• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

10 محرم کے واقعات کی تحقیق

استفتاء

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام درایں مسئلہ کہ:

1۔ 10 محرم کے حوالے سے بہت سے تاریخی واقعات مشہور ہیں مثلا حضرت آدم ؑ کی توبہ قبول ہونا،حضرت ابراہیم ؑ کی پیدائش اور نار نمرود سے نجات،موسی ؑ کی قوم کو نجات وغیرہ آیا یہ واقعات درست ہیں؟ نیز اور بھی اس دن کے حوالے سے مشہور واقعات ذکر کر دیں۔

2۔ابتداء سے یہ دن خوشی کے اعتبار سے معروف ہے یا غم کے اعتبار سے ؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

1۔دس محرم کے دن مختلف واقعات پیش آئے جو مندرجہ ذیل ہیں:

(۱)حضرت آدم ؑ کی توبہ قبول کی گئی،(۲)حضرت ابراہیم ؑ پیدا ہوئے،(۳)حضرت موسی ؑ کو فرعون سے نجات ملی،(۴)حضرت نوح ؑ کی کشتی جودی پہاڑ پر ٹھہری،(۵)حضرت یونس ؑ مچھلی کے پیٹ سے نکالے گئے،(۶)حضرت یوسف ؑ گہرے کنویں سے نکالے گئے،(۷)حضرت عیسی ؑ  پیدا ہوئے اور دس محرم کے دن انہیں آسمانوں کی طرف اٹھایا گیا،(۸)حضرت داؤد ؑ کی توبہ قبول کی گئی،(۹)حضرت یعقوب ؑ کی بینائی واپس آئی،(۱۰)حضرت سلیمان ؑ کو ملک عظیم عطا کیا گیا،(۱۱)حضرت  ایوب ؑ کی تکلیف اللہ نے دور کر دی۔

2۔ابتداء سے یہ دن غم کے اعتبار سے تو معروف نہیں البتہ یہود اس دن حضرت موسی ؑ اور ان کی قوم کے فرعون  سے نجات پانے کی خوشی میں شکرانے کے طور پر  روزہ رکھتے تھے تو آپ ﷺ نے فرمایا جس کا مفہوم ہے ہم اس کے زیادہ حقدار ہیں کہ ہم اس دن شکرانے کے طور پر روزہ رکھیں اور یہود کی مشابہت سے بچنے کے لیے اس کے ساتھ ایک روزہ اور ملا لیں۔

1۔عمدة القاری (559/10) میں ہے:

النوع الثالث: لم سمي اليوم العاشر عاشوراء؟ اختلفوا فيه، فقيل: لأنه عاشر المحرم، وهذا ظاهر، وقيل: لأن الله تعالى أكرم فيه عشرة من الأنبياء، عليهم الصلاة والسلام بعشر كرامات. الأول: موسى عليه السلام، فإنه نصر فيه، وفلق البحر له، وغرق فرعون وجنوده. الثاني: نوح عليه السلام استوت سفينته على الجودي فيه. الثالث: يونس عليه السلام، أنجي فيه من بطن الحوت. الرابع: فيه تاب الله على آدم عليه السلام، قاله عكرمة. الخامس: يوسف عليه السلام، فإنه أخرج من الجب فيه. السادس: عيسى عليه السلام، فإنه ولد فيه، وفيه رفع. السابع: داود عليه السلام، فيه تاب الله عليه. الثامن: إبراهيم، عليه السلام، ولد فيه. التاسع: يعقوب، عليه السلام، فيه رد بصره. العاشر: نبينا محمد، صلى الله عليه وسلم، فيه غفر له ما تقدم من ذنبه وما تأخر.

هكذا ذكروا عشرة من الأنبياء، عليهم الصلاة والسلام. قلت: ذكر بعضهم من العشرة: إدريس، عليه السلام، فإنه رفع إلى مكان في السماء، وأيوب، عليه السلام، فيه كشف الله ضره، وسليمان عليه السلام، فيه أعطي الملك۔

2۔صحیح بخاری (2/981،رقم الحدیث:2004) میں ہے:

حدثنا ابو معمر:حدثنا عبد الوارث:حدثنا ايوب:حدثنا عبد الله بن سعيد بن جبير عن ابيه، عن ابن عباس رضي الله عنهما قال:قدم النبي صلى الله عليه وسلم المدينة، فرأى اليهود تصوم يوم عاشوراء، فقال: “ما هذا”. قالوا: هذا يوم صالح، هذا يوم نجى الله نبي إسرائيل من عدوهم، فصامه موسى. قال: “‌فأنا ‌أحق ‌بموسى منكم”. فصامه وأمر بصيامه۔

شرح معانی الاثار(ص:338،رقم الحدیث:3227) میں ہے:

حدثنا ابن مرزوق ، قال: ثنا روح ، قال: ثنا ابن جريج ، قال: أخبرني عطاء ، أنه سمع ابن عباس يقول: «‌خالفوا ‌اليهود ، وصوموا يوم التاسع والعاشر»

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved