• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

بائی پاس پرواقع مسجد میں نماز جمعہ قائم کرنے کا حکم

استفتاء

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ جمعہ کے لیے شہر کی حدود کا اطلاق کہاں سے ہوگا ؟کیونکہ ہمارے علاقے میں جہاں پر اب جمعہ  شروع ہو چکا ہے، وہ جگہ بائی پاس پر ہے اور بائی پاس او رشہر کے درمیان کا فاصلہ تقریبا ایک کلو میٹر کا ہوگا۔ اب بعض حضرات کہتے ہیں کہ بائی پاس پر جمعہ کی نماز نہیں ہوتی ،بعض حضرات فرماتے ہیں کہ جمعہ ہو جاتا ہے ،  شہر اور بائی پاس کے درمیان مارکیٹ بھی ہے ،اور کچھ کھیت بھی ہیں۔  اب آپ سےمعلوم یہ کرنا ہے کہ:

1۔ جمعہ کی نماز یہاں پر ہوگی یا نہیں؟

2۔ اور شہر کی حدود کہاں سےشروع ہوں گی؟

3۔ اور فناء  شہر کی حدود کہاں تک ہیں؟

4۔ اور جمعہ کی شرائط کیا ہیں؟ اور اگر یہاں جمعہ کی شرائط نہ پائی جائیں تو کیا جمعہ کو روکا جائے یا جاری رکھا جائے ؟

وضاحت مطلوب:(1)سائل کا سوال سے کیا تعلق ہے؟(2)جب جمعہ شروع ہو چکا ہے تو اب سوال کرنے کا کیا فائدہ ہے؟

جواب وضاحت :(1)سائل کا گھراس مسجد کے قریب ہے۔(2)کچھ لوگوں کا اس بات پر اختلاف ہواہے۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

1۔ مذکورہ  جگہ پر جمعہ کی نماز نہیں ہوگی ۔

2۔شہر کی حدود شہر کی آبادی سے شروع ہوتی ہیں۔

3۔فناءشہر کی کوئی حد بندی نہیں،  فناءشہر وہ جگہ ہوتی ہے جو شہر یا قصبے کی ضروریات کے لیے تیار کی گئی ہو جیسے قبرستان عید گاہ سرکاری سکول یا ہسپتال وغیرہ ۔

4۔جمعہ کے صحیح ہونے کی متعدد شرائط ہیں جن میں سے  ایک یہ بھی ہے کہ جس جگہ جمعہ کی نماز ادا کی جائے وہ جگہ خود شہر ہو یا  شہر کی فناء ہو ۔

مذکورہ صورت میں چونکہ جمعہ کے صحیح ہونے کی مذکورہ شرط نہیں پائی جا رہی کیونکہ مذکورہ جگہ نہ تو شہر میں داخل ہے کیونکہ مذکورہ مسجد شہر کی آبادی سے تقریبا ایک کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے اور درمیان میں کھیت بھی ہیں جو کہ اتصال سے مانع ہیں اور نہ ہی بائی پاس شہر کی فناء  ہے اس لیے مذکورہ جگہ پر جمعہ کی نماز درست نہیں اور جب جمعہ کی نماز درست نہیں تو اس کو روکا جائے۔

بدائع الصنائع(1/585)میں ہے:

وروي عن أبي حنيفة ‌أنه ‌بلدة ‌كبيرة فيها سكك وأسواق ولها رساتيق وفيها وال يقدر على إنصاف المظلوم من الظالم بحشمه وعلمه أو علم غيره والناس يرجعون إليه في الحوادث وهو الأصح.

ردالمحتار(3/6) میں ہے:

‌والحد ‌الصحيح ‌ما ‌اختاره صاحب الهداية أنه الذي له أمير وقاض ينفذ الأحكام ويقيم الحدود وتزييف صدر الشريعة له عند اعتذاره عن صاحب الوقاية حيث اختار الحد المتقدم بظهور التواني في الأحكام مزيف بأن المراد القدرة على إقامتها على ما صرح به في التحفة عن أبي حنيفة أنه بلدة كبيرة فيها سكك وأسواق ولها رساتيق وفيها وال يقدر على إنصاف المظلوم من الظالم بحشمته وعلمه أو علم غيره يرجع الناس إليه فيما يقع من الحوادث وهذا هو الأصح۔

ردالمحتار  (3/6تا9)میں ہے:

فى الدر المختار:(‌ويشترط ‌لصحتها) ‌سبعة ‌أشياء:الأول: (المصر)…(او فناءه)….(وهو ما) حوله (اتصل به) أو لا (لأجل مصالحه) كدفن الموتى وركض الخيل والمختار للفتوى تقديره بفرسخ ذكره الولوالجى.

وفى رد المحتار: (قوله والمختار للفتوى إلخ) اعلم أن بعض المحققين أهل الترجيح أطلق الفناء عن تقديره بمسافة وكذا محرر المذهب الإمام محمد وبعضهم قدره بها وجملة أقوالهم في تقديره ثمانية أقوال أو تسعة: غلوة،  ميل، ميلان، ثلاثة فرسخ، فرسخان، ثلاثة، سماع الصوت، سماع الأذان، والتعريف أحسن من التحديد لأنه لا يوجد ذلك في كل مصر وإنما هو بحسب كبر المصر وصغره………. فالقول بالتحديد بمسافة يخالف التعريف المتفق على ما صدق عليه بأنه المعد لمصالح المصر فقد نص الأئمة على أن الفناء ما أعد لدفن الموتى وحوائج المصر كركض الخيل والدواب وجمع العساكر والخروج للرمي وغير ذلك وأي موضع يحد بمسافة يسع عساكر مصر ويصلح ميدانا للخيل والفرسان ورمي النبل والبندق البارود واختبار المدافع وهذا يزيد على فراسخ فظهر أن التحديد بحسب الأمصار اهـ.

کفایت المفتی (3/249)میں ہے:

جمعہ کے مسئلے میں شہر سے مراد ایسی بستی ہے جہاں ضرورت کی چیزیں مل جاتی  ہوں تھانہ یا تحصیل اور ڈاکخانہ ہو کوئی عالم یعنی مسائل ضروریہ بتانے والا اور کوئی معالج موجود ہو۔

امداد الفتاوی جدید(3/164)میں ہے:

فناء مصر کی تعریف یہ ہے کہ جس موضع سے مصر کے باشندوں کے مصالح واغراض متعلق ہوں کسی مقدار اور مسافت کی تحدید نہیں ہے۔ علامہ شامیؒ فرماتے ہیں :

 ‌والتعريف ‌أحسن ‌من ‌التحديد؛ لأنه لا يوجد ذلك في كل مصر، وإنما هو بحسب كبر المصر وصغره بيانه أن التقدير بغلوة أو ميل لا يصح في مثل مصر؛ لأن القرافة والترب التي تلي باب النصر يزيد كل منها على فراسخ من كل جانب نعم هو ممكن لمثل بولاق فالقول بالتحديد بمسافة يخالف التعريف المتفق على ما صدقا عليه بأنه المعد لمصالح المصر فقد نص الأئمة على أن الفناء ما أعد لدفن الموتى وحوائج المصر كركض الخيل والدواب وجمع العساكر والخروج للرمي وغير ذلك۔

کفایت المفتی (3/259)میں ہے:

سوال: بڑا گاؤں جس کو اہل علاقہ یعنی اس کے گرد و نواح والے بڑا گاؤں جانتے ہیں اور آبادی اس کی اس وقت ۱۲۵۴ آدمی  شمار میں آئی ہے ایک مدرسہ اور کئی مسجدیں بھی اس گاؤں میں ہیں آیا ایسے گاؤں میں عند الفقہاء  جمعہ و عیدین جائز ہے یا نہیں ؟  بینوا تو جروا ۔

جواب :دیہات میں جمعہ پڑھنا فقہائے حنفیہ کے نزدیک جائز نہیں کیونکہ منجملہ شرائط صحت  جمعہ کے  مصر جامع یا فناء مصر ہے اور مصر جامع وہ جگہ ہے جس میں بازار ‘ سڑکیں اور ایسا حاکم موجود ہو جو  غلبہ کے اعتبار سے ظالم سے مظلوم کا انصاف  لے سکے…….. پس  جو مقام کہ خود مصر ہو یا توابع مصر سے ہو اس میں جمعہ جائز ہے اور جو مقام ایسا نہیں ہے اس میں جمعہ جائز اور صحیح نہیں ہے توابع مصر وہی جگہ ہوسکتی ہے جس سے مصر کے تعلقات وابستہ ہوں اور ضروریات مصر وہاں سے بہم پہنچائی جاتی ہوں  ان دو جگہوں کے علاوہ کسی اور جگہ کے باشندوں پر جمعہ فرض  بھی نہیں اور نہ ان کے ادا کرنے سے ادا ہوگا ہندوستان میں جمعہ صرف ان جگہوں میں جائز ہے جہاں کوئی حاکم مجاز رہتا ہو کسی ایسی بستی میں جہاں کوئی حاکم مجاز نہ ہو جمعہ صحیح نہیں اور نہ وہاں کے باشندوں پر جمعہ فرض ہے۔

احسن الفتاوی (4/73) میں ہے:

اگر بستی سے شہر تک مسلسل عمارات نہیں بلکہ بقدر غلوة (137.16 میٹر) یا اس سے زائد خلا ہے یا درمیان میں زرعی اراضی ہیں تو یہ مستقل آبادی شمار ہوگی اس کے مکانات سے نکلنے پر قصر کا حکم شروع ہوجائے  گا ………. عبارات فقہ میں اتصال آبادی کا کوئی معیار نظر سے نہیں گزرا بظاہر اس کا معیار رؤیت ظاہرہ پر ہے یعنی دیکھنے میں اتصال نظر آئے مگر وجود مزارع یا قدر غلوۃ بہر کیف موجب انقطاع ہے کیونکہ فناء مصر صحت جمعہ میں اگر چہ مطلقا بحکم مصر ہے مگر حکم قصر میں وجود مزارع یا قدر غلوة الحاق بالمصر سے مانع ہے حالانکہ فناء متعلقات مصر سے ہے تو قریہ مستقلہ میں یہ فصل بطریق اولی مانع الحاق ہو گا البتہ فصل مذکور کے باوجود اگر عام عرف میں دو مقام ایک ہی شہر کے دو محلے سمجھے جاتے ہوں تو حکم اتحاد ہو گا۔

امداد الفتاوی(2/531)میں ہے:

وہ (جگہ)اگرکسی شہر یا قریہ سے متصل ہے یعنی شہر سے وہاں تک سلسلہ آبادی کامتصلاً چلاآتا ہے درمیان میں کھیت یا باغ یاکوئی بڑا میدان وجنگل حائل نہیں تو وہ بھی حکم مصر میں ہوگا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved