- فتوی نمبر: 35-283
- تاریخ: 01 جون 2026
- عنوانات: عبادات > طہارت > کنویں کا بیان
استفتاء
ہمارے کنویں کی گہرائی 26 فٹ، لمبائی 10 فٹ اور چوڑائی 4 فٹ ہے۔تھوڑی سی نجاست گر گئی ہے، پانی کی کوئی صفت تبدیل نہیں ہوئی تو اب کنویں سے کتنا پانی نکالنا پڑے گا؟ پانی بہت زیاد ہ ہے پانی نکالتے ہی نیچے سے مزید پانی آرہا ہے۔
وضاحت مطلوب ہے: کنویں میں کیا نجاست گری ہے؟
جواب وضاحت: پیشاب کا ٹکڑا یا اور کوئی نجاست گر گئی ہو۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں اگر چھوٹا پیشاب گرا ہو تو سارا پانی نکالنا ہے اور اگر بڑا پیشاب یا کوئی ایسی نجاست گری ہو جو دکھائی دیتی ہو تو پانی نکالنے کے ساتھ ساتھ اس نجاست کا نکالنا بھی ضروری ہے ورنہ کنواں پاک نہیں ہوگا اور اگر سب پانی نہیں نکل سکتا جیسے جیسے پانی نکالتے ہیں ویسے ویسے اس میں اور پانی نکل آتا ہے تو جتنا پانی اس وقت موجود ہے اندازہ کر کے اسی قدر نکال لیں۔
پانی کے اندازہ کرنے کی کئی صورتیں ہیں ایک یہ کہ مثلا 10 فٹ پانی ہے تو ایک دم لگاتار 100 ڈول نکال کر دیکھیں کہ کتنا پانی کم ہوا ہے اگر دو فٹ پانی کم ہوا ہو تو اس حساب سے 500 ڈول پانی ہوا تو کُل 500 ڈول نکالنے سے کنواں پاک ہو جائے گا۔ دوسرا یہ کہ جن لوگوں کو پانی کی پہچان ہو اور اس کا اندازہ کرنا آتا ہو ایسے دو دین دار مسلمانوں سے اندازہ کروا لو جتنا وہ کہیں نکال دیں اور جہاں یہ دونوں صورتیں مشکل ہوں تو 300 ڈول نکال دیں۔
حلبی کبیر (ص: 156) میں ہے:
وإذا وقعت في البئر نجاسة نزحت أى البئر والمراد ماءها وإن كان البئر معينا لا يمكن نزحها الا بعسر وحرج عظيم اخرجوا مقدار ما كان فيها من الماء وقت ابتداء النزح.
ہدایہ (1/88) میں ہے:
وإن كانت البئر معينا لا يمكن نزحها أخرجوا مقدار ما كان فيها من الماء ” وطريق معرفته أن تحفر حفرة مثل موضع الماء من البئر ويصب فيها ما ينزح منها إلى أن تمتلئ أو ترسل فيها قصبة ويجعل لمبلغ الماء علامة ثم ينزح منها عشر دلاء مثلا ثم تعاد القصبة فينظر كم انتقص فينزح لكل قدر منها عشر دلاء وهذان عن أبي يوسف رحمه الله وعن محمد رحمه الله نزح مائتا دلو إلى ثلثمائة فكأنه بنى قوله على ما شاهد في بلده وعن أبي حنيفة رحمه الله في الجامع الصغير في مثله ينزح حتى يغلبهم الماء ولم يقدر الغلبة بشيء كما هو دأبه وقيل يؤخذ بقول رجلين لهما بصارة في أمر الماء وهذا أشبه بالفقه
امداد الاحکام (1/385) میں ہے:
پیشاب گرنے کی صورت میں تو صرف کل پانی نکال دینا کافی ہے کہگل وغیرہ نکالنے کی ضرورت نہیں اور پاخانہ کی صورت میں اگر وہ رقیق ہو جس کی نسبت یہ گمان ہو کہ پانی کے اندر منتشر ہو گیا ہوگا تہہ نشین نہ ہوا ہوگا تو اس کا بھی وہی حکم ہے جو پیشاب کا ہے اور اگر غلیظ ہو جس کے تہہ نشین ہونے کا گمان غالب ہو تو کہگل نکالنا بھی ضروری ہے یا یہ کہ پانی نکال کر اتنی مدت تک کنویں کو چھوڑ دیا جائے کہ بظن غالب پاخانہ مٹی ہو جائے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved
