• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

مطلقہ کے دوسرے شوہر کی بیٹیوں سے نکاح کا حکم

استفتاء

خاوند  نے بیوی کو طلاق دی اب اس بیوی نے دوسری شادی کرلی کیا پہلا خاوند دوسرے والے خاوند کی بیٹیوں سے اپنے بیٹوں کی شادی کرسکتا ہے؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں اگر پہلے خاوند کے بیٹے  مطلقہ بیوی سے ہیں تو دوسرے خاوند کی جو بیٹیاں پہلے خاوند  کی مطلقہ  سے نہیں ہیں ان بیٹیوں سے پہلا خاوند اپنے بیٹوں کا نکاح کرسکتا ہے اور دوسرے خاوند کی جو بیٹیاں اسی مطلقہ عورت سے ہیں ان سے نہیں کرسکتا کیونکہ وہ ماں شریک بہن بھائی ہیں۔ اور اگر پہلے خاوند کے بیٹے مطلقہ بیوی سے نہیں ہیں تو دوسرے خاوند کی بیٹیوں سے پہلا خاوند اپنے بیٹوں کا نکاح کرسکتا ہے خواہ وہ بیٹیاں مطلقہ  بیوی سے ہوں یا کسی اور  بیوی سے ۔

المبسوط للسرخسی (4/198) میں ہے:

والثالث ‌الأخوات تثبت حرمتهن بقوله تعالى {وأخواتكم} [النساء: 23] وهن أصناف ثلاثة الأخت لأب وأم والأخت لأب والأخت لأم وهن محرمات بالنص فالأختية عبارة عن المجاورة في الرحم أو في الصلب فكان الاسم حقيقة يتناول الفرق الثلاث

ہندیہ (1/273) میں ہے:

(الباب الثالث في بيان المحرمات) ………. ‌وأما ‌الأخوات ‌فالأخت لأب وأم والأخت لأم وكذا بنات الأخ والأخت وإن سفلن

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved