• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

مرحوم نے جس مسجد و مدرسہ کو دینے کی وصیت کی ہو کیا اسی کو دینا ضروری ہے ؟وراثت و وصیت سے متعلق کچھ سوالات

استفتاء

میرے دادا جان نے اس دار فانی سے رخصت ہونے سے پہلے ایک وصیت کی تھی کہ میری جائیداد کا تیسرا حصہ فلاں مسجد و مدرسہ کو دے دیا جائے۔ وصیت نامہ ساتھ لف ہے۔  اب چونکہ وراثت میں دادا جان ایک عدد مکان، ایک عدد پلاٹ اور کچھ قرض جو کہ اپنی چھوٹی بیٹی سے لینا ہے چھوڑ گئے ہیں اب پوچھنا یہ ہے کہ :

(1)تیسرے حصہ کی وصیت میں یہ تینوں چیزیں شامل ہوں گی یا نہیں؟  کیونکہ وصیت میں واضح الفاظ کے ساتھ ذکر نہیں ہے ، نیز اسی مسجد و مدرسہ کو دینا ضروری ہوگا جس کا نام لکھا ہے یا کسی اور مسجد و مدرسہ میں بھی دے سکتے ہیں؟

(2) اگر اولاد میں سے کوئی شخص   اپنی مالی کمزوری کی وجہ سے وصیت نہ مانے تو اس کا کیا حکم ہے؟

(3) ایک بیٹا تقریبا عرصہ 23 سال شادی کے بعد اپنے والد کے ساتھ رہا اس دوران گھر کا جو سامان مشترکہ بنا اس کا کیا حکم ہے اس دوران گھر کی تعمیر کا کام کروانے کے لیے تقریبا ایک لاکھ روپے دیے اس کا کیا حکم ہے ؟واضح رہے کہ دادا جان گھر کے سربراہ تھے بیٹے اپنی کمائی میں سے لا کر ان کو گھر کا  خرچ  چلانے کے لیے دیتے تھے  ۔

(4)دادا جان نے اگر اپنی زندگی میں کسی بیٹے یا بیٹی کو کوئی چیز دی ہو لیکن وہ چیز اسی گھر میں موجود ہے اس کا کیا حکم ہے کیا وہ بھی وراثت کی تین چیزوں میں شامل ہے  یا  نہیں  ؟مثلا گندم رکھنے والا  ایک بڑا برتن ایک بیٹے کو دیا ۔ ایک بیٹے  کو( جو اسی گھر میں ان کے ساتھ رہتا تھا ) شادی پر  کہا تھا کہ چونکہ تمہارے  سسرال سے برتن نہیں آئے تو یہ سمجھو کہ یہ  برتن  ( جو گھر میں استعمال ہورہے ہیں )تمہارے ہیں۔

(5)اگر کسی بیٹے یا بیٹی نے شادی سے پہلے یا شادی کے بعد اپنی ذاتی رقم سے گھر کی کوئی چیز بنائی ہو اور وہ اس گھر میں موجود ہو اس کا کیا حکم ہے مثلا ایک بیٹے نے  دادا کے ساتھ رہتے ہوئے جبکہ گھر کے سربراہ دادا تھے ایک برتن کا سیٹ دیا  اسی طرح ایک بیٹی نے ذاتی کمائی سے ایک صوفہ اور ایک ٹیبل گھر میں لا کر دیا ان کا کیا حکم ہے ؟

(6)گھر کے چھوٹے سامان مثلا برتن بستر چارپائی کپڑے وغیرہ کی تقسیم کیسے کی جائے ؟

(7) میں نے دادا ابو کی ڈائری میں خود پڑھا ہے کہ انہوں نے اپنی بیٹی  زنیب  کو پانچ تولہ سونا اور نو لاکھ روپے قرض دیے ہیں لیکن وہ بیٹی اس قرض سے لاعلمی ظاہر کرتی ہے اور کہتی ہے کہ میرے شوہر نے قرض لیا ہوگا ان کے شوہر یعنی ہمارے پھوپھا صرف سات لاکھ روپے لینے کا اقرار کرتے ہیں باقی کا انکار کرتے ہیں جبکہ دادا نے یہ بات کہ میں نے زینب کو پانچ تولہ سونا اور نو لاکھ روپے دیے ہیں اپنے بیٹے زید ( سائل کے والد )اور دوسرے بیٹے بکر (سائل کے چچا )کو خود بتائی تھی اور یہ بھی کہا تھا کہ میں نے یہ قرض معاف نہیں کیا پوچھنا یہ ہے کہ اس بیٹی کے وراثتی حصے سے اس قرض کی کٹوتی کی جائے گی ؟براہ مہربانی  شرعی اصولوں کی روشنی میں راہنمائی فرمائیں ۔

وصیت نامہ کی عبارت:

 ………………… ميرے بعد   میری اہلیہ تاحیات موجودہ رہائش گاہ میں رہے گی۔ نیر میری جائیداد کا تیسرا حصہ دارالعلوم جامعہ اسلامیہ اور جامع مسجد ابرار گلی نمبر 56 تاجپورہ روڈ غازی آباد مغل پورہ لاہور میں دیا جائے۔ باقی جائیداد شریعت کے مطابق تقسیم ہو۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

(1)مذکورہ صورت میں  مکان اور پلاٹ شامل ہوگا قرض شامل نہ ہوگا کیونکہ ہمارے عرف میں جائیداد کا لفظ عموماً غیر منقولہ اشیاء پر بولا جاتا ہے۔  نیز مذکورہ جائیداد کا تیسرا حصہ اسی مسجد ومدرسہ کو دینا ہوگا جس کا نام لکھا ہے کسی اور مسجد ومدرسہ کو دینا درست نہیں ہے۔

(2)ایک تہائی وراثت کی وصیت کرنے کا حق شریعت کی طرف سے ہے جو کسی وارث کے ماننے  نہ ماننے پر موقوف نہیں۔

(3)  یہ سب وراثت میں شمار ہوگا۔

(4) وہ  چیز اسی کی ہوگی جسے دی ہے وراثت میں شامل نہ ہوگی۔

(5) یہ چیزیں بھی وراثت میں شامل ہوں گی۔

(6)  ان کی قیمت لگوا کر کسی ایک وارث کو ان کے  حصے میں دیدی جائیں یا انہیں فروخت کرکے ان کی قیمت کو تقسیم   کرلیا جائے۔

(7)  مذکورہ صورت میں مذکورہ تحریر بیٹی یا اس کے شوہر کے ذمے قرض ثابت کرنے لیے کافی نہیں جب تک کہ بیٹی یا اس کا شوہر  خود اقرار نہ کریں یا جب تک بیٹوں کے پاس اس قرض کو ثابت کرنے کے لیے معتبر گواہ نہ ہوں۔ یہ دنیاوی حکم ہے تاہم اگر واقعتاً قرض لیا تھا اور وہ نہ اد اکیا اور نہ مرحوم نے معاف کیا تو آخرت میں دینا پڑے گا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved