- فتوی نمبر: 35-249
- تاریخ: 30 مئی 2026
- عنوانات: حظر و اباحت > تبرکات و مقدس اشیاء
استفتاء
اگر غلطی سے قرآن پاک گرجائے اور اس پر پاؤں آجائے تو اس کا کفارہ اور ہدیہ کیا ہے؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
اس کا کفارہ مقرر نہیں ہے۔ اپنی بے احتیاطی پر توبہ واستغفار کریں اور جو مناسب سمجھیں صدقہ دے دیں اور آئندہ پوری احتیاط رکھیں۔
احسن الفتاویٰ (9/34) میں ہے:
سوال: اگر کسی سے قرآن مجید گر جائے تو کیا شرعاً اس کا تدارک ضروری ہے؟مثلا کچھ صدقہ کرے اور توبہ و استغفار کرے،بلا قصد گر جائے تو معصیت تو نہیں ہوگی؟
جواب: صدقہ کرنا شرعاً ضروری نہیں،نفس پر جرمانہ اور ادعی الی التوبہ ہونے کی وجہ سے بہتر ہے،بلا قصد واردہ گرجانے سے معصیت نہیں ہوگی،معہذا صورت معصیت وعدم احتیاط کی وجہ سے توبہ کرنا چاہیے۔
آپ کے مسائل اور ان کا حل(4/491) میں ہے:
سوال: اگر قرآن پاک ہاتھ سے گر جائے تو اس کے برابر گندم خیرات کر دینا چاہیے،اگر کوئی دینی کتاب مثلا: حدیث،فقہ وغیرہ ہاتھ سے گر جائے تو کیا حکم ہے؟
جواب: قرآن کریم ہاتھ سے گرجانے پر اس کے برابر گندم خیرات کرنے کا مسئلہ جو عوام میں مشہور ہے،یہ کسی کتاب میں نہیں۔اس کوتاہی پر توبہ واستغفار کرنا چاہیے اور صدقہ خیرات کرنے کا بھی مضائقہ نہیں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved
