• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

حرام کی کمائی والوں کیساتھ کمیٹی ڈالنے کا حکم

استفتاء

1۔ یہ جو باہمی تعاون کیلئے کمیٹی ڈالتے ہیں ان میں اگر کسی ایک ممبر کی کمائی حرام ہو تو کیا ایسی جگہ کمیٹی ڈال سکتے ہیں؟

2۔ اگر ممبرز کی کمائی کے بارے میں تحقیق نہ ہو تو ایسی جگہ کمیٹی ڈال سکتے ہیں؟

3۔ اگر کسی شخص کی کمیٹی نکلے اور وہ یوں کرے کہ حرام آمدنی والے ممبر کے جتنے پیسے کمیٹی میں شامل ہوں اتنے پیسے وہ شخص کل کمیٹی سے نکال لے کام میں نہ لائے، اپنے پاس رکھ لے پھر اگلے ماہ وہ رقم کمیٹی کی قسط کے طور پر واپس کر دے یا کمیٹی لیتے ہی وہ حرام کمائی کے بقدر رقم بطور ایڈوانس قسط کے واپس کر دے یا کمیٹی کے پیسوں پر قبضے سے پہلے ہی مذ کورہ رقم بطور ایڈوانس قسط کے کٹوالے تو ان میں سے کون سی صورت جائز ہے؟ جبکہ وہ حرام کمائی والے شخص کے پیسوں سے نفع نہیں اٹھا رہا۔

وضاحت مطلوب ہے :1۔ حرام کمائی کی کیا صورت ہے؟2۔ کیا اس شخص کا حرام کے علاوہ کوئی ذریعہ آمدن ہے؟ اگر ہے تو آمدنی میں زیادہ حصہ کس کا ہے؟

جواب وضاحت:1۔ ایک ممبر اداکار ہے۔ ڈرامے وغیرہ بناتا ہے جس میں میوزک اور نامحرم بھی ہوتے ہیں۔ 2۔اس کی کمائی صرف یہی ہے۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

1۔ایسی جگہ کمیٹی ڈالنے کی گنجائش ہے لیکن بہتر  یہ ہے کہ ایسی جگہ کمیٹی نہ ڈالی جائے ۔

توجیہ: امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک چونکہ  خلط استہلاک  ہے لہٰذا جب کمیٹی جمع کرنے والا ان پیسوں کو باقی پیسوں کے ساتھ ملائے گا تو استہلاک کی وجہ سے کل مال میں حلت آجائے گی اور اصل مالک پر ضمان آجائے گا  لہذا  کمیٹی لینے والے کے لیے ان پیسوں میں حرمت نہ آئے گی  ۔

2۔ ایسی  جگہ کمیٹی ڈالنے میں کوئی حرج  نہیں ۔

3۔چونکہ ویسے ہی گنجائش ہے اس لیے ان حیلوں کی  ضرورت نہیں۔

ہندیہ (5/ 342) میں ہے:

لو أن فقيرا ‌يأخذ ‌جائزة ‌السلطان مع علمه أن السلطان يأخذها غصبا أيحل له؟ قال إن خلط ذلك بدراهم أخرى، فإنه لا بأس به، وإن دفع عين المغصوب من غير خلط لم يجز قال الفقيه – رحمه الله تعالى – هذا الجواب خرج على قياس قول أبي حنيفة – رحمه الله تعالى – لأن من أصله أن الدراهم المغصوبة من أناس متى خلط البعض بالبعض، فقد ملكها الغاصب ووجب عليه مثل ما غصب وقالا لا يملك تلك الدراهم وهي على ملك صاحبها فلا يحل له الأخذ، كذا في الحاوي للفتاوى.

امداد الفتاوی جدید(9/123) میں ہے:

سوال: زید اپنے برادران اور باپ کی شرکت میں رہتا ہے مگر جانتا ہے کہ باپ بھائی رشوت لیتے ہیں۔ خانہ داری کی مشارکت کے باعث ماہوار کے حساب سے زید گھر میں برابر دیتا ہے، مگر اس کی کمائی اور بھائیوں کی رشوت کی رقم سب مشترک تصرف میں آتی ہے، یہ صورت اس کو جائز ہے یا نہیں ؟

الجواب: خلط استہلاک ہے اور استہلاک موجب مِلک۔ پس اگر سب کی رقمیں مختلط اُٹھتی ہیں تو مملوک مشترک ہیں فتویٰ سے جائز ہے گو تقویٰ کے خلاف ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved