- فتوی نمبر: 36-236
- تاریخ: 23 ستمبر 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > وراثت کا بیان > وراثت کے احکام
استفتاء
میرے دادا کا انتقال ہوگیا ہے۔ ان کے انتقال کے وقت ان کے والدین حیات نہیں تھے۔ صرف دادا کی اہلیہ حیات تھیں جوکہ بعد میں وفات پاگئی اور دادی کی وفات کے وقت دادی کے والدین فوت ہوچکے تھے ۔دادا نے ایک پلاٹ چھوڑا جس کی مالیت 1کروڑ 2لاکھ تک کی ہے اس کے علاوہ ان کے ترکے میں ایک مکان اور ہے جس کو نیلامی میں میرے والد (زید ولد بکر ) نے 1 کروڑ 15 لاکھ روپے میں خریدا ہے اس کی قیمت پہلے 1 کروڑ 10 لاکھ تک تھی بولی میں 5 لاکھ اضافی دے کر 1 کروڑ 15 لاکھ میں میرے والد( زید ) نے خریدا ہے جس میں تمام فریقین اور تمام حصہ داران باضابطہ طور پر متفق تھے اب یہ ٹوٹل مالیت 2 کروڑ 17 لاکھ بنتی ہے ہماری رہنمائی فرمائیں کہ یہ رقم میرے دادا کے چھ بیٹوں اور دو بیٹیوں میں کیسے تقسیم ہوگی؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں کل مال (2 کروڑ 17 لاکھ) کے 14 حصے کیے جائیں گے جن میں سے چھ بیٹوں میں سے ہر ایک بیٹے کو دو حصے (14.285 فیصد فی کس) یعنی 31,00,000(اکتیس لاکھ روپے فی کس) اور دو بیٹیوں میں سے ہر بیٹی کو ایک حصہ (7.142 فیصد فی بیٹی)یعنی 15,50,000(پندرہ لاکھ پچاس ہزار روپے فی کس) ملیں گے۔
صورت تقسیم درج ذیل ہے:
14
| 6بیٹے | 2بیٹیاں |
| عصبہ | |
| 2+2+2+2+2+2 | 1+1 |
نوٹ: مرحوم کی بیوی کا حصہ بھی چونکہ اولاد کو ہی ملنا تھا اس لیے اس کو تقسیم میں شامل نہیں کیا گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved