- فتوی نمبر: 32-275
- تاریخ: 03 جون 2026
- عنوانات: حدیثی فتاوی جات > تشریحات حدیث
استفتاء
1۔يوم ندعو كل اناس بإمامهم [سورة بني اسرائيل،آيت:71]
جس دن ہم ہر ایک انسان کو اس کے امام کے ساتھ بلائیں گے۔
قرآنی آیت کی رو سے امام كون ہے؟
2۔من مات ولم يعرف امام زمانه مات ميتة جاهلية[مسند احمد بن حنبل،جلد2 ص:73] صحيح بخاري جلد 5 ص:13 صحيح مسلم(رقم الحديث:1849)
جو مرجائے اور اپنے وقت کے امام کی معرفت نہ رکھتا ہو اس کی موت جاہلیت کی موت ہوگی۔
حدیث کی رو سے امام وقت کی معرفت سے کیا مراد ہے جس کےبغیر جاہلیت کی موت ہوگی۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
1۔مذکورہ آیت میں امام کے بارے میں تین قول ہیں:
۱۔امام سے مراد آدمی کا اعمال نامہ ہے۔
۲۔امام سے مراد وہ نبی ہے جس کی یہ پیروی کرتا تھا۔
۳۔امام سے مراد وہ آسمانی کتاب ہے جو اس کے نبی پر اتاری گئی تھی۔
ان میں سے پہلا قول زیادہ راجح ہے۔
تفسیر ابن کثیر (5/99) میں ہے:
يوم ندعو كل أناس بإمامهم
وقال ابن زيد: بكتابهم الذي أنزل على نبيهم، من التشريع.
واختاره ابن جرير، وروي عن ابن أبي نجيح، عن مجاهد أنه قال: بكتبهم. فيحتمل أن يكون أراد هذا، وأن يكون أراد ما رواه العوفي عن ابن عباس في قوله: {يوم ندعو كل أناس بإمامهم} أي: بكتاب أعمالهم، وكذا قال أبو العالية، والحسن، والضحاك. وهذا القول هو الأرجح؛ لقوله تعالى: {وكل شيء أحصيناه في إمام مبين}
روح المعانی (8/114) میں ہے:
وأخرج ابن جرير من طريق العوفي عنه رضي الله تعالى عنه أنه قال: بإمامهم بكتاب أعمالهم فيقال: يا أصحاب كتاب الخير يا أصحاب كتاب الشر وروي ذلك عنه أبي العالية والربيع، والحسن، وقرىء «بكتابهم» ولعل وجه كون ذلك إمامهم أنهم متبعون لما يحكم به من جنة أو نار، وقال الضحاك وابن زيد: هو كتابهم الذي نزل عليهم.
وأخرج ابن أبي حاتم وابن مردويه والخطيب في تاريخه عن أنس أنه قال: هو نبيهم الذي بعث إليهم
بیان القرآن (2/389) میں ہے:
{يوم ندعو كل أناس بإمامهم} (اس دن کو یاد کرنا چاہیے) جس روز ہم تمام آدمیوں کو ان کے نامۂ اعمال سمیت (میدان محشر) میں بلاویں گے (اور وہ نامۂ اعمال اڑا دیئے جاویں گے اور پھر کسی کے داہنے اور کسی کے بائیں ہاتھ میں آجاویں گے۔
قوله: فى امامهم نامہ اعمال
اخرجه ابن جرير عن ابن عباس كذا فى الدر المنثور انما سمى بالامام لان كل احد يكون تابعا لما فيه من موجبات الثواب اوالعقاب
معارف القرآن ، مولانا ادریس کاندھلویؒ(4/515) میں ہے:
{يوم ندعو كل أناس بإمامهم} جس دن ہم بلاویں گے ہر فرقہ کو ساتھ ان کے سردار کے چنانچہ فرماتے ہیں اور یاد کرو اس دن کو جب ہم ہر فرقہ کو اس کے پیشوا سمیت بلائیں گے یعنی ہر امت اپنے نبی اور کتاب کے ساتھ بلائی جائے گی اور جو نبی کو نہیں مانتے وہ اپنے سرداروں کے ساتھ بلائیں جائیں گے جن کو وہ اپنا مقتدا اور پیشوا مانتے تھے اس کے بعد تمام آدمیوں کے اعمالنامے ان کے پاس پہنچا دیے جائیں گے۔
2۔” من مات ولم يعرف امام زمانه مات ميتة جاهلية “یہ روایت ہمیں نہ مسند احمد بن حنبل میں ملی اور نہ بخاری ومسلم میں ملی اور نہ ہی حدیث کی کسی اور کتاب میں ملی۔ البتہ مذکورہ کتابوں میں اس کی جگہ مندرجہ ذیل احادیث ملتی ہیں:
چنانچہ صحيح مسلم (رقم الحدیث:1849)میں ہے:
عن ابن عباس، يرويه، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من رأى من أميره شيئا يكرهه فليصبر، فإنه من فارق الجماعة شبرا، فمات، فميتة جاهلية»
ترجمہ: حضرت ابن عباس سے روایت ہے، فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: جو شخص اپنے امیر کی کسی ناپسندیدہ بات کو دیکھے تو اسے چاہیے کہ صبر کرے اس لیے کہ جو شخص جماعت سے ایک بالشت بھی الگ ہوگا وہ جاہلیت کی موت مرے گا۔
صحيح البخاری (رقم الحدیث:7054) میں ہے:
حدثني أبو رجاء العطاردي قال: سمعت ابن عباس رضي الله عنهما عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «من رأى من أميره شيئا يكرهه فليصبر عليه فإنه من فارق الجماعة شبرا فمات، إلا مات ميتة جاهلية.»
ترجمہ: حضرت ابو رجاء عطاریؓ سے روایت ہے انہوں نے حضرت ابن عباس ؓ کو فرماتے ہوئے سنا کہ آپ ﷺ نے فرمایا: جو شخص اپنے امیر کی کسی ناپسندیدہ بات کو دیکھے تو اسے چاہیے کہ صبر کرے اس لیے کہ جو شخص جماعت سے ایک بالشت بھی الگ ہوگا وہ جاہلیت کی موت ہی مرے گا۔
مسند أحمد (رقم الحدیث:2487) میں ہے:
«عن ابن عباس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: “من رأي من أميره شيئا يكرهه فليصبر، فإنه من خالف الجماعة شبرا فمات فميتته جاهلية”
ترجمہ: حضرت ابن عباس سے روایت ہے، فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: جو شخص اپنے امیر کی کسی ناپسندیدہ بات کو دیکھے تو اسے چاہیے کہ صبر کرے اس لیے کہ جو شخص جماعت سے ایک بالشت بھی الگ ہوگا وہ جاہلیت کی موت ہی مرے گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved