رہے  لیکن پوچھنا یہ ہے کہ اس میں ہم تینوں کی حیثیت کیا ہوگی؟  یعنی اس کاروبار کو ہم شراکت کے حساب سے کریں یا اس طرح کریں کہ زمین میں اپنے پاس رکھوں باقی کاروبار بیٹے کریں  اور میں ان سے زمین کا کرایہ  لیتا رہوں وغیرہ اس حوالے سے مزید کوئی صورت ہو سکتی ہے تووہ بھی بتائیں۔

تنقیح :  کاروبار میں ایک ہوٹل ہے اور ایک دکان ہے ۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

1۔جائز ہے  ۔

2۔دونوں صورتیں جائز  ہیں چاہے کل کاروبار زمین سمیت ایک حصہ اپنے پاس رکھیں اور باقی دو حصے بیٹوں کو ہبہ کردیں اورچاہے کاروبار  انہیں ہبہ کردیں اور زمین اپنی مملوک رکھیں جس کا مناسب کرایہ ان سے طے کر لیں لیکن جو بھی چیز اپنے پاس رکھیں گے بعد میں اس میں وراثت جاری ہوگی ۔

مشکوٰۃ المصابیح (1/261) میں ہے:

وعن النعمان بن بشير أن أباه أتى به إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: إني نحلت ابني هذا غلاماً، فقال: «أكل ولدك نحلت مثله؟» قال: لا قال: «فأرجعه» و في رواية ..قال:فاتقوا الله واعدلوا بين أولادكم.

ترجمہ:حضرت نعمان ابن بشیرؓ سے روایت ہے کہ (ایک دن ) ان کے والد (حضرت بشیر رضی اللہ عنہ) انہیں رسول کریمﷺ کی خدمت میں لائے اور عرض کیا کہ میں نے  اپنے اس بیٹے کو ایک غلام ہدیہ کیا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا  کیا آپ نے اپنے سب بیٹوں کو اسی طرح ایک ایک غلام دیا ہے؟انہوں نے کہا:  نہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا تو پھر (نعمان سے بھی ) اس غلام کو واپس لے لو۔ ایک اور روایت میں آتا ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالی سے ڈرو اور اپنی اولاد کے درمیان انصاف کرو۔

درر الحکام شرح مجلۃ الاحکام (3/201) میں ہے:

كل يتصرف في ملكه المستقل كيفما شاء أي انه يتصرف كما يريد بإختياره أي لا يجوز منعه من التصرف هذا إذا لم يكن في ذلك ضرر فاحش للغير

درمختار (4/299) میں ہے:

الشركة شرعا عبارة عن عقد بين المتشاركين في الاصل والربح

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved