• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

تقسیم وراثت کی ایک صورت

استفتاء

میرے والدین کا انتقال ہوچکا ہے، پہلے والد کا انتقال ہوا پھر والدہ کا انتقال ہوا، ان کے انتقال کے وقت ان کے والدین فوت ہوچکے تھے۔ ہم دو بہنیں ہیں اور دو بھائی تھے ، دونوں بھائیوں کا انتقال ہوچکا ہے، بڑے بھائی کا پہلے انتقال ہوا بڑے بھائی کے ورثاء میں بیوہ، دو بیٹےاور ایک بیٹی ہے۔ چھوٹے بھائی کی بیوی تقریباً 29/28 سال پہلے پاکستان چھوڑ کر امریکہ چلی گئی تھی لیکن طلاق نہیں ہوئی تھی ان کی کوئی اولاد نہیں ہے ۔ہمارے والد صاحب نے پرانا مکان خریدا جسے مسمار کرواکر نیا مکان بنوایا جس میں والد صاحب اور دونوں بھائیوں نے مل کر خرچہ کیا ہے ابھی بھی مکان میرے والد صاحب کے نام ہے۔براہ مہربانی  گھر کی تقسیمِ وراثت کے بارے میں فیصد کے حساب سے تحریری فتویٰ چاہیے تاکہ شرعی طور پر جس کا جو حصہ بنتا ہے اس کی ادائیگی ہوسکے۔

وضاحت مطلوب ہے:1۔  نئے مکان کی تعمیر کے لیے والد نے کتنے پیسے دیے اور بیٹوں نے کتنے دیے؟2۔ پیسہ لگاتے وقت کوئی بات طے ہوئی تھی کہ یہ بیٹوں کی طرف سے قرض ہے یا  تعاون ہے؟3۔ اگر کوئی بات طے نہیں ہوئی تھی تو بیٹوں کی نیت کیا تھی؟

جواب وضاحت: 1۔بیٹوں نے والد صاحب کے ساتھ مل کر پیسے لگائے تھے۔ 2۔ پیسے لگاتے وقت کوئی بات طے نہیں ہوئی تھی۔ یہ تعاون تھا۔3۔نیت یہ تھی کہ سب نے مل کر رہنا ہے ، والد صاحب کے انتقال کے بعد شرعی حیثیت سے بہن بھائیوں میں تقسیم ہوگا۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں    نئے مکان کی تعمیر میں جو پیسے آپ کے بھائیوں نے لگائے تھے اگر وہ واقعتاًان کی طرف سے  تعاون تھا تو  مذکورہ مکان آپ کے والد کا ترکہ ہے۔ لہٰذا آپ کے والد مرحوم کی جائیداد کے کل 720 حصے کیے جائیں گے جن میں سے 200 حصے (27.77 فیصد) مرحوم کی ہر ایک بیٹی کو، 30 حصے (4.16 فیصد) مرحوم کے بڑے بیٹے کی بیوہ کو، 94 حصے (13.05 فیصد) مرحوم کے ہر ایک پوتے کو ،42 حصے (5.83 فیصد) مرحوم کی پوتی کو اور 60 حصے (8.33 فیصد) مرحوم کے چھوٹے بیٹے کی بیوہ کو ملیں گے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved