- فتوی نمبر: 35-237
- تاریخ: 29 مئی 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > نکاح کا بیان > جن عورتوں سے نکاح جائز ہے
استفتاء
کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک عورت ہندہ ہے، اس کی ایک بیٹی (زینب ) اور تین بیٹے (زید، عمر اور بکر ) ہیں۔ زینب کی شادی صادق سے ہوئی، جس سے اس کے ہاں دو بیٹیاں (کلثوم ، عارفہ) اور ایک بیٹا (سیف اللہ ) پیدا ہوا۔بعد ازاں ہندہ نے زینب کی اولاد میں سے کلثوم اور سیف اللہ کو دودھ پلایا، جس کی وجہ سے وہ دونوں ہندہ کی رضاعی اولاد شمار ہوئے۔مزید یہ کہ ہندہ کے بیٹے زید کا ایک بیٹا ہے جس کا نام خالد ہے۔
اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ کیا زینب کی دوسری بیٹی عارفہ کا نکاح زید کے بیٹے خالد کے ساتھ شرعاً جائز ہے یا نہیں؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں زینب کی بیٹی عارفہ کا نکاح زید کے بیٹے خالد سے جائز ہے۔
توجیہ: چونکہ ہندہ کا دودھ اس کی نواسی کلثوم اور نواسے سیف اللہ نے پیا ہے لہذا رضاعت کا رشتہ بھی صرف انہی دو سے قائم ہوا ہے ان کے باقی بہن بھائیوں سے قائم نہیں ہوا لہذا کلثوم اور سیف اللہ کا نکاح تو ہندہ کی اولاد اور اولاد کی اولاد سے جائز نہیں لیکن خالد کا نکاح زینب کی بیٹی عارفہ سے جائز ہے۔
ہندیہ (2/181) میں ہے:
يحرم على الرضيع أبواه من الرضاع وأصولهما وفروعهما من النسب والرضاع جميعا حتى أن المرضعة لو ولدت من هذا الرجل أو غيره قبل هذا الإرضاع أو بعده أو أرضعت رضيعا أو ولد لهذا الرجل من غير هذه المرأة قبل هذا الإرضاع أو بعده أو أرضعت امرأة من لبنه رضيعا فالكل إخوة الرضيع وأخواته وأولادهم أولاد إخوته وأخواته وأخو الرجل عمه وأخته عمته وأخو المرضعة خاله وأختها خالته وكذا في الجد والجدة
شامی (4/393) میں ہے:
(فيحرم منه) أي بسببه (ما يحرم من النسب) رواه الشيخان
(قوله ما يحرم من النسب) معناه أن الحرمة بسبب الرضاع معتبرة بحرمة النسب
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved
