• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

دستخط کے بغیر طلاق نامہ بیوی کو بھیجنے کا حکم

استفتاء

میں زید  ولد خالد نے اپنی بیوی زینب دختر عمر مرحوم کو چند وجوہات کی بناء پر اسٹام نمبر E-911534 کے توسل سے مؤرخہ24-9-30  کو چند شرائط  سوچ کر  طلاق نامہ لکھ کر  بھیجا جس پر میں  نے اپنے دستخط اور انگوٹھے کا نشان نہیں لگایا کیونکہ میری طلا ق دینے کی نیت نہیں تھی بلکہ نیت یہ تھی کہ میری بیوی  طلاقنامہ دیکھ کر ڈر جائے اور میری شرائط کو قبول کرلے تاکہ میں اس سے رجوع کرکے اس کو واپس گھر لے آؤں اور  اگر وہ شرائط  قبول نہیں کرتی تو پھر  میں مذکورہ اسٹام پر دستخط کرکے یا اپنا نشانِ انگوٹھا  لگا کر اسے طلاق دیدوں لیکن میں نے اپنی شرائط اسٹام پیپر میں نہیں لکھی  تھی،   بعد میں اسی دن چند رشتہ داروں  نے ہماری صلح کروادی اور میری بیوی میری مرضی سے واپس گھر آگئی اور ہمارا رجوع ہوگیا۔اس صورت میں کیا میری بیوی  زینب کو طلاق ہوگئی ہے؟

نوٹ؛ پہلے بھی شوہر نے دو طلاقیں   دو مختلف  مواقع پر دی تھیں دونوں مرتبہ  یہ کہا تھا کہ تم میری طرف سے  فارغ ہو ” دونوں مرتبہ نیا نکاح کیا تھا”یہ طلاقنامہ  میں نے خود اپنے موبائل میں لکھا اور اسٹام فروش سے پرنٹ نکلوا کر بھیج دیاِ۔

طلاقنامہ کی عبارت:

منکہ مسمیٰ زید  ولد خالد………. ساكن مكان نمبر***** کا رہائشی  ہے۔ من مظہ کی شادی زینب  دخترعمر ………… محلہ**** سے بمطابق شریعت محمدی مؤرخہ 2011-04-17 کو سر انجام پائی۔ یہ  کہ من مظہر کے نطفہ سے اور مسماۃ مذکوریہ کے بطن سے 5 بیٹے اور 1 بیٹی ہوئی یہ کہ من مظہر کی بیوی  گھر بسانا نہ چاہتی ہے اور کافی عرصہ سے نامحرم لوگوں کے ساتھ تعلقات بناتی ہے اور اپنے موبائل فون  پر نامحرم لوگوں سے گندی اور نازیبا  گفتگو کرتی رہتی ہے منع کرنے پر لڑائی جھگڑے شور شرابہ کرتی ہے اور بچوں پر اپنا غصہ نکال کر انہیں مارتی پیٹتی ہے۔ یہ کہ اس سے پہلے بھی من مظہر اپنی بیوی کو نا محرم لوگوں سے گفتگو  پر پکڑنے پر 2 بار طلاق دے چکا ہے جس پر من مظہر اور اس کی بیوی کے رشتہ داروں نے بچوں کا واسطہ دے کر دوبارہ رجوع کروادیا……………….. اب مجبور ہو کر اور اپنے بچوں کی بہتر تربیت اور مستقبل کو دیکھتے ہوئے من مظہر ایسی عورت کو اپنے گھر میں رکھنے سے قاصر ہے  یہ کہ من مظہر مسماۃ  مذکوریہ کو طلاق ثلاثہ یعنی طلاق، طلاق، طلاق مسماۃ مذکوریہ کو طلاق دیدی ہے۔ مسماۃ مذکوریہ  کلی طور پر شریعت محمدی کی رو سے من مظہر کے نفس پر حرام ہوگئی ہے اور من  مظہر کا مسماۃ مذکوریہ سے کوئی تعلق واسطہ باقی نہ رہا۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں تیسری طلاق  واقع ہو گئی ہے جس کی وجہ سے بیوی شوہر پر حرام ہو گئی ہے لہذا اب نہ صلح ہو سکتی ہے اور نہ رجوع کی گنجائش ہے۔

توجیہ:شوہرپہلےدوطلاقیں مختلف مواقع پر  دے چکاہے اور ایک  طلاق اس طلاق نامہ  سےہوگئی ہے کیونکہ شوہر   نے خود اقرار  کیا   ہے   کہ یہ طلاق نامہ  اس نےخود لکھا   ہے اور شوہر کے طلاق لکھنے سے طلاق واقع ہوجاتی ہے خواہ اس نے دستخط کیے ہوں یا نہ کیے ہوں۔

شامی (4/442)میں ہے:

“وإن كانت مرسومة يقع الطلاق نوى أو لم ينو ثم المرسومة لا تخلو إما أن أرسل الطلاق بأن كتب: أما بعد فأنت طالق، فكما كتب هذا يقع الطلاق وتلزمها العدة من وقت الكتابة. وإن علق طلاقها بمجيء الكتاب بأن كتب: إذا جاءك كتابي فأنت طالق فجاءها الكتاب فقرأته أو لم تقرأ يقع الطلاق كذا في الخلاصة…………… ‌ولا ‌يحتاج ‌إلى ‌النية في المستبين المرسوم

فتاوى ہندیہ(1/ 473)میں ہے:

«وإن كان الطلاق ثلاثا ‌في ‌الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية»

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved