- فتوی نمبر: 32-298
- تاریخ: 03 جون 2026
- عنوانات: عقائد و نظریات > قرآن کریم
استفتاء
کیا سورۃ اخلاص تین مرتبہ پڑھنے سے پورے قرآن پاک کا ثواب ملتا ہے؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
سورت اخلاص کے بارے میں ایک حدیث میں آتا ہے کہ یہ سورت ثلث قرآن(ایک تہائی قرآن) کے برابر ہے اور ایک تہائی قرآن کے برابر ہونے میں شارحین حدیث کے کئی اقوال ہیں۔ ان میں ایک قول یہ بھی ہے کہ یہ سورت ثواب کے لحاظ سے ایک تہائی قرآن کے برابر ہے۔ اس قول کے پیش نظر یہ بات بھی کہی جاسکتی ہے کہ اس سورت کا تین مرتبہ پڑھنا پورے قرآن کے ثواب کے برابر ہے۔ تاہم یہ بات مذکورہ حدیث کی تشریح میں محض ایک قول کی بنیاد پر ہے اس لیے اسے یقینی سمجھنا درست نہیں صرف اس کی امید کی جاسکتی ہے۔
صحیح بخاری(حدیث نمبر:4726)میں ہے:
عن أبي سعيد الخدري رضي الله عنه:أن رجلا سمع رجلا يقرأ: قل هو الله أحد. يرددها، فلما أصبح جاء إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فذكر ذلك له، وكأن الرجل يتقالها، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: والذي نفسي بيده، إنها لتعدل ثلث القرآن.
فتح الباری شرح صحیح البخاری(9/61)میں ہے:
قوله ثلث القرآن حمله بعض العلماء على ظاهره فقال هي ثلث باعتبار معاني القرآن لأنه أحكام وأخبار وتوحيد وقد اشتملت هي على القسم الثالث فكانت ثلثا بهذا الاعتبار…. ومنهم من حمل المثلية على تحصيل الثواب فقال معنى كونها ثلث القرآن أن ثواب قراءتها يحصل للقارئ مثل ثواب من قرأ ثلث القرآن وقيل مثله بغير تضعيف…. وادعى بعضهم أن قوله تعدل ثلث القرآن يختص بصاحب الواقعة…
احسن الفتاوی (9/11)میں ہے:
سوال:کیا یہ صحیح ہے کہ سورۂ اخلاص تین بار پڑھنے سے کامل قرآن پڑھنے کے برابر ثواب ملتا ہے؟
الجواب باسم ملہم الصواب سورۂ اخلاص کی فضیلت کے با رے میں صحیح بخاری وصحیح مسلم میں مندجہ زیل روایات منقول ہے :
عن أبي سعيد الخدري أن رجلا سمع رجلا يقرأ: قل هو الله أحد يرددها، فلما أصبح جاء إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فذكر ذالك له، وكأن الرجل يتقالها. فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: والذي نفسي بيده، إنها لتعدل ثلث القرآن(صحیح بخاری ص450ج 2)
عن أبي سعيد الخدري رضي الله عنه قال: «قال النبي صلى الله عليه وسلم لأصحابه: أيعجز أحدكم أن يقرأ ثلث القرآن في ليلة، فشق ذلك عليهم وقالوا:أينا يطيق ذلك يا رسول الله؟ فقال: الله الواحد الصمد ثلث القرآن. (صحیح بخاری ص450ج 2)
عن أبي هريرة قال:خرج إلينا رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: أقرأ عليكم ثلث القرآن؟ فقرأ قل هو الله أحد الله الصمد حتى ختمها.(مسلم ص271ج1)
ان احادث میں سورۂ اخلاص کو ثلث القرآن کے برابر قرار دیا گیا ہے جس کی محدثین رحمہ اللہ نے مختلف تو جیہات بیان فرمائی ہیں،چند معروف توجیہات یہ ہیں :
(۱)قرآن میں تین قسم کے مضامین بیان کئے گئے ہیں : اللہ کی صفات احکام اور قصص،سورۂ اخلاص پوری کی پوری صفات باری تعالی پر مشتمل ہے ۔
(۲) اس کا ثواب ثلث القرآن کے برابر ہے ۔
(۳) جس نے اس کے مضامین یعنی توحیداور اذعان بالخالق پر عمل کیا یعنی ایمان رکھا وہ( حصول مقصد میں )اس شخص کی طرح ہے جس نے ثلث القرآن پڑھا ۔
(۴) ثواب ہی مراد ہے لیکن یہ صاحب واقعہ کے ساتھ خاص ہے ۔
جبکہ حافظ ابن عبد البررحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ کی بیان کردہ فضیلت پر یقین رکھناچاہیے اور اپنی رائے سے کوئی توجیہ نہیں بیان کرنی چاہیے کہ سورۂ اخلاص ثلثِ قرآن کے برابر کیسے اور کیوں ہے؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved