• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

بیوی، ایک بیٹے، دو بیٹیوں اور والدین میں وراثت کی تقسیم جبکہ والدہ وراثت میں سے حصہ لینے سے انکار کررہی ہیں۔

استفتاء

میرے بہنوئی زید مرحوم انتقال فرما گئے ہیں۔مرحوم کے نام ایک پانچ منزلہ زمین/ عمارت موجود ہے جو ان کی ذاتی ملکیت تھی۔اب ان کے انتقال کے بعد ہم ان کی جائیداد کو شرعی اصولوں کے مطابق ان کے ورثاء میں منتقل کرنا چاہتے ہیں۔مرحوم کے ورثا  میں ایک بیٹا ، دو بیٹیاں ، ایک زوجہ  اور  والدین ہیں۔

براہ کرم قرآن و سنت کی روشنی میں رہنمائی  فرمائیں کہ مذکورہ جائیداد کس طرح اور کس تناسب سے ان تمام ورثاء میں تقسیم ہوگی ؟

نوٹ : مرحوم کی والدہ کہہ رہی  ہیں کہ میں نے اپنا حصہ نہیں لینا اس کا شرعی حکم کیا ہے ؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں  مرحوم کی کل جائیداد کے  96 حصے کیے جائیں گے جن میں سے بیوہ کو 12 حصے (12.5 فیصد) والدہ کو 16 حصے (16.66 فیصد) والد کو 16 حصے (16.66 فیصد) دو بیٹیوں میں سے ہر  بیٹی کو 13 حصے (13.54 فیصد )اور بیٹے کو 26 حصے (27.083 فیصد) دیے جائیں گے۔

نوٹ: والدہ اگر اپنا حصہ  نہیں لینا چاہتی تو و ہ اپنا  حصہ جس وارث کو دینا چاہتی ہیں اس کو ہدیہ کردیں اور اگر تمام ورثاء کو دینا چاہتی ہیں تو تمام کو ہدیہ کردیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved