- فتوی نمبر: 32-295
- تاریخ: 03 جون 2026
- عنوانات: حدیثی فتاوی جات > تحقیقات حدیث
استفتاء
اس حدیث کی کوئی دلیل ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابی سے فرمایا کہ جاؤ اس کو بتاؤ کہ جو شخص داڑھی کاٹے گا وہ میری امت میں سے نہیں ہو گا۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
آپﷺ سے صراحتاً تو یہ بات ثابت نہیں کہ ” جو شخص داڑھی کاٹے گا وہ میری امت میں سے نہیں ہو گا” البتہ دیگر دلائل سے یہ ثابت ہے مثلاً ایک حدیث میں ہے کہ آپﷺ نے فرمایا کہ جو مونچھیں نہ کاٹے وہ ہم میں سے نہیں اور جب مونچھیں نہ کاٹنے والوں کے بارے میں مذکورہ حکم ہے تو داڑھی کاٹنے والے کے حق میں بدرجہ اولیٰ یہ حکم ہوگا۔
سنن ترمذی (رقم الحدیث:2761) میں ہے:
عن زيد بن أرقم، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «من لم يأخذ من شاربه فليس منا» وفي الباب عن المغيرة بن شعبة: «هذا حديث حسن صحيح»
ترجمہ: زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو مونچھیں نہ کٹوائے وہ ہم میں سے نہیں۔
آپ کے مسائل اور ان کا حل (7/78) میں ہے:
عن زید بن أرقم رضی الله عنه أن رسول الله صلی الله عليه وسلم قال: من لم یأخذ من شاربه فلیس منا۔” (رواہ احمد والترمذی والنسائی، مشکوٰة ص:۳۸۱)
ترجمہ: زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو مونچھیں نہ کٹوائے وہ ہم میں سے نہیں۔
(اس ) حدیث میں فرمایا گیا ہے کہ جو لوگ مونچھیں نہیں کٹواتے وہ ہماری جماعت میں شامل نہیں، ظاہر ہے کہ یہی حکم داڑھی منڈانے کا ہے، پس یہ ان لوگوں کے لئے بہت ہی سخت وعید ہے جو محض نفسانی خواہش یا شیطانی اغوا کی وجہ سے داڑھی منڈاتے ہیں، اور اس کی وجہ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان کے لئے اپنی جماعت سے خارج ہونے کا اعلان فرما رہے ہیں، کیا کوئی مسلمان جس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ذرا بھی تعلق ہے، اس دھمکی کو برداشت کرسکتا ہے؟۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved