• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

ہفتہ وار چھٹی کے دن کی تنخواہ کاٹنے کا حکم

استفتاء

میں ایک اکیڈمی/ادارے میں ملازمت کرتا ہوں جہاں کام کے دن پیر سے ہفتہ تک ہوتے ہیں، جبکہ اتوار (Sunday) باقاعدہ ہفتہ وار چھٹی شمار ہوتا ہے۔ ادارے کا ایک اصول یہ ہے کہ اگر کوئی ملازم ہفتہ (Saturday)   کو چھٹی کر لے یا پیر (Monday) کو چھٹی کر لے تو درمیان میں آنے والا اتوار (جو کہ آفیشل ویکلی آف ہے) بھی غیر حاضری میں شمار کر کے اس دن کی تنخواہ کاٹ لی جاتی ہے۔ یعنی ادارہ اس کو “sandwich rule”سینڈوچ رول کہتا ہے۔حالانکہ اتوار کو ہم ویسے بھی کام پر نہیں آتے اور وہ ادارے کی طرف سے باقاعدہ تعطیل شدہ دن ہے۔میرا سوال یہ ہے کہ کیا شرعاً کسی ملازم کی باقاعدہ ہفتہ وار چھٹی کے دن کی تنخواہ اس بنیاد پر کاٹنا جائز ہے کہ اس نے اس سے پہلے یا بعد والے دن چھٹی کی تھی؟کیا ایسا کرنا ملازم کے حق میں زیادتی یا ناانصافی میں شمار ہوگا؟

اگر ملازمت کے معاہدے یا ادارے کی پالیسی میں یہ اصول لکھا ہو، تو کیا پھر بھی شرعاً اس پر عمل درست ہوگا؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ طریقے سے اتوار کی چھٹی کی تنخواہ کاٹنا جائز نہیں کیونکہ یہ مالی جرمانہ کی صورت ہے جو کہ شرعاً ناجائز ہے نیز پہلے سے معاہدہ میں شرط لگانے کے باوجود بھی یہ صورت ناجائز ہی رہے گی۔

شرح المجلہ (مادہ:97) میں ہے:

لا يجوز لأحد ان ياخذ مال احد بلا سبب شرعى.

البحر الرائق (5/44) میں ہے:

وفي شرح الآثار ‌التعزير ‌بالمال ‌كان في ابتداء الإسلام ثم نسخ. اهـ.

والحاصل أن المذهب عدم التعزير بأخذ المال

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved