- فتوی نمبر: 35-168
- تاریخ: 07 مئی 2026
- عنوانات: عبادات > طہارت > وضوء کا بیان
استفتاء
مسائل بہشتی زیور(1/70) میں ہے:
جو پانی دھوپ سے گرم ہوگیا ہو اس سے وضو مکروہ ہے۔
سوال یہ ہے کہ:
1۔ اس سے کونسا پانی مراد ہے؟ جو دھوپ سے براہِ راست گرم ہو یا جو کسی برتن یا پائپ وغیرہ میں گرم ہو؟ یا ہر طرح سے گرم پانی مراد ہے؟
2۔ نیز اس کراہت کی وجہ کیا ہے؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
1۔اس سے دھوپ کی وجہ سے ہر طرح سے گرم شدہ پانی مراد نہیں بلکہ وہ پانی مراد ہے جس میں مندرجہ ذیل شرائط موجود ہوں:
۱۔ جو گرم علاقے میں سخت گرمی کی وجہ سے گرم ہو ۔
۲۔ اور سونے چاندی کے علاوہ کسی دوسری دھات کے برتن میں گرم ہو خواہ پانی کھلا ہو یا ڈھکا ہو دونوں حالتوں میں حکم یکساں ہے یا پائپ میں گرم ہو۔
۳۔ اور گرم ہونے کی حالت میں ہی استعمال کیا جائے۔
2۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کے استعمال سے برص کی بیماری ہونے کا اندیشہ ہے جیساکہ حضرت عمرؓ اور حضرت عائشہؓ کی روایات میں وارد ہوا ہے۔ واضح رہے کہ یہ کراہت احناف کے ہاں کراہت طبی ہے اور کراہت تنزیہی ہے۔
السنن الکبریٰ للبیقہی (رقم الحدیث:12) میں ہے:
أخبرنا أبو سعيد محمد بن موسى بن الفضل، نا أبو العباس محمد بن يعقوب، أنا الربيع بن سليمان، أنا الشافعي، أنا إبراهيم بن محمد، أخبرني صدقة بن عبد الله، عن أبي الزبير، عن جابر، أن عمر رضي الله عنه، كان يكره الاغتسال بالماء المشمس، وقال: إنه يورث البرص
سنن الدار قطنی (رقم الحدیث:87) میں ہے:
عن عائشة قالت: نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم أن يتوضأ بالماء المشمس أو يغتسل به وقال: «إنه يورث البرص»
مرقاۃ المفاتیح (2/459) میں ہے:
قال ابن حجر: أي: المشمس في إناء منطبع، وهو ما يمتد تحت المطرقة من غير النقدين.
وفيه أيضا: (فإنه يورث البرص) أي: طبا ; لما ذكره بعض الأطباء، واعلم أن استعمال الماء المشمس مكروه على الأصح.
تبیین الحقائق (1/20) میں ہے:
وفي القنية وتكره الطهارة بالماء المشمس «لقوله عليه الصلاة والسلام لعائشة حين سخنت الماء بها لا تفعلي يا حميراء فإنه يورث البرص» وعن عمر مثله وفي رواية لا يكره، وبه قال مالك وأحمد وعند الشافعي يكره إن قصد تشميسه وفي الغاية: وكره بالمشمس في قطر حار في أوان منطبعة واعتبار القصد ضعيف لأنه – عليه الصلاة والسلام – لما أشار إلى العلة الطبية كان اعتبار القصد وعدمه غير مؤثر. اهـ. كاكي
الاشباہ والنظائر (ص:369) میں ہے:
لا يكره المشمس فى أوانيهما (أى: الذهب والفضة) على الأصح لصفاء جوهرهما.
احسن الفتاویٰ (2/44) میں ہے:
سوال : حدیث میں ماء مشمس کے استعمال سے نہی وارد ہے ۔ اب سوال یہ ہے کہ ماء مشمس کی کیا تعریف ہے؟ کیا وہ پانی جو ٹینکی کے اندر دھوپ کی وجہ سے گرم ہو گیا ہو اس میں داخل ہے؟
جواب: احناف کے ہاں ماء مشمس کے استعمال کی کراہت مختلف فیہ ہے ۔ راجح یہ ہے کہ مکروہ تنزیہی ہے یہ کراہت بھی تب ہے کہ گرم علاقہ میں اور گرم وقت میں ہو اور سونے چاندی کے سوا کسی دوسری دھات کے برتن میں ہو اور گرم ہونے کی حالت ہی میں استعمال کرے ۔
قال في العلائية وبماء قصد تشميسه بلا كراهة.
وفي الشامية وذكر شروط كراهته عندهم (الشافعية) وهي ان يكون بقطر حار وقت الحرفى اناء منطبع غير نقد وان يستعمل وهو حار (إلى قوله ) وفي الغاية كره بالمشمس فى قطر حار فى اوان منطبعة ( الى قوله) ان المعتمد الكراهة عندنا لصحة الاثر وان عدمها رواية والظاهر انها تنزيهية عندنا ايضا بدليل عده في المندوبات فلا فرق حينئذ بين مذهبنا ومذهب الشافعي (رد المحتار م )
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved