- فتوی نمبر: 35-204
- تاریخ: 29 مئی 2026
- عنوانات: حدیثی فتاوی جات > تحقیقات حدیث
استفتاء
عوام میں یہ بات مشہور ہے کہ قربانی کے جانور کا خون زمین پر گرنے سے پہلے ہی اللہ تعالیٰ کے پاس پہنچ جاتا ہے اور وہ جانور جنت میں پہنچ جاتا ہے۔
کیا یہ بات درست ہے؟ شریعتِ مطہرہ میں اس کی کیا حقیقت ہے؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
حدیث سے یہ بات ثابت ہے کہ قربانی کے جانور کا خون زمین پر گرنے سے پہلے اللہ تعالی کے ہاں پہنچ جاتا ہے اور اس سے مراد یہ ہے کہ وہ اللہ تعالی کے ہاں قبول ہو جاتا ہے البتہ یہ بات کہ وہ جانور جنت میں پہنچ جاتا ہے اس طرح کے الفاظ حدیث میں نہیں ملے بلکہ حدیث میں یہ الفاظ ملتے ہیں کہ وہ جانور قیامت کے دن اپنے سینگوں، کھروں اور بالو ں سمیت پیش ہوگا۔
سنن ترمذی (2/716) میں ہے:
حدثنا أبو عمرو مسلم بن عمرو بن مسلم الحذاء المدني قال: حدثنا عبد الله بن نافع الصائغ أبو محمد، عن أبي المثنى، عن هشام بن عروة، عن أبيه، عن عائشة، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «ما عمل آدمي من عمل يوم النحر أحب إلى الله من إهراق الدم، إنه ليأتي يوم القيامة بقرونها وأشعارها وأظلافها، وأن الدم ليقع من الله بمكان قبل أن يقع من الأرض، فطيبوا بها نفسا
هذا حديث حسن غريب، لا نعرفه من حديث هشام بن عروة إلا من هذا الوجه
ترجمہ: حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دس ذوالحجہ کو ابن آدم کوئی ایسا عمل نہیں کرتا جو اللہ تعالی کو خون بہانے سے زیادہ پسندیدہ ہو اور قیامت کے دن قربانی کا جانور سینگوں، کھروں اور بالوں سمیت پیش ہوگا اور خون زمین پر گرنے سے پہلے اللہ تعالی کے ہاں مقام قبولیت حاصل کر لیتا ہے اس لیے خوش دلی سے قربانی کیا کرو۔
مرقاۃ المفاتیح (3/519) میں ہے:
قوله: (وإن الدم ليقع من الله) أي: من رضاه (بمكان) أي: بموضع قبول. (قبل أن يقع بالأرض) أي: يقبله تعالى عند قصد الذبح قبل أن يقع دمه على الأرض. (فطيبوا بها أي: بالأضحية. (نفسا) : تمييز عن النسبة. قال ابن الملك: الفاء جواب شرط مقدر أي: إذا علمتم أنه تعالى يقبله ويجزيكم بها ثوابا كثيرا، فلتكن أنفسكم بالتضحية طيبة غير كارهة لها، وأما قول ابن حجر: فطيبوا بها أي: بثوابها الجزيل نفسا أي: قلبا. أي: بادروا إليها فلا يخفى بعده
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved
