- فتوی نمبر: 35-331
- تاریخ: 01 جون 2026
- عنوانات: حدیثی فتاوی جات > تحقیقات حدیث
استفتاء
قرآن پاک کے مطابق ہر شخص کو دو بار موت دی جائے گی ، دجال جو مردہ زندہ کرے گا وہ دھوکہ ہو گا ، کیونکہ دجال کا مطلب ہے جھوٹا ، اس کی آگ پانی اور پانی آگ ہو گی ۔ لیکن حضرت عیسی علیہ السلام کے ذریعے جن مردوں کو زندہ کیا گیا تھا تو كيا ان کو تین بار موت آئى ؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
جن لوگوں کو موت آنے کے بعد دوبارہ زندہ کیا گیا جیسے وہ لوگ جن کو حضرت عیسیؑ کے واسطے سے زندہ کیا گیا ،یا بنی اسرائیل میں جس مقتول کے لیے گائے ذبح کرنے کا حکم ملا تھا اور اس نے زندہ ہو کر بتا دیا کہ میرا قاتل فلاں ہے وغیرہ اس طرح کے لوگ چونکہ تعداد میں بہت کم ہیں لہذا ان کا لحاظ کیے بغیر عمومی ضابطہ یہ بتایا گیا کہ دو موتیں اور دو زندگیاں اگرچہ بعض کو تین موتیں اور تین زندگیاں دی گئی ہوں۔
الروح لابن القیم (ص:43) میں ہے:
وأما استدلاله بقوله تعالى {قالوا ربنا أمتنا اثنتين وأحييتنا اثنتين} فلا ينفي ثبوت هذه الإعادة العارضة للروح في الجسد كما أن قتيل بني إسرائيل الذي أحياه الله بعد قتله ثم أماته لم تكن تلك الحياة العارضة له للمساءلة معتدا بها فإنه يحيى لحظة بحيث قال فلان قتلنى ثم خر ميتا ۔
تفسیر الرازی (2/ 377) میں ہے:
المسألة الرابعة: قال الحسن رحمه الله قوله: كيف تكفرون بالله يعني به العامة، وأما بعض الناس فقد أماتهم ثلاث مرات نحو ما حكى في قوله: أو كالذي مر على قرية وهي خاوية على عروشها [البقرة: 259] إلى قوله: فأماته الله مائة عام ثم بعثه وكقوله: ألم تر إلى الذين خرجوا من ديارهم وهم ألوف حذر الموت فقال لهم الله موتوا ثم أحياهم [البقرة: 243] ….. الخ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved
