- فتوی نمبر: 36-93
- تاریخ: 22 جولائی 2026
- عنوانات: عبادات > حج و عمرہ کا بیان > حلق و قصر کے احکام
استفتاء
میں نے نومبر 2025 میں دو عمرے کیے اور ہر بار صرف ایک لٹ بالوں کی چند سینٹی میٹر کاٹی۔ مجھے یقین نہیں کہ میں نے کتنے بال کاٹے تھے۔ مجھے معلوم نہیں تھا کہ چوتھائی بال کاٹنا ضروری ہوتا ہے۔اس کے علاوہ میں نے ستمبر 2024 میں بھی ایک عمرہ کیا تھا، جس میں میں نے صرف ایک لٹ ہی کاٹی تھی۔ مسجدِ حرام میں ایک عورت تھیں جنہوں نے اسی طرح بال کاٹے تھے۔جنوری 2026 میں میں ہیئر ڈریسر کے پاس گئی تھی اور کافی بال کٹوائے تھے، لیکن احرام سے نکلنے کی نیت سے نہیں۔اب میں نے سنا ہے کہ دیگر فقہی مذاہب میں چند بال کاٹنا ہی کافی ہوتا ہے۔ مجھے معلوم نہیں تھا کہ فقہِ حنفی میں اس کا حکم مختلف ہے۔ اور اب میں سوچ رہی ہوں کہ مجھے کیا کرنا چاہیے؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں اگرآ پ کے غالب گمان میں تینوں مرتبہ انگلی کے پورے کے برابر چوتھائی سر کے بال نہیں کٹے تھے تو آپ کے ذمہ تین دم ہیں جو حدود حرم میں دینے ہوں گے۔
تو جیہ :مذکورہ صورت میں 2024 میں عمرہ کرنے کے بعد جب بالوں کی صرف ایک لٹ کاٹی تھی جو انگلی کے پورے کے برابر چوتھائی سر کے برابر نہیں تھی تو اس سے احرام سے نہیں نکلیں اور 2025 کے پہلے عمرہ تک جتنی بھی جنایات ہوئیں ان سب کے لیے ایک دم لازم ہو گیا پھر جب 2025 میں عمرہ کا احرام باندھا اور سعی سے فارغ ہو کر انگلی کے پورے کے برابر چوتھائی سر سے بال نہیں کاٹے اور تیسرا عمرہ شروع کر لیا تو احرام علی الاحرام علی التراخی کی وجہ سے دوسرا دم بھی لازم ہو گیا دوسرے اور تیسرے عمرے کے درمیان اگر احرام علی الاحرام کے علاوہ بھی جنایات ہوئیں ہیں تو ان سب کے لیے ایک دم کافی ہے البتہ آخر میں بھی مطلوبہ مقدار سے کم بال کاٹنے کی وجہ سے ابھی تک احرام سے نہیں نکلیں اور 2026 تک اس تیسرے عمرے میں جتنی بھی جنایات ہوئیں ان سب کے لیے تیسرا دم بھی لازم ہو گیا پھر جب 2026 میں ہیئر ڈریسر کے پاس گئیں اور کافی بال کٹوائے تو تینوں عمروں کے احرام سے نکل گئیں۔ لہٰذا مذکورہ خاتون کو حدود حرم میں تین دم دینے لازم ہوں گے ۔
نوٹ :دم سے مراد قربانی کی شرائط والے تین بکرے ہیں جن کا حدود حرم میں ذبح ہونا ضروری ہے۔
بدائع الصنائع (3/95) میں ہے:
أن الحلق أو التقصير، واجب لما ذكرنا فلا يقع التحلل إلا بأحدهما، ولم يوجد فكان إحرامه باقيا فإذا غسل رأسه بالخطمي فقد أزال التفث في حال قيام الإحرام فيلزمه الدم، والله أعلم
شامی (3/585) میں ہے:
واعلم أن المحرم إذا نوى رفض الإحرام فجعل يصنع ما يصنعه الحلال من لبس الثياب والتطيب والحلق والجماع وقتل الصيد فإنه لا يخرج بذلك من الإحرام، وعليه أن يعود كما كان محرما، ويجب دم واحد لجميع ما ارتكب ولو كل المحظورات، وإنما يتعدد الجزاء بتعدد الجنايات إذا لم ينو الرفض، ثم نية الرفض إنما تعتبر ممن زعم أنه خرج منه بهذا القصد لجهله مسألة عدم الخروج، وأما من علم أنه لا يخرج منه بهذا القصد فإنها لا تعتبر منه
غنیۃ الناسک (ص: 372) میں ہے:
وأما فى التراخي بأن احرم باخرى بعد ان يفرغ من السعى للاولى قبل الحلق فتلزمه الثانية باتفاق الثلاثة ولا يرفضها وعليه دم الجمع وان حلق للاولى قبل الفراغ من الثانية لزمه دم آخر اتفاقا ولو بعده لا
مناسک ملا علی قاریؒ (ص:392) میں ہے:
(إعلم انه حيثما أطلق الدم) ………. (فالمراد الشاة ….) (اما شرائط جواز الدماء) …… (فالاول منها) أى من الشرائط (أن يكون ثنيا) ……. ومن الشاة ما دخل في الثانية (فما فوقه) …….. (اوجذع من الضأن) ……. (والثاني أن يكون) أى الهدى (سالما من العيوب) أى المعتبرة في الاضحية.
احسن الفتاوی(4/546) میں ہے:
سوال :میں کچھ عرصہ سے جدہ میں مقیم ہوں گزشتہ عرصہ میں کئی عمرے کیے میں نے اور میرے ساتھیوں نے دوسرے لوگوں کو دیکھا دیکھی چند بال کٹوانے پر ہی اکتفا کیا اب پتہ چلا کہ یہ درست نہیں حضرت مطلع فرمائیں کہ میں اور دوسرے صاحبان اب کیا کریں یہ غلطی کئی مرتبہ ہوئی ہے ۔بینوا وتوجروا
الجواب :اگر انگلی کے پورے کی لمبائی کے برابر بال کاٹے جا سکتے ہوں تو چوتھائی سر کے بال پورے کی لمبائی کے برابر کاٹنے سے حلال ہو جائے گا ،مگر پورے سر کے بال برابر کرنا واجب ہے اگر پورے کی لمبائی کے برابر بال نہ کاٹے جا سکتے ہوں تو منڈانا ضروری ہے ۔بدون منڈائے احرام نہ کھلے گا ،آپ حدود حرم میں جاکر سر کے بال کاٹ کر یا منڈا کر حلال ہو ں اور جتنی بار شرعی طریقے سے حلال ہوئے بغیر احرام کھولا ہے ہر بار کے لیے دم دیں ،احرام کھولنے کے بعد محظورات احرام میں سے جتنے افعال بھی کیے ہو ں ان پر کوئی دم وغیرہ نہیں، لزعمه انه حلال کذا فی کتب المذهب
معلم الحجاج (ص: 366) میں ہے:
اور اگر پہلے عمرے کی سعی سے فارغ ہونے کے بعد سر منڈانے سے پہلے دوسرے عمرے کا احرام باندھا تو دوسرا عمرہ لازم ہو گیا اور دونوں میں سے کسی کو نہ چھوڑے اور جمع کرنے کی وجہ سے ایک دم لازم ہوگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved